89

“ہم دیکھیں گے کہ یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں”۔ مولانا فضل الرحمن

مولانا کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا کہ اسکی پھَٹی پُوچی جا چکی ہے اور اسکا سیاسی کیئر ختم ہوچکا ہے، پی ٹی آئی اور پڑھی لکھی پاکستانی نوجوان نسل نے مولانا کی منافقت پر مبنی سیاست کی جڑیں ہمیشہ کیلئے کاٹ دی ہیں۔

یہ بات کہنی نہیں چاہئیے کیونکہ تمام پاکستانی قابل عزت ہیں لیکن مولانا کی منافقت دیکھتے ہوئے مجھے کہنا پڑھ رہی ہے کہ جناب مولانا کے ووٹر افغان باڈر کے ساتھ ساتھ انتہائی کم پڑھے لکھے درسوں میں پڑھنے والے ہمارے پاکستانی بھائی ہیں، جنہیں مولانا نے اپنی چکنی چُپڑی باتوں اور اسلام کے نعرے لگا کر اپنا ہمنوا بنایا ہوا ہے۔

حقیقت میں مولانا کچھ بھی نہیں کر سکتے سوائے گیدر بھبھکی لگانے کے جو وہ اچھے طریقے سے لگا رہے ہیں۔ آل پاٹیز کانفرنس یعنی اے پی سی حقیقت میں مفاد پرست کرپٹ سیاستدانوں کا ٹولہ ہے جو وقتی مفاد اور پریشر ڈالنے کیلئے عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی نے کے پی کے میں زبردست کام کئیے ہیں جنکی وجہ سے اسے پٹھان بھائیوں نے دوسری دفعہ ٹو تھرڈ میجوریٹی دے کر جتوا دیا ہے حالانکہ پٹھان بھائیوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہر پارٹی کو صرف ایک ایک دفعہ چانس دیتے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے آنے کی وجہ سے چھوٹی صوبائی جماعتوں جن میں اے این پی، جمعیت علماء اسلام، ایم کیو ایم، اور جماعت اسلامی اسلامی کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی ہے جبکہ پی پی پی کی سیاست پنجاب میں ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی ہے اور سندھ میں وہ دن بدن اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔

نون لیگ کا حال عنقریب انڈین کانگریس کی طرح ہونے والا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی جہاں جہاں جا رہی ہے اپنے کام سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا رہی ہے اور اگر پی ٹی آئی پنجاب میں پانچ سال پورے کر گئی تو پنجابی معاشرے میں اتنا شعور آ جائے گا کہ پنجابی بھائی خود ہی ٹو تھرڈ میجورٹی سے پی ٹی آئی کو جتوا دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں