118

میں ، یوگی Yogii اور ہمارے مذہبی عقائد

میں پچھلے پانچ سال سے لندن میں ہوں۔اس سے پہلے میں ویسٹ یارک شائر کے اُس علاقے میں رہتی تھی۔ جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔۔۔لندن میں ہر مذہب اورکلچر کے لوگ آباد ہیں۔۔۔

میرے ملنے ملانے والوں میں چند عیسائی خواتین جو میری ہمسائی ہیں اور چند ہندو خواتین بھی شامل ہیں۔ اکثر غیر مسلم، مسلم پر کم ہی بھروسہ کرتے ہیں لیکن جب کرتے ہیں تو اندھا بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ آپ کا دیا اعتبار ہی اُنہیں آپ کے اور آپ کے مذہب کے قریب لاتا ہے۔ میں بہت گنہگار انسان ہوں اور حُلیئے سے بھی با پردہ مسلمان خاتون نہیں ہوں لیکن بچپن کی تربیت ،اقدار اور اسلامی روایات کی پاسداری ضرور کرتی ہوں۔

یوگی میری “ہندو دوست” ہے۔ جس سے میرا تعلق پچھلے چار سال سے ہے۔ یوگی برہمن خاندان سے ہے اور گجرات کی رہنے والی ہے۔۔۔۔ جہاں کے اکثر کَٹر ہندوؤں کی شدت پسندی سے ہم سبھی واقف ہیں۔۔ جب پہلی بار میری ملاقات یوگی سے ہوئی تو وہ ایک وُومن سینٹر تھا۔ یوگی شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے تین سالہ بچے کے ساتھ یہاں آ گئی تھی۔ یہاں ہر دوسرے گھر کی یہی کہانی ہے کہ ہم ایشین لوگ پاکستان،انڈیا، بنگال اور نیپال سے اچھی شکل کی پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے نکمے بیٹوں کے لئے بیاہ کر لاتے ہیں کہ وہ یہاں آکر ان کے سائیں ٹائپ، ذہنی مریض بیٹوں کو پالنے کے لئے باہر کام کریں اور سسرال کی خدمت بھی کریں۔ بس کچھ ایسے ہی حالات سے گزر کر یوگی بھی وومن سنٹر آئی۔۔۔۔۔پہلے دن وہ بہت اداس اور تکلیف میں تھی روایات اورکلچر میں پھنسے ہم ایشین اپنے سے زیادہ دوسروں کی سوچتے ہیں اور ہندو مذہب میں تو مرد کے ساتھ ہی سَتی ہونے کی دعا دے کر میکے سے رُخصت کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں بہت کم گھرانوں کی لڑکیاں آواز اٹھاتی ہیں۔۔ یوگی سے مل کر اگر کچھ فرق لگا تو وہ مذہب کا تھا۔ ورنہ وہی روایات ، وہی رسم و رواج ، وہی رونے دھونے، وہی خاندانی اور سسرالی سیاستیں۔۔۔۔ وہی ساس بہو کے جھگڑے۔

یوگی Yogii ویجیٹیرین ہے۔۔ نان ویج سے اس کا دَھرم بَھرشٹ ہو جاتا ہے۔

ہماری مجبوریاں تھیں کہ ہم ایک ہی چھت کے نیچے رہنے پر مجبور تھے۔ یوگی Yogii جس دن آئی اس کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔۔

شام کا وقت تھا نئی جگہ، نئے لوگ اور اجنبی راستے ۔وہ ابھی ان سے نا آشنا تھی۔

میرے اللہ نے میرے دل میں یہ احساس ڈالا کہ اُس کی “ایک بندی ” کو اِس وقت میری ضرورت ہے۔

“اے میری بندی تو اس کی حاجت روا کر”

اسی سوچ کے پیشِ نظر میں نے اسے کھانے کی آفر کی کہ میرے پاس سبزی،دال،چاول، آٹا، پنیر،مکھن ، ڈبل روٹی اور دودہ ہے جسے تم استعمال کر سکتی ہو۔۔۔۔۔جب تک چاہو یا جب تک تم اپنے کھانے کا سامان نہیں خرید لیتی۔ ہو سکے تو اسے ایک ہمسائی اور دوست کا تحفہ سمجھ کر قبول کرلو۔

تکلیف میں انسان یہ نہیں دیکھتا اُس کی ہمدردی کرنے والا اُس کے مذہب سے ہے یا نہیں۔ اسے تو اس وقت سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دو بول ہمدردی کے چاہئے ہوتے ہیں۔۔۔ اس نے میری پیشکش قبول کر لی ۔ اگلے دن ہی اس نے میرے ساتھ جاکر آس پاس کے راستے ، ڈاکٹر ،ڈینٹیسٹ، سکول اور مارکیٹ کی معلومات بھی لے لیں۔ میرے پہلے دن کی وہ چھوٹی سی آفر اُسے میرے قریب لے آئی۔ اب وہ جب اداس ہوتی میرے کمرے کا دروازہ کھٹکٹھا کر اپنے دُکھ شئر کرتی۔ میں بھی اسے مکمل توجہ سے سُنتی اور اُس کی ڈَھارس بَندھاتی۔

ایک دن اُس نے مجھ سے کہا ” فوزیہ میں رات 12 بجے بھی تُمہیں کال کرکے اپنے دُکھ سنانے کے لئے وقت مانگتی ہوں۔۔ تو تم انکار کیوں نہیں کرتی؟

پلیز مجھے بتاؤ تاکہ میں تُمہیں وقت، بے وقت تنگ نہ کروں۔ مجھے لگتا ہے تم یہ مُروت میں کرتی ہو شائد۔۔

میں نے کہا یوگی Yogii، تم یہ تو جانتی ہو کہ میں مُسلمان ہوں۔۔۔۔۔ وہ بولی، ہاں جانتی ہوں ۔۔

میں بولی تو پھر سنو !! ہم مسلمانوں سے اللہ جب قیامت کے دن سوال کرے گا کہ اے میرے بندے میں بھوکا تھا۔ تو ہم کہیں گا یاللہ آپ ، وہ کیسے؟ تو میرا رب جواب دے گا کہ میرا فلاں بندہ یا بندی بھوکے، پیاسے یا تیرے دو بول ہمدردی کے منتظر تھے تو اُس وقت تونے اُن کی مدد کیوں نہیں کی؟

میں کیا جواب دوں گی؟ اسی سوچ سے میں تمہیں انکار نہیں کرتی کیونکہ اللہ جس کے پاس کسی بھی شخص کو بھیجتا ہے تو وہ اسی اعتبار سے بھیجتا ہے کہ اس کا بندہ اس کی حاجت روائی کرے گا۔ اس کے دکھ درد بانٹے گا۔۔۔۔

بولو !! میں اپنے رب کا وہ اعتبار کیسے توڑ دوں؟

وہ اسی آس اور امید پر وہ تمہیں میرے دروازے تک بھیجتا ہے۔۔۔۔

اسے میری بات سمجھ آگئی کہ یہ سب میں مُروت میں نہیں کرتی بلکہ اُوپر والا اُُس کا بھی ہے جو اسے ایک قابل اعتماد کے پاس دُکھ درد شئر کرنے کے لئے بھیج رہا ہے۔۔ اب وہ جب بھی میرے ساتھ بات کرتی تو کہتی اُوپر والا جو تُمہارا ہے۔۔۔۔۔۔فوزیہ اور میرا بھی۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اس طرح ایک ساتھ رہتے ہوئے وہ میرے بہت قریب آگئی ۔جب بھی اُسے میری مورل سپورٹ چاہئے ہوتی ہے وہ بلا جھجک آجاتی یا کال کرلیتی۔۔۔۔اپنا کتھارسس کرتی اور سکون میں آجاتی۔۔۔ پھر کچھ گھنٹے بعد کال کرکے شکریہ ادا کرتی اور کہتی “فوزیہ تم سے بات کرکے میری ٹینشن ریلیف ہو گئی ہے۔۔۔۔۔ تو سچ مانئے مجھے لگتا کہ میں نے اپنے اللہ کی طرف سے بھیجی اُس بندی کی تھوڑی سی مدد کر دی ہے۔

ایک دفعہ اسے کورٹ کیس کے لئے جانا تھا اور سکول کے بعد اس کا بچہ سنٹر میں رہنے والی کوئی عورت رکھنے کو تیار نہیں تھی ۔ ایسے میں اس نے مجھ سے مدد مانگی اور میں نے اس کے بچے کو رکھنے کی حامی بھر لی کیونکہ اسے لیٹ نائٹ تک چائلڈ کئر ارینج نہ ہو سکی تھی۔۔ میرے پاس بچے کو رات ساڑھے گیارہ تک رکھنا اس کے لئے بھی آسان نہ تھا کیونکہ پہلی بار اپنے بچے کو ایک مسلمان عورت کے پاس، پردیس میں چھوڑ کر جانا اس وقت، اس کی بھی مجبوری تھی لیکن مجھ پر اس طرح اس کا دوسرا بھروسہ بحال ہوا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

کچھ عرصے بعد اس کے بچے کو ڈاکٹرز نے کرنےcircumcision (خطنے) کے لئے کہا کیونکہ اسکے بچے کے اس خاص قسم کے انفیکشن کا صرف یہی علاج اُن ڈاکٹرز کے پاس تھا۔۔۔۔۔۔ وہ شُدھ برہمن ایک مسلم مذہبی عقیدے اور روایت کو اپنانے کو تیار نہیں تھی۔۔ ڈاکٹرز کو بھی انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔ بچے کی صحت کا معاملہ تھا لیکن دوسری طرف ایک مسلم عقیدے پر عمل کرنا اس کے لئے بہت ہی کَٹھن تھا۔۔ اس نے مجھ سے مشورہ کیا کہ تم بھی بیٹے کی ماں ہو۔۔۔۔مجھے بتاؤ کہ اس کے سائڈ افیکٹس تو نہیں ہیں ۔۔۔۔میرے بچے کو کچھ ہوگا تو نہیں۔۔۔۔

میں نے جواب دیا، دیکھو میرا بچہ ابھی نو سال کا ہے جب وہ اِس مرحلے سے گزرا تھا تو اس کی عمر چھ ماہ تھی۔۔۔۔۔ ایک نازک معصوم کم سن بچہ تھا لیکن الحمد اللہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھو میرا بیٹا تمہارے سامنے ہے۔ بالکل صحت مند ہے۔۔۔ اگر ڈاکٹرز تمہارے بچے کے لئے ضروری قرار دے رہے ہیں تو تم بچے کی صحت کی خاطر مان جاؤ کیونکہ تم ماں ہو اور تم بچے کو تکلیف میں بھی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔۔بس ایک کام کرو کہ یہ معاملہ اُوپر والے کے سپرد کردو۔۔۔۔ وہ میری بات سمجھ گئی۔ ماں جو ٹھہری۔۔

“شائد مامتا کا عقیدہ مذہب کے عقیدے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے”۔۔۔

وقت گزرتا گیا اور وہ میرے اور قریب آتی گئی ۔۔۔پھر وہ کبھی مجھ سے وضو کا طریقہ پوچھتی، تو کبھی نماز کا۔۔۔۔۔۔ کبھی کہتی کیا میں نماز پڑھ سکتی ہوں؟ تومیں اسے نہ ہاں کرسکتی تھی اور نہ ہی یہ کہہ سکتی تھی تم نہیں کر سکتی کیونکہ اس نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا۔۔۔ ایک کشش ہے جو اسے اسلام کے قریب لا رہی ہے اور میں منع کرکے اسے نئے وسوسوں میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔۔۔۔۔ اس لئے میں نے اسے کہا کہ تم اُوپر والے کو بتاؤ بس اور جو جی چاہتا ہے اسلام کے حوالے سے کرو۔۔۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بچپن میں اس کے محلے کی مسجد سے آنے والی آواز اُسے آج بھی یاد ہے۔۔ ۔میں سمجھتی تھی کہ شائد مذاق کر رہی ہے لیکن جب اس نے اذان سنائی تو مجھے بھی بہت حیرت ہوئی۔ وہ مجھ سے روزہ رکھنے اور نماز کی اجازت مانگتی ہے۔۔۔۔۔ میں اسے یہ کہہ کر اجازت دیتی ہوں کہ تم یہ اجازت اُوپر والے سے مانگو اور خلوص دل سے جو بھی کرنا چاہتی ہو اس کی اجازت سے کرو لیکن جب تک تم مسلمان نہیں ہوتی تب تک یہ اجازت کسی مسلمان سے مت مانگنا۔۔۔

بلکہ اس رب رحیم سے مانگا کرو اور ہو سکے تو آن لائن قرآنی وڈیوز دیکھو۔۔۔۔۔اس طرح تمہیں تھوڑی سی نالج ہو گی۔۔ میں نے اسے کچھ ویڈیوز اور قرآنی سورتیں انگلش ترجمے کے ساتھ پڑھنے کو کہیں۔۔

اسے فورس میں کرنا نہیں چاہتی کیونکہ وہ اپنا عقیدہ بھی نہیں چھوڑنا چاہتی لیکن یہاں موجود ہم چند مسلمان دوستوں کے رویوں سے وہ ہماری دیکھا دیکھی ہمارے عقائد پر عمل کرنا چاہتی ہے۔۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ وہ خود سے ہی اسلام کے قریب آئے ۔۔۔۔۔آج اس نے مجھے کھجوریں بھیجی ہیں۔ اس نیت سے کہ وہ بھی رمضان میں ثواب حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ روزے بھی رکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ اپنے عقیدے کے مطابق وہ ہر مہینے مَنت کے وَرد بھی رکھتی ہے۔۔میں چاہتی ہوں وہ ہماری طرف اپنی مرضی سے آئے نہ کہ ہماری مرضی سے۔۔۔۔۔

لندن میں ہر مذہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں۔ سب کو آزادی رائے کے ساتھ مذہب کی آزادی بھی حاصل ہے۔ مانتی ہوں میڈیا نے مسلمانوں کی ساکھ کو بُری طرح متاثر کیا ہے اور میرے بہت سارے مسلم بہن بھائی شدت پسندوں کی زَد میں بھی آئے ہیں لیکن ایسا تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ جہاں دو برتن ہوں وہ کبھی کبھی کَھنک ہی جاتے ہیں لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ کے روئیے ہی آپ کی ساکھ بحال کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج یورپ جیسے ممالک میں بہت سے غیر مسلم صرف اسی پراپیگنڈے کی وجہ سے اسلام کا خود مطالعہ کرکے اس میں خود شامل ہورہے ہیں۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں