52

ایک خواب

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ، جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی ۔۔۔
دوستو سیاست اصل میں نام ہے خدمت کا۔ ہمارے ملک کی سیاست اگر دگرگوں حالات میں ہے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نے اس کے رہنما اصولوں کو ترک کر دیا ہے ۔ اگر ہمارے سیاست دان اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کریں گے اور اپنے ووٹر کو عزت نہیں دیں گے تو پھر لوگ بھی ضرور دوسرے اداروں کی طرف دیکھیں گے ۔ ملک کے اندر بار بار آمریت کا آنا صرف اور صرف اسی وجہ سے ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے کبھی بھی اپنے فرائض کو صحیح طریقے سے ادا نہیں کیا ۔ جب سیاست دان آپس کے اختلافات میں الجھے رہیں گے اور عوام کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہیں گے تو پھر عوام بھی کسی مسیحا کی طرف دیکھنا شروع کر دیں گے ۔ پھر یہ بات معانی نہیں رکھتی کہ عوام کسے اپنا مسیحا سمجھ رہے ہیں اور کسے بنا رہے ہیں ۔ چونکہ سیاسی لیڈران نے خود ایک خلا پیدا کیا ہوتا ہے تو پھر اس خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی فوج سے بھی آ سکتا ہے اور عدلیہ سے بھی۔


اگر لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں، آپکی عزت کرتے ہیں تو بدلے میں آپ کو بھی ان کو عزت دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے بھرپور تعاون اور کوشش کرنا چاہیے ناکہ اقتدار میں آکر اپنی تجوریوں کو بھرنے کی ترکیبیں کرنے لگ جائیں ۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جب ان کے قمیض کے کپڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اسلام کے لیے فلاں فلاں کام کیا یا قربانی دی بلکہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود اس کپڑے کا حساب دیا ۔

ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔آج کا ترکی 15 سال پہلے والے ترکی سے یکسر مختلف ہے ۔ وہاں کے حکمرانوں نے اپنے ملک کو ترقی دینے کے لیے انتھک محنت کی اور اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا ۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں کے عوام نے اپنے ایک سیاسی لیڈر کے ایک مسیج پر لبیک کہا اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے اور نہتے عوام اپنے ہی ملک کی فوج کے ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے ۔ یہی عزت و احترام ہمارے ملک کے عوام بھی آپ لوگوں کو دے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو بھی اپنے ملک اور قوم کے ساتھ مخلص ہونا پڑے گا۔ان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنی پڑیں گی ۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنی ہوں گی ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں ہی مضمر ہے ۔ 
سیاست دان ہی اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر سکتے ہیں ۔ ملک کے جملہ مسائل کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کا ہنر صرف سیاست دانوں کے ہی پاس ہے ۔ یہ ایک مسلمہ چیز ہے کہ ہمارے ملک کے عوام اپنے سیاسی لیڈران سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جینے مرنے پہ تیار ہو جاتے ہیں ۔ یہ ملک اور اس کی عوام بہت عزت و احترام دینے والے ہیں۔ آجکل انتخابات کا زمانہ ہے ۔ ہمارے لیڈروں کو چاہیے کہ وہ اپنے جلسوں میں کسی کی کردار کشی کے بجائے اپنے وژن اور منشور پر بات کریں اور کسی کی عزتوں کو اچھالنے اور عوام کو مشتعل کرنے کی بجائے پیار و محبت کا جذبہ پیدا کرنے کی ہدایت اور کوشش کریں، کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ کسی بھی لیڈر کے لاکھوں کروڑوں فالوارز ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی لیڈر کسی دوسرے لیڈر کے بارے میں کوئی غلط بات کہتا ہے یا الزام لگاتا ہے تو بدلے میں دوسرا لیڈر اور اس کے چاہنے والے بھی اس قسم کے الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے افراتفری کا ماحول پیدا ہو تا ہے ۔اس افراتفری کے بہت سے نقصانات بھی سامنے آتے ہیں ۔ایک تو مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں ۔
دوسرا سیاسی عدم استحکام پیدا ہو تا ہے ۔اس افراتفری کے عالم میں ہمارے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور سرمایہ کار آنے سے ڈرتے ہیں ۔نتیجہ کے طور پر ملک کی ترقی کو بریک لگ جاتی ہے ۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں ۔یہاں پر میں اپنے لوگوں سے بھی ایک درخواست کروں گا وہ بھی اپنے اندر برداشت پیدا کریں اور اپنے سیاست دانوں کو بہت زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھنا بند کریں ۔یہاں پر مجھ سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے ۔کیونکہ ہمارے ملک کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ آج ملک کے جو بھی حالات ہیں ان کے ذمہ دار یہی سیاست دان ہی ہیں ۔اور عوام کچھ حد تک درست بھی ہیں لیکن میرے عزیز دوستو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں جتنے بھی بڑے بڑے کام ہوئے ہیں وہ سب کے سب جمہوری حکومتوں اور سیاست دانوں نے ہی کیے ہیں ۔

پاکستان بنانے والے سیاستدان تھے، ملک کو متفقہ آئین دینے والے سیاست دان تھے، ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے بھی سیاست دان ہی تھے ۔ یہاں پر میں ایک وضاحت بھی کر تا چلوں کہ سیاست دانوں کا ذکر کرنے کا میرا مقصد اپنے ملک میں جمہوریت کا تسلسل اور فروغ ہے۔جمہوریت ہی ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی اور استحکام کا واحد راستہ ہے ۔ دنیا کے جتنے بھی بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے جمہوریت کے ذریعے ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔تو آج سے ہم بھی یہ عہد کریں کہ اپنے ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے انتھک اور مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے ۔تا کہ ہمارے ملک کو بھی ترقی اور خوشحالی کی نعمت نصیب ہو ۔۔آمین ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں