97

یوم تکبیر (ن) ، فرماں روائے کشورِ پنجاب کو سلام

پہلے یاروں نے قائد اعظم کی مسلم لیگ کو مسلم لیگ( ن ) بنا یا اور اب یوم تکبیر کو یوم تکبیر (ن) کا رنگ دے دیا ۔ ہر چیز کومال غنیمت سمجھ کر’ نون غنائز‘ کرنے کے کا یہ عمل جاری رہا تو خدا جانے انجام کیا ہو۔ غالب نے کہا تھا:

’’ بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو ،غالب !تو پھر
کیوں نہ دلی میں ، ہر اک ناچیز نوابی کرے‘‘

اسلام آباد میں بینرز اچانک آویزاں ہوئے ، قطار اندر قطار، مارگلہ کی برسات اتنے مینڈک نہ اگلے جتنے اسلام آباد میٹرو پولیٹن نے بینرز اگل دیے ۔ قوم کو 28 مئی کی مبارک دی جا رہی ہے اور بینرز کے ایک کونے میں عالی جاہ نواز شریف تشریف فرما ہیں ، دوسری جانب ظل الہی شہباز شریف براجمان ہیں ، ساتھ ہی میئر اسلام آباد جلوہ افروز ہیں ۔ان عالی قدر ہستیوں کے ساتھ دربار کے دیگر صاحبان خلعت میں اپنے جلوے بکھیر رہے ہیں ۔حیرت اور دکھ سے میں نے سوچا : محسن پاکستان کہاں ہیں؟ ذوالفقار علی بھٹو کیا ہوئے؟ ضیاء الحق کدھر گئے؟ غلام اسحاق خان کیسے فراموش کر دیے گئے؟

پھر خیال آیا ذرا صبر کر لیا جائے کیا عجب سرِ شام کوئی عالی قدر صاحب منصب ہماری رہنمائی فرما دے کہ :’’ یہ ایٹم بم ،جو ہے یہ، اتفاق فاؤنڈری میں ، جو ہے ،تیار کیا گیا ۔اور اس کا فارمولا ، جو ہے، وہ میئر اسلام آباد نے ،جو ہے ، بنایا تھا۔ آپ بے شک دانیال عزیز اور طلال چودھری سے ،جو ہے ، تصدیق کر لیں‘‘۔

کچھ چیزوں کا تعلق سیاست کی گرمی بازار سے نہیں ہوتا۔یہ چیزیں قوم کی اجتماعی جدوجہد اور کامرانی کا استعارہ ہوتی ہیں ۔ پاکستان کی ایٹمی قوت انہی میں سے ایک ہے ۔ بالغ نظر قیادت ایسے دنوں کو قومی وحدت اور تفاخر کی علامت بنا دیا کرتی ہے اور اوسط اورا س سے کم تر لوگوں کے ہاتھ معاملہ آ جائے تو سیاسی عصبیت کی نذر ہو جاتا ہے۔

کیا یہ ممکن ہے ایٹمی صلاحیت کا ذکر ہو اور ذوالفقار علی بھٹو کا نام نہ آئے ۔ کبھی ڈاکٹر اے کیو خان سے بھٹو کا ذکر کیجیے ، ان کی آنکھیں میں بھٹو چمکے گا ۔ کبھی آپ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم بھٹو کا وہ خطاب سنیں جب انہوں نے ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ کیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں ۔ کس بانکپن سے بھٹو نے کہا تھا کہ مغربی دنیا یہ بم بنا سکتی ہے تو میرا ملک کیوں نہیں بنا سکتا ۔ وطن پرست کی محبت ، برہمی اور عزم سبھی تو بھٹو کے الفاظ میں مجسم ہو گئے تھے ۔ اہل اقتدار کو مطالعے کی عادت نہیں تو کسی سے پوچھ ہی لیا ہوتا کیابھٹو کے بغیر ایٹمی صلاحیت کا تذکرہ ممکن بھی ہے؟

اور جنرل ضیاء الحق؟ ان کی آمریت کا آزار اپنی جگہ لیکن ایٹمی قوت کا تذکرہ ان کے بغیر بھی ادھورا ہے ۔ ان کو گالی دینا آج فیشن بن چکا ہے اور سوویت یونین کے خلاف جہاد یاروں کی چاندماری کا ایک مستقل موضوع ٹھہرا ہے لیکن جناب اس دورانیے میں خاموشی سے ایٹمی پروگرام انہوں نے وہاں پہنچا دیا کہ عام حالات میں شاید ممکن نہ ہوتا۔بستی لال کمال میں جہاز یونہی گر کر تباہ نہیں ہوتے ۔ وطن پرستی کا خراج بھی ہوتا ہے جو جاں سے گزر کر پیش کیا جاتا ہے ۔ کوئی سمجھتا ہے ایٹمی قوت کاتذکرہ ضیاء الحق کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے تو اسے پہلی فرصت میں کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

غلام اسحاق خان کہاں گئے؟ ضیاء الحق کے بعد جو اس پروگرام کے محافظ بن گئے ۔ امریکی سفیر نے جھنجھلا کر کہا : جناب صدر آپ کے صحن میں ایک چیز ہے ، وہ بطخ کی طرح دکھائی دیتی ہے، بطخ کی طرح تیرتی ہے اور بطخ کی طرح بولتی ہے اور آپ کہتے ہیں وہ بطخ نہیں ہے۔ غلام اسحاق خان نے کہا : جی بالکل میرے گھر کے صحن میں ایک چیز ہے ، وہ بطخ کی طرح دکھائی دیتی ہے، بطخ کی طرح تیرتی ہے اور بطخ کی طرح بولتی ہے لیکن جب میں کہہ رہا ہوں وہ بطخ نہیں ہے تو وہ بطخ نہیں ہے ۔بات ختم۔تو کیا غلام اسحاق خان کو اس لیے فراموش کر دیا جائے کہ نواز شریف حکومت سے ان کے تعلقات مثالی نہ تھے ؟

محسن پاکستان کیوں فراموش کر دیے گئے؟ کیا اس لیے کہ وہ نواز شریف صاحب پر تنقید کا جرم کرتے رہتے ہیں ؟ابھی کل تک تو نون لیگ محسن پاکستان کے گن گایا کرتی تھی اور یہاں تک کہا گیا ہم اقتدار میں آئیں گے تو انہیں صدر پاکستان بنائیں گے ۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ اب محسن پاکستان کا نام لینا بھی گوارا نہیں؟ یہ بات درست ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا حصول کسی ایک شخص کا کام نہیں لیکن کیا آپ ڈاکٹر اے کیو خان کی خدمات کی نفی کر سکتے ہیں؟ ایٹمی دھماکوں میں نواز شریف صاحب کا اتنا ہی کردار تھا کہ وہ اتفاق سے اس وقت وزیر اعظم تھے ۔لیکن نون لیگ اس کا کریڈٹ یوں لیتی ہے جیسے یہ صلاحیت میاں برادراں کی بصیرت کا اعجاز ہے۔ کچھ یاد نہیں آ رہا کیا چیز تھی جو خواجہ آصف صاحب نے کہا تھا کہ ہوتی ہے؟

عزت اور ذلت کے فیصلے حکمرانوں کے پاس نہیں اللہ کے پاس ہیں ۔ مبالغہ آمیزی سے مجھے کوئی شغف نہیں لیکن اس میں کیا کلام ہے کہ محسن پاکستان معلوم انسانی تاریخ کا ایک زندہ معجزہ ہیں ۔ ایک آدمی ٹی وی پر آ کر کہتا ہے ، میں مجرم ہوں ، لوگ سنتے ہیں مگر مان کر نہیں دیتے ۔ وہ کہتا ہے میں خطاکار ہوں ، قوم کہتی ہے نہیں تم توہیرو ہو۔ وہ کہتا ہے مجھے معاف کر دو۔ قوم کہتی ہے دیکھا جھوٹ بول رہا ہے، یہ قوم کے لئے ایک بار پھر قربانی دے رہا ہے، ناکردہ گناہ اپنے سر لے رہا ہے مگر باتیں ایسے کر رہا ہے جیسے ہم جانتے نہ ہوں۔ انسانی تاریخ کا یہ سب سے غیر معتبر اعتراف جرم تھا جو محسنِ پاکستان نے کیا ۔یہاں تو لوگوں نے چاپلوسوں کی فوج بھرتی کی ہوتی ہے مگر سماج میں معتبر نہیں ہو پاتے اور ایک آدمی جرم مان لیتا ہے مگر قوم کہتی ہے تم لاکھ اعتراف جرم کرتے رہو کہ دیا نا تم مجرم نہیں ہیرو ہو۔۔۔۔۔وتعز من تشاء وتذل من تشاء۔

ڈاکٹر صاحب ہی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

’’ گزرتو خیر گئی ہے میری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے‘‘

گذشتہ سال اٹھائیس مئی کی شام میں نے ڈاکٹر صاحب سے گذارش کی کہ کوفی تو چند ہی ہوں گے ۔ آپ سے محبت کرنے والے بہت زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت ناساز تھی کچھ سمجھے کچھ نہ سمجھے، جوابا انہوں نے اپنا ایک تازہ شعر سنا دیا:

’’ اس شہرِ لازوال میں اک مجھ کو چھوڑ کر
ہر شخص باکمال ہے ، اور بے مثال ہے‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں