120

سویڈن سٹوڈنٹ ویزہ کے مسائل

ایک وقت تھا سویڈن میں پڑھائی سب کیلئے مفت تھی اور ہر سال ہزاروں پاکستانی طالبعلم یہاں پڑھنے آتے تھے اور اپنی ڈگریاں مکمل کر کے اکثر پروفیشنل نوکریاں بھی ڈھونڈ لیتے تھے۔ اس وقت بہت زیادہ پاکستانی سویڈن میں اعلی عہدوں پر براجمان ہیں اور بہت زبردست زندگی گزار رہے ہیں۔ اس زمانے میں پوری دنیا کے طالبعلموں کیلئے سویڈن میں پڑھنا بہترین چوائس تھی اور یونیورسٹیوں کا میرٹ بہت زیادہ ہوتا تھا اور ایورج طالبعلم کو یہاں داخلہ نہ ملتا تھا۔

سویڈن رقبے کے لحاظ سے یورپی یونین کا فرانس اور سپین کے بعد تیسرا بڑا ملک ہے لیکن اسکی آبادی صرف ایک کڑور ہے۔ یہاں ایشیائی اور خاص طور پر پاکستانی بہت کم ہیں اور پورے سویڈن میں پاکستانیوں کی تعداد پندرہ بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ کھانے پینے اور دوسری ضروریات زندگی کے حوالے سے سویڈن یورپ کو دوسرا مہنگا ترین ملک ہے۔ یہاں کرایہ کا مکان ڈھونڈنے کیلئے دس سے پندرہ سال ویٹنگ لسٹ میں لگنا پڑتا ہے۔

سویڈن میں کل ملا کر 53 یونیورسٹیاں اور یونیورسٹی کالجز ہیں۔ سویڈن اور یورپی یونین کے شہریوں کیلئے اب بھی تعلیم مفت ہے مگر باقی دنیا کیلئے ایک سمسٹر یعنی چھ مہینے کی ایورج فیس پاکستانی آٹھ لاکھ روپے تک ہے۔ فیس ایڈوانس میں جمع ہو تو اگلا ویزہ ملتا ہے۔ ہر سمسٹر میں تیس کریڈٹس ہوتے ہیں۔ اگلے ویزہ کے حصول کیلئے نہ صرف یہ کریڈٹس پاس کرنے ہوتے ہیں بلکہ اگلے سمسٹر کی فیس بھی جمع کروانی ہوتی ہے۔ جو یونیورسٹی سے غیر حاضر ہو، کریڈٹس پاس نہ کرے، یا فیس جمع نہ کروائے اسکے بارے میں تمام انفارمیشن یونیورسٹی ویزہ امیگریشن والے محکمے کو بھیج دیتی ہے تاکہ اگلا ویزہ بند کروایا جاسکے۔

ایک سال کا ویزہ لینے کیلئے تقریباً 85,000 سویڈش کراؤن اپنے اکاؤنٹ میں شو کروانے ہوتے ہیں جو یہ گارنٹی ہوتی ہے کہ وہ اگلے سال کے اپنے تمام اخراجات خود اٹھا لے گا۔ اگر اسکے ساتھ فیملی ہو تو ہر فیملی ممبر کے الگ پیسے شو کروانے ہوتے ہیں۔ سویڈن سٹوڈنٹس کو پرمانینٹ ویزہ نہیں دیتا چاہے وہ یہاں سو سال بھی قیام کر لے۔ جو بندہ سویڈن سے پی ایچ ڈی کر لے اور اگر وہ سویڈن میں رہنا چاہے تو اسے پرمانینٹ ویزہ آسانی سے مل جاتا ہے۔

سویڈش زبان سے نا آشنا لوگوں کیلئے یہاں نوکری ڈھونڈنا ناممکنات میں سے ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ آپ پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنا خرچہ نکال لیں گے تو آپ ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اگر آپ سویڈن سٹوڈنٹ بن کر آ رہے ہیں تو کوشش کریں کہ آپکی یونیورسٹی سٹاک ہوم میں ہو اور آپ کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہو۔ آپ یہاں اپنی گاڑی خرید کر اخبار اور خط بانٹنے والی دو تین گھنٹے والی نوکری ڈھونڈ سکتے ہیں، اس سے آپکا بمشکل گزارا ہو جائے گا۔

پاکستان میں بیٹھے ایجنٹس آپ کو سبز باغ دکھا رہے ہیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ سویڈن میں پارٹ ٹائم جاب کر کے اپنا خرچ نکال لیں گے، یہ سب جھوٹ ہے۔ خدارا ایجینٹس کی باتوں میں نہ آئیں۔ سویڈن میں نہ تو کسی قسم کی کرپشن ہے اور نہ ہی رشوت اور سفارش ہے، نہ یہاں کسی کو جان پہچان پر داخلہ ملتا ہے، لہذا جو ایجینٹ کہتا ہے وہ آپکا داخلہ کروا دے گا وہ جھوٹ بولتا ہے، اگر آپ اصلی طالبعلم ہیں تو فیس جمع کروانے پر داخلہ آپ کا ویسے ہی ہو جائے گا، چاہے ایجنٹ سے اپلائی کروائیں یا خود کریں۔

اگر آپ سویڈن میں صرف پڑھائی کرنے آنا چاہتے ہیں اور آپ کے پاس بہت دولت ہے جس سے آپ فیسیں اور دوسرے اخراجات پورے کر سکتے ہیں اور آپ کو یہاں کوئی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں ہے تب ست بسم اللہ ضرور آئیں، لیکن اگر آپ کہیں سے پیسے ادھار لیکر صرف مستقبل بنانے سویڈن آ رہے ہیں تو معاف کیجئیے گا سویڈن میں نہ تو آسانی سے آپ کو نوکری ملے گی نہ کرایہ کا گھر اور آپ یہاں آ کر پچھتائیں گے۔ ایسی صورت میں سویڈن کی بجائے آپ کی فرسٹ چوائس جرمنی ہونی چاہئیے جہاں ابھی تک تعلیم مفت ہے اور نوکریاں بھی آسانی سے مل جاتی ہیں۔ جرمنی میں سٹوڈنٹ مسائل کے لئے اگلی پوسٹ کا انتظار کریں۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں