102

سٹوڈنٹس یورپ میں

ہمارے نوجوان لاکھوں روپے خرچ کرکے یورپ آتے ہیں، اور وہاں اُن پر کیا گزرتی ہے، یہ وہی جانتے ہیں۔ یورپ پڑھائی کیلئے جانے اور وہاں پرمانینٹ سیٹلمنٹ کے خواہشمند پاکستان میں زیادہ تر لوگ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو لوگ پاکستان میں امیر  ہیں، وہ وی آئی پی طریقے سے صرف پڑھنے جاتے ہیں اور پڑھائی ختم کر کے واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ مگر مڈل کلاس لوگ نجانے کیسے پیسوں کا بندوبست کرتے ہیں۔  پہلے آتے ہیں کالجز کی فیس رہنے کی جگہ پھر ملازمت ڈھونڈنے کے چکر کچھ عرصے کے لیئے تو شاہد خود کو بھی بھول جاتے ہیں۔ پیچھے سے گھر والوں کے نخرے آ سمان کو چھوتے ہیں ۔ وہ تو محلے والوں سے بات کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ پاؤنڈ اور یورپ کی بارش ہونے والی ہے۔

جو یورپ آتا ہے، وہ بندہ ہی جانتا ہے کہ اس پر کیا گزرتی ہے۔ ویزہ بڑھانے کی فیس کھانا پینا رہنا اور کہاں سے کہاں سفر کرکے جانا ہوتا ہے۔اچھے بھلے پڑھے لکھے ان پڑھوں کے ہو ٹلوں پر برتن دھوتے ہیں۔ کالج میں ہر سال فیس نہ دیں تو ویزہ ختم ہو جانے کا ڈر ہوتا ہے۔اور جو پاکستان میں بہن بھائی ہوتے انکے تو فون بھی تب آتے جب کبھی نئے ماڈل کا فون مارکیٹ میں آتا ہے ۔خود بچارے کئی سال ایک جیکٹ میں گزار دیتے ہیں۔ قربانی کا بکرا بن جاتے ہیں۔ 
یہاں ایک بندے نے فاسٹ فوڈ شاپ کھولی ہے۔ بند پڑی تھی سستے داموں لی ہوگی۔اسکی سفیدی صفائی ستھرائی کا سب کام غیر قانونی جو اپنے پاکستانی ہیں ان سے کروایا انکی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک سٹوڈنٹ بھی چاہتا تھا کالج کے قریب ہے نوکری مل جائے تو اچھا ہے اور نہیں تو حلال کھانا تو ملے گا۔کیونکہ ویسے تو خود بنانا پڑتا ہے۔ اتفاق سے دونوں لڑکے ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے تھے۔شاپ کو دھو دھو کر ایک کو تو شدید سردی لگ گئ اور بخار ہو گیا۔
بچوں نے آکر بتایا ہم نے پینا ڈول اور چائے وغیرہ دے بھیجی۔ اپنی عادت ہے پردیس میں لوگوں کی مدد کرنا اکثر ماڈرن لوگ تو ہمیں بےوقوف سمجھتے ہیں۔خیر یہاں میڈیکل بھی ان بندوں کے لئے فری نہیں ہے جنکے مکمل پیپرز نہ ہوں۔ تین دن بچارا تڑپتا رہا اور کوئی اپنا اسکے پاس نہیں تھا۔لیکن جو بہن بھائی پاکستان میں ہوتے ہیں ۔ان سے کوئی پوُچھے کہ آپ کیا کرتے ہو آپکی کوالیفکیشن کیا ہے تو سیاست دانوں کے بچوں کی طرح اسُ بھائی کا حوالہ دیتے ہیں جو باہر ہوتا ہے۔ وہ جی بڑے بھائی یورپ ،امریکہ یا کینیڈا ہوتے ہیں۔ 
اس میں ماں باپ کی غلطی ہے ایک کو قربان کرکے دوسروں کو محنت کے بغیر پیسا خرچ کرنے کی عادت ڈالتے ہیں جب باہر والا بھائی پیسا روک دے تو پاکستان والوں کے پاس نہ وقت رہتا ہے نہ عمر۔ ہم خود بچوں کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ پھر الزام قسمت کو یا پیسا نہ دینے والے بھائی کو دیتے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں