46

اسرائیل کا 2104 کے بعد غزہ پر سب سے بڑے حملے کا دعویٰ

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل نے سنہ 2014 کے بعد حماس کے خلاف سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملے اسرائیلی خطے میں راکٹ داغے جانے کے جواب میں کیے گئے ہیں جبکہ حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق مزید حملے ہوئے ہیں۔

صحت کے شعبے سے منسلک فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو غزہ کے شہر پر فضائی حملوں میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل پر کیے جانے والے 90 سے زائد راکٹ حملوں میں تین اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیت الہیا میں حماس بٹالین کے ہیڈکوارٹر سمیت غزہ میں ان کے بیشتر ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی غزہ میں الشتی پناہ گزین کیمپ کی بلند بالا عمارت میں ان کے تربیتی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ایک ویڈیو بیان میں مسٹر نتن یاہو نے کہا: ‘وزیر دفاع، اسرائیل کے فوجی سربراہ اور اعلی سکیورٹی کمانڈ کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد ہم نے حماس کی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدام کا فیصلہ کیا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ”آپریشن پروٹیکٹو ایج’ کے بعد سے اسرائيلی فوج نے حماس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہے۔’ ‘آپریشن پروٹیکٹو ایج’ سے ان کا اشارہ سنہ 2014 کے تصادم کی جانب تھا۔ بہر حال فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ‘مصر اور بین الاقوامی کوششوں کے نتیجے میں’ جنگ بندی پر رضامندی ہو گئی ہے لیکن اسرائیل نے اس بابت کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

عینی شاہدین نے خبررساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ اسرئیلی حملے میں ایک خالی عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور اس کا راہگیر شکار ہوئے۔ حماس کا کہنا ہے کہ ایک فلسطینی جمعے کو سرحد پر مظاہرے کے دوران اسرائیل فوجی کی گولی سے ہلاک ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ سے اسرائیل کی جانب درجنوں راکٹ داغے گئے ہیں۔ ایک راکٹ نے سدیروت قصبے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا جبکہ تین لوگوں کو چھرے کے زخم آئے ہیں۔ یہ حملے علاقے میں پرتشدد واقعات میں اضافے کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔

یہ حملے سرحد پر ہزاروں فلسطینیوں کے مظاہرے کے درمیان ہوئے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے اپنے آبائی گھروں کو لوٹنے کے اعلان شدہ حق کی حمایت میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کے آبائی گھر اب اسرائیل میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ کے بلاکیڈ کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور مصر کا کہنا ہے کہ بلاکیڈ سکیورٹی اقدام کے پیش نظر ضروری ہے۔ غزہ میں صحت کے شعبے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک 130 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 15 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتا لیکن گذشتہ سال اس نے کہا کہ وہ غزہ اور غرب اردن میں عبوری فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں