114

سپرپاورز جنگیں ہمیشہ غریب ممالک میں کیوں لڑتی ہیں

ٹامس ہارڈی کانام انگریزی ادب میں کِسی تعارف کا مُحتاج نہیں ۔ عُمدہ ناول نگاری اور بہترین شاعری ہارڈی کا طُرہ امتیاز ہے ۔بُہت ہی حساس دِل رکھنے والے اِس ادیب کی ایک نظم  “ انسان جو مار دیا “ (The Man He killed) آج کا موضوع ہے۔ اِس میں ایک انسانی المیے کا ذکر ہے جِس نے لاکھوں انسان اِنسان کے اپنے ہاتھوں سے مروا دئیے، اور آج بھی مارے جارہے ہیں ۔ اِس المیے کا نام ‘ جنگ ‘ ہے ۔

Had he and I but met 
By some old ancient inn 
We Should have sat us down to wet 
Right many a nipperkin 
But ranger as infantry 
And staring face to face 
I shot him as he at me
And killed him in his place 
اے کاش میں اور وُہ ملے ہوتے ،
کِسی پُرانی سرائے میں ، 
شام ڈھلے تک مِل بیٹھتے ،
کئی جام ایک ساتھ پیتے ،
لیکن افسوس مُخالف فوجی بنے ،
ایک دُوجے کو گھُورتے ہُوئے ،
ایک دُوجے پر گولی چلا بیٹھے ،
میں نے اُسے مار گرایا ۔۔۔۔۔

جنگ نے آج تک شاید ہی کُوئی مسئلہ حل کیا ہو ہاں لیکن مسائل کے نئے انبار نہ صرف پیدا کئے ہیں بلکہ پہلے سے مُوجود مسائل کو بڑھاوا بھی دیا ہے۔ بُہت مُشکل ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو سمجھا سکیں کہ جنگوں کا ایندھن محض انسان ہوتے ہیں ، گوشت پوست کے انسان ، بالکل ہمارے جیسے ، خواب دیکھنے والے ، زندگی کی خواہش سے بھرپُور ۔۔۔۔۔
بدقسمتی سے دُنیا کے ترقی یافتہ مُلکوں نے کم از کم اتنا سمجھ لِیا ہے کہ جنگیں اپنی سرحدوں کے اندر نہیں لڑنی بلکہ اگر اسلحہ ساز کمپینیوں کے اسلحے کو چیک کرنا ہے اور استعمال کرنا ہے تو تیسری دُنیا کے ممالک بُہت ۔ اُسے آپ شام کہیں ، فلسطین کہیں ، عراق یا افغانستان کیا فرق پڑتا ہے ۔ جنگوں کی ہولناکی ویسی کی ویسی ہی رہتی ہے ۔
ہمارے اپنے مُلک پاکستان اور پڑوسی مُلک انڈیا میں یہ بیانیہ بچپن سے ہی سُکولوں کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ فلاں مُلک ہمارا دُشمن ہے اور فلاں دوست ۔ یہی سبق اور یہی نفرت ساری عُمر ہم میں سے بیشتر کے دِلوں سے کبھی بھی نہیں نکل پاتی ، اِس نفرت کو پالتے پالتے کئی نسلیں مٹی میں جامِلیں لیکن یہ دِیوار ابھی تک وہیں کی وہیں ہے ۔
چاہے کُچھ ہو جائے پڑوسی تو اب بدلے نہیں جاسکتے تو کیوں نہ اچھے تعلقات ہی بنانے کی سعی کی جائے ۔ آخر کہیں نہ کہیں سے تو شُروعات ہونی ہی چاہئے ۔ لیکن پتہ نہیں کیوں مُجھے لگتا ہے ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا یہ سب کُچھ ویسے ہی چلے گا جیسے چل رہا ہے ۔ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل ہوجاتے ہیں اور مقتول کے بھائی یا بیٹا اگر کم عُمر ہُوں تو وُہ اُس نفرت اور انتقام کی آگ کو سالوں تک پالتے ہوں ، بدلے کی آگ کو کبھی بُجھنے نہ دیتے، تو وہاں اور کیا ہوگا ۔
ہمیں ہر وقت چٹ پٹے موضوعات کی ضرورت ہوتی ہے ، سیاسی چُٹکلے اور فُضول لطائف کی بھی۔ لیکن ہم میں سے کُوئی نہیں سنجیدگی سے بات کرے گا کہ ہمارے مُلک کے مسائل ہیں کیا ؟ پانی کی کمی ، درختوں کا بُہت کم ہونا وغیرہ۔ آخر اِن مسائل پر بات کون کرے گا ؟
کاش ہم لوگ کبھی سنجیدہ ہو سکیں اور اپنے مسائل کو ٹارگٹ کر سکیں اُن پر بات کر سکیں۔ لیکن نہیں عامر لیاقت ، فلاں مولوی ، بینگن ، فلاں ادیب بڑا ہے فلاں چھوٹا ہے ، سُنی شیعہ ، دیو بندی بریلوی ، فلاں لیڈر نے روزہ رکھا ہے یا نہیں وغیرہ وغیرہ جیسے ذرا اہم مُلکی مسائل نِبٹ جائیں تو جنگوں کے مسائل ، پانی اور درختوں پر بھی بات کرتے ہیں ۔
ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی فُحش گوئی اور لغو باتیں کرنے سے منع کیا ہے ۔ پھِر بھلا ہمارے نوجوان یہ بینگن ، پھِسلن وغیرہ کا ذِکر کر کے کِس بات کا ثواب لیتے پھر رہے ہیں ؟ گندی ذُومعنی باتیں ، تھرڈ کلاس لطائف ، او اللہ کے بندوں باز آجاؤ ۔ ہر جُملے کا حساب دینا پڑے گا ۔ فیس بُک ایک اچھا فورم ہے آپ لوگ کئی نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں اور اچھے کاموں میں حِصہ دار بھی بن سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں