75

انتخابات۔ ۔ ۔ ایک موقع

پاکستان کی عوام کی اکثریت کی طرح آجکل ہمارے احباب میں بھی ایک ہی موضوع زیر بحث لایا جا رہا ہے اور وہ ہے ہمارے آنے والے عام انتخابات ۔ کوئی کسی جماعت کو سپورٹ کرتا دکھائی دیتا ہے تو کوئی اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ چاہے ووٹ کسی کو بھی دو ہماری حالت بدلنے کا درد کوئی جماعت یا لیڈر کے اندر نہیں ہے اور یہ انتخابات بھی پچھلے انتخابات کی طرح ہی گزر جائیں گے اور ہماری عوام کی اکثریت کی حالت ویسے کی ویسے ہی رہنی ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے تبصرے میں کار خیر سمجھ کر اپنا اپنا حصہ ڈال رہا ہے ۔خاص کر ہمارے جنوبی پنجاب کے عوام وسوسوں کا شکار ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک دوست نے ہمارے علاقے کے ایک بیوروکریٹ سے ملاقات کرائی ۔ اس ملاقات میں اس صاحب نے ایک بات بتائی جو کہ میرے لیے بہت حیرانی کا باعث تھی۔ اس بندے نے کہا کہ ہمارے ملک کے حکمران خاص طور پر وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم وغیرہ جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی کو ملنے کے لئے ہر وقت تیار ہو جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس اپر پنجاب کے ارکان اسمبلی کو ملنے کے لئے لیت و لعل سے کام لیتے ہیں ۔ میں ان کی بات سن کر حیران ہوا کہ بھائی یہ کس طرح ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ کیا ہے ۔جس پر اس صاحب نے ایک ایسی وجہ بتائی جو کہ میرے لیے اور بھی زیادہ حیران کن بلکہ پریشان کن تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپر پنجاب کے وزیر اور ارکان اسمبلی جب بھی حکمرانوں سے ملتے ہیں تو کوئی نہ کوئی بڑا منصوبہ یا مفاد عامہ کا کوئی پروجیکٹ منظور کرا کے ہی اٹھتے ہیں یا کم از کم کسی پروجیکٹ کی منظوری کی یقین دہانی ضرور مانگ لیتے ہیں جبکہ ہمارے ارکان صرف قیادت اور حکمرانوں کے ساتھ سیلفی لے کر ہی خوش ہو جاتے ہیں جیسے ان کی اس سیلفی سے ان کے علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہو جاتی ہوں۔ اسی وجہ سے حکمران اپر پنجاب کے ارکان اسمبلی سے ملنے سے کتراتے ہیں اور ہمارے سرداروں سے ملنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جنوبی پنجاب کا کوئی بھی سردار یا سیاست دان اپنے علاقے کے لیے کسی میگا پراجیکٹ کی منظوری کروانے کا دعوٰی نہیں کر سکتا ۔
اگر کوئی کام ہوئے بھی ہیں تو وہ بھی حکمران خود ہی اس علاقے کو دے جاتے ہیں یا یوں کہیں کہ زبردستی منظور کر لیتے ہیں کہ یہ لوگ بھی ہیں تو پنجاب کا ہی حصہ ۔ تب جا کر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے علاقے کی پستی اور پسماندگی کے ذمہ دار ہمارے اپنے ہی لوگ ہیں اور ہم حکمرانوں کو کوستے رہتے ہیں کہ انہوں نے سارا بجٹ اپر پنجاب پر لگا دیا ہے ۔ بھائی جب ہم ان سے کچھ مانگیں گے تب ہی تو وہ دیں گے ورنہ ایک مشہور مثال ہے کہ ماں بھی اپنے بچے کو اس وقت تک دودھ نہیں دیتی کہ جب تک بچہ خود روتا چلاتا نہیں ہے ۔دوستو ہمارے علاقے کی پسماندگی کے زمہ دار جتنے ہمارے سردار یا ارکان اسمبلی ہیں اتنے ہی زمہ دار ہم عوام بھی ہیں کیونکہ ہم لوگ ہی ان کو بار بار ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجتے ہیں ۔جیسے ہی یہ لوگ الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچتے ہیں تو پھر اگلے الیکشن تک اپنے علاقے کا منہ تک نہیں دیکھتے اور جب اگلے الیکشن کا وقت آتا ہے تو ہم سب کچھ بھول کر دوبارہ انہی لوگوں کو ووٹ دیتے، صرف اس لئے کہ وہ ہمارے علاقے کے وڈیرے اور سردار ہیں ۔تو میرے دوستو آخر کب تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کرتے رہیں گے ۔کیا ہمارے علاقے کا ترقی اور خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا؟ الیکشن سر پر ہیں اور اپنی آنے والی نسل کو بہتر مستقبل دینے کا ایک اہم اور بہترین موقع ہے ۔یہی وقت ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت سے ایسے اہل اور دیانت دار لوگوں کو سامنے لائیں جو اسمبلیوں میں جا کر نہ صرف اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے اندھیرے ختم کرنے کے لیے بھی عملی طور پر اقدامات کریں ۔25 جولائی کو تبدیلی کے دن کے طور پر مانتے ہوئے اپنے ووٹ کو اہل امید وار کو دے کر عملی تبدیلی کا آغاز کریں ۔اگر اب بھی ہم نے اپنی عادات نہ بدلیں تو آنے والا وقت اور آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔یقین کریں کہ یہ وقت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا ۔اس وقت کی قدر کرتے ہوئے اپنے ووٹ سے تبدیلی لائیں۔

کیونکہ بقول شاعر :
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا 

اس وقت میرے سامنے ایک اخبار ہے جس میں مختلف سیاست دانوں کے اثاثوں کی مالیت اور تفصیل لکھی ہوئی ہے ۔حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے ملک اور عوام کی اکثریت کی حالت تشویشناک حد تک خراب ہے اور جن صاحبان کی وجہ سے ہمیں یہ دن اور حالات دیکھنے پڑ رہے ہیں ان کی جائیدادوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ہمارے عوام ملک کے نظام کا رونا روتے رہتے ہیں کہ اس ظالم اور بے ترتیب نظام کو ختم ہونا چاہیے کہ جس میں غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے لیکن وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جب ہم ہر بار پرانے اور آزمائے ہوئے چہروں کو اسمبلیوں میں بھیجیں گے تو نظام کیسے تبدیل ہو گا ۔شرعی اعتبار سے بھی کسی ایسے امیدوار کو ووٹ دینا بہت بڑا گناہ ہے کہ جس کے بارے میں آپ جانتے ہوں کہ وہ بندہ دیانت دار اور ایمانداری نہیں ہے، ایسے بندے کو ووٹ دینے سے دنیا میں تو پریشانی اٹھانی ہی پڑتی ہے اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کا حساب کتاب دینا پڑے گا۔ اس لیے آئیں مل کر یہ فیصلہ کریں کہ اس دفعہ ووٹ صرف پڑھے لکھے، با کردار اور غریبوں اور اس ملک کا درد رکھنے والے افراد کو ہی دیں گے اور کسی بدکردار، کرپٹ اور ظالم کو اسمبلی تک نہیں پہنچنے دیں گے ۔تب جا کر نظام تبدیل ہو گا اور ملک و قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو ۔آمین ۔

(محمد ندیم احمدانی بلوچ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں