Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




مردہ سانپ زندہ کی طرح ہی خطرناک ہو سکتا ہے


اگر آپ کے سامنے خطرناک سانپ لہراتا ہوا آجائے تو یقیناآپ بہت خوفزدہ اور محتاط ہو جائیں گے لیکن اگر مکمل سانپ کی بجائے صرف اس کا کٹا ہوا سر آپ کے سامنے ہو تو شاید خطرہ کچھ کم محسوس ہو گا۔اگرچہ آپ ایسا سمجھ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ سانپ کے کٹے ہوئے سر سے بھی اتنا ہی محتاط رہنے کی ضرورت ہے جتنی کہ زندہ سلامت مکمل سانپ سے۔ 

ماہرین حیوانیات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سانپ کا سر کٹنے کے ایک گھنٹے بعد تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور اس دوران یہ کاٹ بھی سکتا ہے اور اتنا ہی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے جتنا کہ مکمل جسم کے ساتھ ۔اس کا تازہ ترین ثبوت چین کے ایک مشہور ریسٹورنت میں سامنے آچکا ہے۔ صوبہ گونگ ڈونگ کے ریسٹورنٹ میں شیف پینگ چین یہاں کی مشہور ڈش ”کوبرا سانپ کا سوپ“بنا رہے تھے۔

انہوں نے خطرناک زہروالے کوبراسانپ کا سر کاٹ کر علحیدہ کر دیا اور باقی جسم کو سوپ میں استعمال کیلئے تیار کرنا شروع کر دیا۔ تقریباً 20منٹ بعد جب انہوں نے کٹے ہوئے سر کو ہاتھ سے ایک طرف دھکیلنا چاہا تو اس نے پلک جھپکتے میں وار کر کے زہر پینگ کے جسم میں داخل کر دیا اور چند لمحوں میں ہی ان کی موت ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سانپ کولڈ بلڈڈ جانور ہیں اور ان کے عضلات ہے اور رعصبی نظام بہت سخت جان ہوتا ہے۔ 

ان کا سر کٹنے سے دماغ کو ملنے والی آکسیجن کی مقدار اگرچہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے لیکن پھر بھی تقریباً ایک گھنٹے تک نہ صرف ان کا دماغ کام کرتارہتا ہے بلکہ یہ آنکھیں بھی جھپکتے ہیں اور زبان بھی بالکل باہر نکال سکتے ہیں،اس لئے کبھی بھی ان کے قریب نہ جائیں ورنہ جان جا سکتی ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.