Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




کتا کاٹنے پر ایک ملین


سویڈن میں سویڈش زبان بولی جاتی ہے اور جنہیں سویڈش بولنا نہیں آتی انہیں نوکری بہت مشکل سے ملتی ہے۔ چپڑاسی، لفٹ مین، گن مین، گھریلو نوکر، پٹرول ڈالنے والا، دودھ والا، پی سی او والا، گاڑی دھونے والا، قلی، فوٹو کاپی والا، ذاتی گاڑی کیلئے ڈرائیور، بس کا کنڈکٹر، غرض ایسی بہت سی دوسری نوکریاں جو غریب ممالک میں عام پائی جاتی ہیں سویڈن میں انکا کوئی وجود نہیں ہے۔

ڈاکٹر اپنے مریض کو بلانے خود باہر آتا ہے، اپنی چائے خود بناتا ہے، برتن خود دھوتا ہے اپنے گھر میں صفائی خود کرتا ہے، اپنی گاڑی میں پٹرول خود ڈالتا ہے، گاڑی خود دھوتا ہے۔ جج، وکیل، بیوروکریٹ، ایم این اے، منسٹر ، غرض کوئی کتنا بھی بڑا افسر ہے اپنے کام خود کرتا ہے۔

جس کی تنخواہ زیادہ ہوتی ہے وہ اتنا ہی زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اسلئے ایک ڈاکٹر اور دفاتر میں صفائی کرنے والے کی تنخواہوں میں ٹیکس کے بعد زیادہ فرق نہیں ہوتا اور دونوں اچھی گاڑی رکھ سکتے ہیں اچھے گھر میں رہ سکتے ہیں۔

ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ ایک طالب علم کو بہت کوشش کے باوجود نوکری نہیں ملی تو وہ بے حد مایوس ہوگیا۔ اسی دوران اسے پتا چلا کہ اگر کسی کا کتا کاٹ لے تو عدالت میں کیس کرنے سے ایک ملین کرونا (سویڈش کرنسی) ملتے ہیں۔

طالبعلم صاحب کسی گھر کے باہر پتھر لیکر کھڑے ہوگئے اور گارڈن میں ٹہلتے کتے کو پتھر مارنے شروع کر دئیے۔ کتے کو تو پتہ نہیں پتھر لگے کہ نہ لگے مگر ایک پتھر کھڑکی کے شیشے کو لگ گیا جس سے شیشہ چکنا چور ہوگیا۔

گھر والوں نے فوراً پولیس کو فون کیا اور چشم وزدن میں پولیس آن حاضر ہوئی، پتھر مارنے والے صاحب کو پکڑ لیا گیا، تھانے میں پوچھ کچھ کے دوران محترم نے چوری کے جرم سے انکار کیا مگر یہ بات مان گیا کہ وہ پتھر کتے کو غصہ دلانے کیلئے مار رہا تھا تاکہ وہ اسے کاٹے اور وہ بدلے میں ایک ملین ہرجانے کا دعویٰ کر سکے۔ 😀😜😀

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.