134

ترکش انتخابات اور ہماری دینی جماعتیں

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب مسند اقتدار پر بیٹھتا ہے تو اسے پھر موت ہی اتارتی ہے، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ یہ سوچ لیتا ہے کہ اسکے بعد پورے ملک میں کوئی بھی اہل نہیں ہے اور اسکے ہٹنے سے ملک یتیم ہو جائے گا اور یہود و نصاریٰ قبضہ کر لیں گے۔

صدام حسین، حسنی مبارک، حافظ الاسد، معمر قدافی جیسے حکمران جو کئی دہائیوں تک کرسیِ اقتدار پر براجمان رہے ہیں، یہی سوچتے رہے اور آخرکار اپنے انجام کو پہنچ گئے، انکی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے ممالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، کیونکہ اگر وہ اپنی اپنی زندگیوں میں شفاف طریقے سے دوسرے اہل لوگوں کو اقتدار منتقل کر جاتے تو شاید ان ممالک میں ابھی بھی خوشحالی اور قانون کا بول بالا ہوتا۔

ترکی میں محترم طیب اردگان گیارہ سال تک وزیراعظم رہے، پچھلے چار سال سے صدر کے عہدہ پر براجمان ہیں اور اگلے پانچ سال کیلئے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انہوں نے ترکش اکانومی کو مضبوط کیا ہے، ترکی کو بین الاقوامی قرضوں سے نجات دلائی ہے، لیکن کیا سارے ترکی میں صرف اردگان ہی حکمرانی کے اہل ہیں، باقی سب نااہل اور غلام ہیں؟؟

2016 میں ایک فوجی بغاوت ہماری آنکھوں کے سامنے ناکام ہوئی ہے، جس سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، بلکہ دو سال ہونے والے ہیں اور ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

موجودہ انتخابات میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ جہاں حزب اختلاف کے مضبوط صدارتی امیدوار محرم انسے نے جیت کی صورت میں اڑتالیس گھنٹوں میں ایمرجنسی ختم کرنے کی بات کی وہاں جناب اردگان نے آخری دن اپنی تقریر میں عوام سے سوال کیا کہ کیا وہ کل انتخابات میں حزب اختلاف کو عثمانی تھپڑ ماریں گے؟؟؟ انکا اشارہ خلافت عثمانیہ کی طرف تھا۔

محترم اردگان انتخاب جیت گئے ہیں اور آئین میں پہلے سے موجود تبدیلی کی وجہ سے وہ ترکی کے سیاہ و سفید کے بلاشرکت غیرے مالک بھی بن گئے ہیں، لیکن کیا وہ عثمانی چورن جنکا دعویٰ کئی سالوں سے کر رہے ہیں، اسے حقیقت کا روپ دے سکیں گے؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ باقی مسلمان حکمرانوں کی طرح تادم زندگی حکمرانی کا ایسا تاج سجانا چاہتے ہیں، جسے پہنتے تو وہ خود ہیں لیکن اتارتا عزرائیل ہے؟؟

دوسری طرف ترکی کے علاوہ جس ملک میں ترکش الیکشن اور اردگان کی جیت کا جوش وخروش تھا وہ ملک پاکستان ہے جہاں کی دینی جماعتیں مسلم اُمّہ کے جدید خلیفہ اردگان کی تاج پوشی میں ہلکان ہوئے جارہی تھیں اور محترم سراج الحق نے تو یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ اگر طیب اردگان کامیاب ہوئے تو ایم ایم اے پاکستانی انتخابات میں کامیاب ہو جائے گی۔ یہ بیان ہمارے علماء اور مذہبی سیاستدانوں کے آئی کیو لیول کو ظاہر کرتا ہے، جو بدقسمتی سے پرائمری یا مڈل پاس طالبعلم کے لیول سے آگے نہیں جاسکا۔

ایم ایم اے چوں چوں کا مربع ہے، جس میں آگ اور پانی کو اکٹھے کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے، ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور انکی ایک صوبے میں حکومت بھی بن گئی تھی، لیکن جیسے ایک میان میں دو تلواریں نہیں آ سکتیں بالکل ایسے ہی ہمارے مولانا کسی ایک پوائنٹ پر اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے جب دیکھا کہ میری سیٹیں زیادہ ہیں تو وہ اس اتحاد سے الگ ہوگئے اور گزشتہ دو ادوار میں حکمرانی کے مزے چکھنے کے بعد انہیں تحریک انصاف سے واضح شکست نظر آرہی ہے، جسکی وجہ سے وہ دوبارہ ایم ایم اے کی چھتری تلے آگئے ہیں، اور انتخابات کے بعد حسب معمول اپنے فائدے کے مطابق ایم ایم اے کے پلیٹ فارم کو ٹشوپیپر کی طرح استعمال کر کے چھوڑ دیں گے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی ابھی تک عوام میں اپنی مستقل مزاجی ہی قائم نہیں کرسکی، کبھی اسکی نظر ترکی کی خلافت عثمانیہ پر ہوتی ہے اور کبھی طالبان کی محبت میں ہلکان ہوئے جاتے ہیں، کبھی ملک میں اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں تو کبھی نواز شریف کی ہر برے وقت میں بےجا حمایت کر رہے ہوتے ہیں، کبھی عدالتوں سے اسے نااہل کرواتے ہیں تو کبھی طیب اردگان کو امت مسلمہ کا خلیفہ قرار دے رہے ہوتے ہیں۔

آج کی پاکستانی نوجوان نسل ان روایتی مولاناؤں سے زیادہ عقل اور سمجھ بوجھ رکھتی ہے، اسے اپنا مستقبل بہتر بنانا ہے، انہیں نوکریاں چاہئیں، انہیں کاروبار کرنے ہیں، یہ اب مذہبی چورن بیچنے والوں کے چکروں میں آنے والے نہیں ہیں، لہذا مذہبی جماعتوں کے سیاستدانوں سے بھی گذارش ہے کہ اب عملی زندگی کی طرف آ جائیں اور صرف وہی نعرہ لگائیں جو پورا بھی کرسکیں، اگر اسلامی نظام میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو سچ بولنا سیکھیں، اپنے وعدوں پر پورے اتریں اور نوجوان نسل کو وہ عملی حل دیں جس سے انکے موجودہ مسائل حل ہو سکیں اور پاکستان کی اکانومی بہتر ہوسکے، بصورت دیگر سیاست کا نام لینا چھوڑ دیں اور صرف مذہب کی طرف توجہ دیں، تاکہ کوئی تو کام ڈھنگ سے کر کے دکھا سکیں۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں