122

خاموش

کسی کی جرات کہاں 
کہ ایک لفظ بھی ہمارے بھلے یا بُرے کے لیے زبان سے نکالے.
سوال اٹھتا ہے! 
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟ 
ہاں ہاں ! اب تو اس سے بھی بُری حالت ہے یہاں.
آبلے نہ پڑے ہوتے
تو کون جانے
کس تاریک کوٹھڑی میں پڑے ہوتے.
اک انساں چیخ چیخ کہ کہہ رہا تھا 
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں 
پھر( غیب) سے غضب ناک آواز آتی ہے 
خاموش! 
ایسے ہی ہزاروں انسانوں کی آوازیں چیخ چیخ کے یہی کہہ رہی پر ،
ان سب آوازوں پہ وہی غضب ناک آواز ایک ہی بار آتی ہے 
خاموش! 
اور پھر کوئی کچھ نہیں بولتا.
ہاں مگر کچھ بہادر انساں بھی ہیں
اُن میں کچھ مسلماں بھی ہیں
جو اس غضب ناک آواز سے ڈرے بغیر
حق کی خاطر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں
ان میں وہی جو ، آدمی سے انساں بنے ہوتے ہیں
اور اُس آہ و فغاں سے
اپنی ہی زباں سے
بول اُٹھتے ہیں 
ہم تمہارے حق میں بولتے ہیں
آہ!
یہ آوازیں بھی تھوڑی سی ہوتی ہیں
یوں وہ اُس دبدبے والی آواز میں دب ہی جاتی ہیں
پر وہ دن ضرور آئے گا
ہر کوئی حق کا حق بجا لائے گا
کہ پھر اُ س غضب ناک آواز کیخلاف تھوڑی سی آوازیں نہ ہونگی
جو دب جائیں اور پھر نہ آئیں بلکہ اس زور سے آئیں گی
اندھیوں کی طرح سب اُڑا لے جائیں گی 
پھر کوئی نہ بچے گا
پھر کوئی نہ کہے گا۔۔ خاموش!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں