149

اردونامہ کا سفر

جب انسان لکھنا شروع کرتا ہے تو اس میں زیادہ علم حاصل کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے، وہ کتابیں پڑھتا ہے گوگل سرچ کرتا ہے، مختلف ممالک کا سفر کرتا ہے، مختلف ثقافت کے حامل لوگوں سے ملتا ہے۔ علم کی جستجو اسے زیادہ سوشل بنا دیتی ہے اسکا حلقۂ احباب بڑھ جاتا ہے، زیادہ لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے تو انسان کی مصروفیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

لگ بھگ ایک ڈیڑھ سال پہلے اچانک خیال آیا کہ یورپ میں رہتے ہوئے کئی سال بیت گئےہیں اور دن بدن اردو زبان سے دوری ہو رہی ہے، کیوں نہ ایک اردو کی ویب سائیٹ بنائی جائے اور اس میں دینی اور دنیاوی شعور کیلئے ایسا مواد ڈالا جائے جس سے اپنی اور لوگوں کی زندگیوں میں شعور آئے۔

اس مقصد کیلئے اردونامہ کے نام سے ویب سائیٹ بنانا شروع کردی۔ ویب ڈویلپر چونکہ خود تھا، اسلئے اردونامہ سائیٹ بنانے میں کوئی خاص مسئلہ پیش نہ آیا۔ اس ویب سائیٹ میں مفت ڈاؤن لوڈ کیلئے قرآن وحدیث کی کتابیں، آڈیو ویڈیو میٹریل، لائیو ٹی وی چینلز، اردو کالمز، اردو کہانیاں اور اردو کے فروغ کیلئے اور بہت سی چیزیں قارئین کی سہولت کیلئے مفت موجود ہیں۔

ویب سائیٹ بنا کر جب لکھنا شروع کیا تو چودہ طبق روشن ہوگئے، چھوٹے چھوٹے لفظ لکھنے کیلئے بھی گوگل ٹرانسلیٹر کا سہارا لیا جاتا۔ پہلے الفاظ انگلش میں لکھ کر انکا اردو ترجمہ کیا جاتا۔ اردو کی بورڈ پر ٹائپ کرنا اور پھر نون گُنٌا اور واؤ کے اوپر حمزہ ڈھونڈنا نہایت مشکل کام تھا، لیکن طلب سچی ہو اور جذبے جوان ہوں تو انسان کچھ بھی کر سکتا ہے۔ آخرکار لکھنا آ ہی گیا، اب کوئی بھی لفظ لکھنا مشکل نہیں لگتا۔

اردونامہ کا وہ سفر جو سال بھر پہلے میں نے اکیلے شروع کیا تھا اب اس سفر میں درجنوں لکھنے والے اور شامل ہو گئے ہیں اور اسکے پوری دنیا میں موجود قارئین کی تعداد دو لاکھ سے اوپر تجاوز کر گئی ہے۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر 
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا 

اردونامہ کی پالیسی اسلام اور پاکستان کے مفاد والی پالیسی ہے، لہذا آپ اپنی کوئی بھی تحریر جو پاکستان اور اسلام سے متصادم نہ ہو، اردونامہ کیلیئے بھیج سکتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ پہلی دفعہ اپنی تصویر بھیجنا نہ بھولئیے گا کیونکہ پہلی دفعہ فوٹو شاپ سے آپکا اردونامہ کیلئے فوٹو بینر بنے گا، جو بعد میں بار بار استعمال ہوگا۔ تحریر اس ای میل پر بھیجیں اور معاشرے میں اپنے حصے کا شعور پھیلانے میں اردونامہ کی مدد کیجئیے۔

tariqswd@gmail.com 


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں