156

⁨امیرکا محافظ غریب کا دشمن پاکستانی جنگل کا قانون⁩

آج پاکستان میں ایک بار پھر امیروں کا قانون جیت گیا خدیجہ صدیقی کی گردن کاٹنے والا شاہ حسین بری ہوگیا ہے۔کیونکہ وہ ایک طاقتور باپ کا بیٹا تھا۔اس نے 23 مرتبہ خنجر سے وار کرکے خدیجہ صدیقی کی زندگی کو مفلوج بنایا تھا۔ کیا وہ شخص اگر یورپ میں ہوتا تو بری ہو پاتا؟ لیکن ہم بات کریں تو کہتے ہیں مغرب کے ایجنٹ ہیں اور باہر کی دوہری شہریت ہے۔ اللہ کے بندو کیا دوہری شہریت لینے سے انصاف اور انسانیت ختم ہو جاتی ہے؟  پاکستان میں سب جیلیں صرف غریبوں سے بھری ہوئی ہیں ان میں کوئی امیر نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہمارا قانون امیروں کا محافظ ہے وہ امیر کو جیل نہیں اسمبلیوں میں بھیجتا ہے۔

کئی بار سوچا تھا روزوں میں قلم کو آرام دیں گے لیکن لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد رہا نہیں گیا، ہمارے پاکستان میں تباہی کی وجہ ہی ہمارا قانون ہے سب کروڑ پتی ہیں عام بندے کے خون کی ہولی کھیلتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی سکھاتے ہیں کہ غریب کیڑے مکوڑے ہیں انکو کا لجوں میں سکولوں میں غلام بنا کر رکھو خدیجہ صدیقی کا وکیل حسن نیازی لندن سے پڑھ کر گیا ہے وہ ہیومن رائٹس کو دیکھ کر کیس لڑا تھا لیکن ایک طا قتور باپ سے ہار گیا پاکستانی عوام چُپ ہو گی کچھ عرصے کے بعد جب شاہ حسین کوئی پارٹی جوائن کرے گا تب ریحام خان کی کتاب کی طرح سب اسکا جرم یاد کرائیں گے۔لیکن یہ کوئی نہیں کہے گا کہ عدالتوں نے مجرم کو سزا کیوں نہیں دی تھی۔
ہم مسلمان انسانیت اور انصاف کے نام سے ہی پہچانے جاتے تھے۔ جب حضور نے فرمایا تھا کہ سزا ایک ہی ہوگی چوری اگر حضرت فاطمہ بھی کرے گی تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ لیکن ہمارے ججز خدیجہ صدیقی ہو، ماڈل ٹاؤن ہو یا کوئی اور ہو انکو انصاف نہیں دیں گے ایان علی اور شاہ حسین کو باعزت بری کرنے کی تو کروڑوں کی فیس جو ملنی ہے ۔ اسلئے غریب کے خون کا سودا کرنا ضروری ہوتا ہے۔جب تک امیر غریب کے لئے ایک قانون نہیں بنتا جرم ہوتے رہیں گے۔ غریب آدمی کو جب انصاف نہیں ملتا وہ اپنا انصاف خود لینے کے لئے ہتھیار اٹھا لیتا ہے۔اور اسکے سب جرم کی سزا اللہ تعالی ان امیروں کے رکھوالے ججز سے لیں گے۔ 
اب سپریم کورٹ کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے لیکن نہیں ہوگی کیونکہ سو کالڈ جمہوریت کے خلاف سازش ہوگی کیونک ووٹ ہیں اور پتا نہیں کیسے تین مہینے اپنے خرچے پہ رہیں گے انکو اسمبلیوں میں آنا ہے اسلئے تو نگران وزیراعظم قبرستان بھی فاتحہ پڑھنے ہیلی کاپٹر پر گئے تھے کہ ٹائم ضائع نہ ہو الیکشن ہیں۔ مغرب میں کفر کا نظام ہمارے نظام سے بہتر کیوں چل رہا ہے کیونک یہاں انصاف ہے۔
ہمارا ارادہ بنا تھا کہ بچوں کو پاکستان لے جائیں، وہیں تعلیم دلوائیں گے تاکہ اپنے ملک کا کلچر سیکھ سکیں، مگر جب دیکھا کہ پال پوس کر بڑا ہم کریں گے، لیکن اگر امیروں کے بچوں  کاروں سے کچلے گئے، تو ہم رو دھو کے واپس آجائیں گے،  کیونکہ وہ ملک بھی امیروں کا ہے اور وہاں موجود قوانین بھی انکے ہیں۔ اس وقت شاہ ذین نوجوان کو مار دیا گیا تھا پھر ماڈل ٹاؤن کا ظلم بھی دیکھا تھا یہ سب سوچ کر وطن پرستی کی خواہش کو دبا دیا تھا کہ بھلے ہی کلچر نہ سیکھیں زندہ تو رہیں گے۔ ہمارے ججز اللہ کو کیا جواب دیں گے کہ ہم نے غریب کے خون سے اپنے محل بنائے تھے۔ خدیجہ صدیقی کے تو زخم ہی سب سے اہم گواہ اور ثبوت تھے لیکن بکاؤ قانون ہو تو امیر خرید لیتے ہیں اور غریب ہتھیار اٹھا کر مجرم بننے پر مجبور کردیے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں