رمضان کی آمد مرحبا

رمضان کا لفظ ادا کرتے ہی نہ جانے کیوں میرا دل خوشی و مسرت سے بھر جاتا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے اللہ کی رحمت نے مجھے آپ کو اور اس دنیا و کائنات کی ہر ہر چیز کو ڈھانپ لیا ہے۔

سال کےبارہ ماہ میں شامل یہ ایک ماہ کسی مہمان سے کم نہیں ۔اور بے شک یہ ہمارے لئے ایک انتہائ خاص اور معتبر مہمان بن کر ہی آتا ہے۔

مہمان کی آمد پر عموما ہم اپنے گھر کی خوب اچھے سے صفائیاں کرتے ہیں اور ہر ہر چیز کو خوب چمکاتے ہیں۔بالکل اسی طرح اس ماہ مبارک کی آمد پر ہمیں نہ صرف ظاہری طور پر اپنی اور اپنے گھر کی صفائی کرنا چاہیے بلکہ اپنی باطنی صفائ کا بھی خاص خیال رکھناچاہئے ۔اپنے دل کو بغض , کینے , جلن اور حسد سے پاک رکھیں۔اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیں اور اگر کسی کو معاف کرنا ہے تو کر دیں۔

یہ وہ ماہ مقدس کے کہ جس میں اللہ نے قرآن مجید کو نازل فرمایا ۔اللہ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ , صبر کا مہینہ , فراخی رزق کا مہینہ , ایک دوسرے سے خیر خواہی کا مہینہ , جنت میں داخل ہونے اور جہنم کی آگ سے نجات حاصل کرنے کا مہینہ ۔

رمضان المبارک خاص کر اللہ کے ذکر کا مہینہ ہے, دعائیں مانگنے کا مہینہ ہے اور اس میں پورا ماہ دن و رات ہر ہر لمحہ دعائیں قبولیت کا درجہ پاتی ہیں۔

یہ ماہ مقدس نہ صرف مومنوں کے لئے بہار کا موسم ہے بلکہ اس مبارک مہینے میں نیکیوں کے رنگ برنگے , چھوٹے بڑے پھول کھلتے ہیں۔یہ ہمارے لیے نیکیوں کی سیل کا موسم ہے کہ جس سے نہ صرف ہم خود بھر پور فائدہ اٹھائیں بلکہ دوسروں کو بھی اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیں۔

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ص نے فرمایا !اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے اور وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔

اس حدیث قدسی کو سن کر ایسا لگتا ہے کہ آپ نے بڑی محنت سے اپنے کسی عزیز کے لئے کوئ کام کیا ہو اور آپ اس کے پاس پہنچیں تو وہ بہت ہی قیمتی تحائف سے بھرا ٹوکرا آپ کے لئے , لیے کھڑا ہو۔

تو جناب یہی تو وہ ٹوکرا ہو گا جو قیامت کے دن بے حساب نیکیوں سے سجا و بھرا ہمارے نامہ اعمال میں رکھ دیا جائے گا ۔

اس نیکیوں بھرے ٹوکرے کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنے آپ کو خوب چاق و چوبند کر لینا چاہیئے ۔

اللہ کے فضل سے ہم ایک مرتبہ پھر اس ماہ مقدس میں داخل ہونے لگے ہیں, ہمیں ایک بار پھر مہلت مل رہی ہے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی , تقوی کی کیفیت محسوس کرنے کی , اللہ کو راضی کرنے کی اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ۔

اللہ کرے کہ ہمارا یہ رمضان گذشتہ دیگر رمضانوں سے بہتر ہو۔نہ صرف اس ایک مہینے میں بلکہ سارا سال ہم ایسے اچھے اچھے کام کریں کہ جس سے ہمارا رب ہم سے راضی ہو جائے اور ہمیں جہنم کی دھکتی آگ سے بچاتے ہوئے جنت میں داخل کر دے۔

یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس موسم مطلب ماہ رمضان سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ زندگی کے دن ویسے بھی گنے چنے ہیں اور خاص طور پر ایک سال کے بعد رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو اور شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی تیزی سے اس سفر کو طے کر رہے ہیں کہ جس کا آغاز ہماری پیدائش کے وقت سے ہوا تھا ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان کی جسمانی طاقت و توانائی اور ہمت کم ہوتی جاتی ہے, اور یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ کب تک ہم کو یہ موقع میسر ہے۔لہذا جیسے زندگی کا ہر دن ہمیں آخری دن سمجھ کر گزارنا چاہئے اسی طرح اس رمضان کو بھی آخری رمضان سمجھ کر گزاریں۔اگر اگلے سال اللہ تعالٰی ہمیں پھر موقع دے دے تو یہ سراسر اس کی رحمت و عنایت ہو گی ہمارا حق نہیں ۔

اس موقع کو غنیمت سمجھیں اور ایک ایک دن کو بھرپور طریقے سے استعمال کریں کہ کوئی بھی لمحہ ضائع نہ ہونے پائے۔

رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر کئ گناہ بڑھا دیا جاتا ہے , اس لئے اللہ پاک کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں۔اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ جو لوگ ہمارے رشتے دار ہیں صرف ان کو نہیں بلکہ ان لوگوں کی طرف بھی توجہ دینی ہے جو خود آکر مانگ نہیں سکتے لیکن بھوک اور پیاس ان کو بھی لگتی ہے جیسے ہم کو ۔ہمیں ان کی ضروریات بھی پوری کرنے کی کوشش کرنی ہے۔کیوں کہ روزہ رکھ کر ہمیں یہی تو احساس دلایا جاتا ہے کہ سارا سال پیٹ بھر کر کھانے سے ہم اس احساس سے عاری رہتے ہیں۔

روزہ ہمیں صبر و شکر دونوں سکھاتا ہے۔سارا دن بھوک پیاس برداشت کر کے سارے کام ہم صبر کر کے کرتے ہیں اور افطار کے وقت قسم قسم کے کھانے ہمیں اللہ کی اور اس کی نعمتوں کی شکر گزاری سکھاتے ہیں۔

مہ وش خان جرمنی

اپنا تبصرہ بھیجیں