153

پاکستانی روپیہ ایشیا کی سب سے بد ترین کرنسی قرار

امریکی ادارے بلومبرگ نے پاکستانی روپے کو ایشیا کی سب سے بد ترین کرنسی قرار دیا ہے۔ بلومبرگ نے لکھا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال دسمبر سے اب تک 4 بار کرنسی کی قیمت میں کمی کی ہے جس کے باعث ڈالر 128 روپے پر پہنچ گیا ہے۔ یہ ایشیا کے ان 13 ممالک میں سب سے بدترین کارکردگی ہے جن کا ریکارڈ بلومبرگ اپنے پاس رکھتا ہے۔

دسمبر 2017 سے اب تک پاکستان کی جانب سے کرنسی کی ویلیو میں چار بار کمی کی گئی ہے ۔ پیر کے روز روپے کی قدر میں پانچ اعشاریہ تین فیصد کی کمی واقع ہوئی اور یہ 128 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ روپے کی ویلیو میں کمی ڈالر کی انٹربینک مارکیٹ میں طلب اور رسد میں واضح فرق ہونے کے باعث کی گئی ہے۔

دوسری جانب اکثر ایمرجنگ ممالک کیلئے عالمی سطح پر بھی حالات ناسازگار ہوتے جارہے ہیں، پاکستان کی اپنی کمزوریوں جن میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ اور زر مبادلہ کے ذخائر کا ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح پر ہونا ہے ، کے باعث 305 ارب ڈالر کی اکانومی پر سخت دباﺅ آیا ہے۔بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو سہارا دینے کیلئے ایک بار پھر آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑے گا۔ ایمرجنگ مارکیٹ کرنسی اور سٹاک کی فروخت 2018 کے دوسرے حصے میں بھی جاری رہے گی کیونکہ امریکہ نے شرح سود میں اضافہ کردیا ہے اور دنیا تجارتی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

رواں سال پاکستان کی کرنسی میں 14 فیصد کمی ہوئی اور یہ اپنی کرنسی کی قدر کھونے میں پہلے نمبر پر رہا ۔ پاکستان کے بعد ایشیا میں دوسرا نمبر بھارت کا ہے جس کی کرنسی 6 اعشاریہ 9 فیصد ڈی ویلیو ہوئی ۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کرنسی کی بے قدری ارجنٹائن میں ہوئی، ارجنٹائن کی کرنسی پیسو میں 32 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جس کے باعث انہیں آئی ایم ایف سے 50 ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑا ہے ، اس قرض کی منظوری گزشتہ ماہ ہی دی گئی ہے اور یہ آئی ایم ایف کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ ہے۔ ترک لیرا کی ویلیو میں بھی 22 فیصد کمی آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں