Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




لندن، میں اور میری سیاہ فام ہمسائی


ایک مشہور ایشئین قول ہے کہ شوہر کے دل تک پہنچنے کا راستہ اس کے معدے سے ہو کر گزرتا ہے۔ لیکن اکثر یہ قول غلط ثابت بھی ہوجاتا  ہے، جب کھانے والے ڈکار مار کر سب ہضم کر دیں اور دل بیچارے تک کچھ پہنچنے ہی نہ دیں، کیونکہ گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے۔

اگرغلطی سے پہنچ جائے تو یہی مرغن غذائیں عارضہ دل کا سبب بھی بن جاتی ہیں الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں پھر نہ دل قابو میں رہتا ہےاور نہ ہی معدہ شاید ہم ایشئین لوگ کھانے پینے کے لئے ہی زندہ ہیں اسی لئے اس طرح کے اقوال ارشاد فرماتے رہتے ہیں۔

خیر دل تک پہنچنے کے اور بھی بہت سارے راستے ہیں، جیسے عمران خان کئی سالوں سے لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کی کوئی سنے بھی تو ۔ ۔تبدیلی کی باتیں کہہ کہہ کر تھک گیا مگر پھر بھی  سارے دلال ، دانیال، دجال، طلال، ملال اور وبال اس کی جان کو آئے ہوئے ہیں آجکل۔

خیر چھوڑیں یہ باتیں ایشینز نے نہ بدلنا ہے نہ بدل سکتے ہیں تو ہم کیوں جی کو جلائیں؟

اچھا تو میں کہاں تھی؟ “اوہ ہاں معدے سے دل تک پہنچنے کی کوشش میں تھی۔”

جس میں کامیاب ہو گئی شاید اپنی مسیحی، سیاہ فام ہمسائی کو اپنے ہاتھ کے بنے کھانے بھیج بھیج کر کیونکہ ہم ایشین عادت سے مجبور کچھ بھی اچھا پکائیں تو اس میں ہمسایوں کو ضرور یاد رکھتے ہیں۔

اب یہاں تو ہمسائے آپ کے رنگ ، نسل ، مذہب، ذات پات اور کلچر سے دور ہی ملیں گے اگر آپ ایشین علاقے میں نہیں رہتے۔

میں جہاں رہتی ہوں وہاں سومالین ، نائجیرین اور نیپالی کثرت سے موجود ہیں ایسے میں میرا اس ہمسائی سے رشتہ وہی ہے جو میرے دین نے مجھے سکھایا ہے یا جو مجھے بچپن سے اقدار میں ملا۔ اس کے دل تک میں بھی اپنے بنائے روائیتی کھانوں کے ذریعے ہی پہنچی ہوں کیونکہ کہیں بھی چلے جائیں روایات ساتھ نہیں چھوڑتیں۔

عادت سے مجبور یا روایت و اقدار کے سبب جو بھی پکائیں اپنے ہمسایوں کو ضرور دیتے ہیں۔ وہ لوگ بھی ہمارے بنائے کھانوں پر جان چھڑکتے ہیں۔

ان کے چہرے کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے جب بھی کبھی میں اس کے لئے چنے والا پلاؤ، سویاں ، قورمہ ، کڑاہی یا کوئی بھی چکن ، مٹن کری اسے پیش کروں اور تو اور ہمارے ہاتھ کی روٹی بھی جسے دیکھ کر وہ چپاتی، چپاتی کا نعرہ خوشی سے لگاتی ہے ۔۔ سویوں اور چنے کے پلاؤ کی وہ اکثر فرمائش کرتی ہے کہ جب بناؤ مجھے ضرور دینا سویوں کو وہ سویٹ نوڈلز کہتی ہے۔

رمضان میں بھیجنے کا سلسلہ عام دنوں سے زیادہ ہوتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جب میں اس دن اس کو کلیجی دینے گئی تو وہ اپنے بیٹے کو رمضان اور اسلام کے بارے میں بتا رہی تھی اور سکارف رکھ کر بییٹے کو کہہ رہی تھی میں بھی افطاری کروں گی۔

پھر چند الفاظ اس نے میرے سامنے عربی کے بولے جیسے سبحان اللہ، الحمد اللہ ، ماشاء اللہ

ہمارے رویے کس قدر کاؤنٹ کرتے ہیں ؟

“پل بھر کے لئے میں اس سوچ میں پڑ گئی کہ ہمارے رویوں سے ہی یہ لوگ اسلام کا جائزہ لیتے ہیں۔”

مجھے اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ آج تو وہ بیٹے کو بتا رہی ہے چند باتیں اسلام کے بارے میں اور اگر وہی بچہ خود اس تجسس میں لگ گیا تو اس کی تو کایا پلٹ جائے گی۔

شروع میں وہ مجھے انڈین سمجھتی تھی لیکن اب میرے اس سے رکھے روئیے نے اسے اسلام اور پاکستان سے ملوایا ہے وہ میرا احترام کرتے ہوئے رمضان میں کبھی میرے سامنے نہیں کھاتی اور کبھی کھانے کو نہیں بھیجتی کیونکہ وہ جان چکی ہے کہ ہم کھانے پینے میں حلال و حرام کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ کچھ کاموں میں میری بہت مدد کرتی ہے میری ایک کال پر حاضر ہوتی ہے مدد کے لئے اور بدلے میں میں صرف اسے اپنے ہاتھ کے بنے کھانے بنا کر کھلاتی ہوں اور خود بھی کوشش کرتی ہوں جب بھی میرا رب اسے میرے پاس بھیجے تو میں اس قابل ہوں کہ میں اس کی بھی حاجت روائی کر سکوں.

آپ کو حیرت ھوگی ہمارا تعلق پاکستانی ہمسایوں جیسا ہے بالکل ویسے ہی کوئی دستک دے کر پوچھتا ہے نمک مل جائے گا ، آلو ہے، پیاز ختم ہو گئے ہیں۔

ایک کپ دودھ مل جائے گ؟
فلاں مصالحہ چاہئے؟ 
پلاس اور پیچ کس ہے؟
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.