76

پاکستانی مذہبی اقلیتوں سے نفرت کیوں؟

محترم میاں صاحب نے قائداعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈپارٹمنٹ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر رکھوایا تو دیر آئد درست آئد کے مصداق حکومت کی طرف سے ایک مستحسن اقدام تھا کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی فزکس میں خدمات کو دنیا مانتی ہے اور مذہب سے بالا نظر وہ ایک قابل پاکستانی شہری تھے، جنہوں نے دنیا میں پاکستان کا نام اونچا کیا تھا اور پاکستان کا آئین مسلم اور غیر مسلم کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ میاں صاحب کے داماد نے کمال پھرتی کے ساتھ میاں صاحب کی گرتی شہرت کو سہارا دینے کی خاطر قادیانی کارڈ کھیلتے ہوئے اسی سنٹر کا نام ایک غیر مقبول اور غیرملکی ابوالفتح عبد الرحمٰن الخازنی کے نام پر تبدیل کروا دیا ہے۔ 

اگر ایک مشہور یونیورسٹی کے کسی ایک ڈپارٹمنٹ کا نام کسی غیرمسلم کے نام پر نہیں ہوسکتا تو پاکستان میں موجود ہندؤوں اور سکھوں کے ناموں والے شہروں اور گاؤں کے نام بھی تبدیل کر دینے چاہئیں اور اس سلسلے میں پہل کرتے ہوئے گنگا رام ہسپتال کا نام تبدیل کر کے احمد ابن سہل البلخی رکھ دینا چاہئیے۔

اوکاڑا کے نزدیک ایک چھوٹے شہر کا نام وان رادھا رام ہے، جو سر گنگا رام کے والد کے نام پر رکھا گیا ہے، اسے حکومت حبیب آباد کہتی ہے مگر لوگوں کی زبان پر ابھی بھی وان رادھا رام ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوٹ آسا سنگھ، کوٹ شیر سنگھ، کوٹ بوٹا سنگھ، گجن سنگھ، بوڑ سنگھ، ویر سنگھ، غرض پنجاب میں ایسے بےشمار قصبے اور گاؤں ہیں جو ہندؤوں اور سکھوں کے نام پر رکھے گئے ہیں، انکے نام بھی تبدیل کر دینے چاہئیں۔

ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں ایک مرکزی سڑک کا نام اورنگزیب روڈ ہے، اسکے علاوہ بڑے انڈین شہروں کے نام الہ آباد، احمد آباد اور حیدر آباد ہیں جبکہ پاکستانی بارڈر کے پاس دو انڈین شہروں کے نام فیروزپور اور فریڈ کوٹ بھی ہیں۔ اگر انڈین حکومت ان مسلم ناموں کو تبدیل کرتی ہے تو پھر آپکو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہونا چاہئیے۔

قادیانی پاکستانی آئین میں غیر مسلم ہیں مگر وہی آئین غیر مسلموں کو ہر طرح کے حقوق بھی دیتا ہے۔ پاکستانی جھنڈے میں موجود سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے، لیکن حیرت ہے ہندو اکثریت والے انڈیا میں صدر مسلمان اور وزیراعظم سکھ ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں ایک یونیورسٹی کے ایک ڈپارٹمنٹ کا نام غیر مسلم پر کیوں نہیں ہوسکتا، جبکہ وہ غیرمسلم پاکستان سے محبت بھی کرتا ہو اور جس نے دنیا میں پاکستان کا نام بھی اونچا کیا ہو؟

ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئیے کہ ہم کب تک مذہبی چورن بیچنے والوں کے تسلط میں رہیں گے اور غیر مسلموں سے نفرت کرتے رہیں گے جبکہ جس نبی صلی اللہ وسلم کے ہم نام لیوا ہیں وہ تو غیرمسلموں کو مسجد نبوی میں مہمان بنا کر رکھتے تھے اور انہیں اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھا کر کھانا کھلاتے تھے۔ ??

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Apple Color Emoji UI’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں