77

ٹرمپ پوتن ملاقات: کس کو کتنا فائدہ ہوگا؟

صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمر پوتن 16 جولائی کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسینکی میں ملاقات کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ رسمی ملاقات ہو گی مگر اس سے پہلے وہ غیر رسمی طور پر مختلف کانفرنسز میں ملاقات کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کی شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان سے گذشتہ ماہ ملاقات کے بعد اب روسی صدر سے ملاقات پر دنیا کی نظریں لگی ہیں۔ لیکن اس ملاقات کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں. 

اجلاس سے کیا امیدیں لگائی جائیں؟

اس سلسلے میں واشنگٹن میں مقیم بین الاقوامی امور کے ماہر کامران بحاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوے کہا ‘یہ زیادہ تر دکھاوے کے لیے ہو گا۔ یہ جو سارا معاملہ ہے کہ روس نے انتخابات میں ان کی مدد کی، وہ اس کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گئے۔ اس غرض کے لیے وہ روس کے خلاف سخت بیان بھی دے سکتے ہیں کیونکہ امریکی خارجہ پالیسی کے لحاظ سے صدر ٹرمپ پر کافی دباؤ ہے۔’

اس سلسلے میں جب میں نے تھینک ٹینک ‘بروکنگز انسٹٹیوٹ’ کے سنئیر فیلو سٹیون فائفر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس بارے میں انہوں نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ ‘امید تو ہے کہ روس اور امریکہ اس ملاقات کے ذریعہ یہ یقینی بنائے کہ دو طرفہ تعلقات کو مزید خراب ہونے سے روکا جائے۔ جوہری ہھتیاروں کو کنڑول کرنا ایجنڈے پر اہم ہو۔ یہ یقینی بنایا جائے کہ امریکہ روس پر عیاں کرے کہ اس پر عائد عالمی پابندیاں تب تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک وہ شمالی یوکرائن میں امن قائم نہیں کرتا۔’

لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ‘لگتا نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ اس ملاقات کے لیے مکمل تیار ہیں۔ اور اگر ایسا ہی ہوا تو پھر مثبت نتائج ملنا مشکل ہو ہو سکتا ہے۔ اور پوتن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باتیں کرنے کے ماہر ہیں۔ خدشہ ہے کہ محض ہاتھ ملائے جائیں گئے، تصاویر بنائی جائیں گی اور مشکل اور حل طلب معاملات جوں کہ توں رہ جاے گئے۔’
تحفظات کیا ہیں؟

اس سلسلے میں کامران بخاری نے شمالی کوریا اور امریکہ کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والی تاریخی ملاقات کی مکمل تفصیلات کے مطابق ان مذاکرات کا زیادہ فائدہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کو ہوا ۔ روسی سربراہ کو بھی اپنے ملک میں معیشت کی صورت حال کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے اور وہ اس ملاقات کو اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ تمام تر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے باوجود وہ امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔’ ٹرمپ کے ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس ملاقات سے روس کو رعایت مل سکتی ہے جبکہ ٹرمپ خالی ہاتھ لوٹ سکتے ہیں۔

نیٹو اتحادیوں کا ردعمل؟

روسی صدر سے ملاقات سے پہلے صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس کے لیے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز گئے۔ اجلاس میں صدر ٹرمپ اور جرمنی کی رہنما انگیلا میرکل کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا جہاں صدر ٹرمپ نے جرمنی پر الزام لگایا کہ وہ روس کے زیر اثر ہے کیونکہ وہ اس سے بڑے پیمانے پر گیس درآمد کرتا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا نیٹو میٹنگ پوتن سے ہونے والی ملاقات سے زیادہ دشوار ثابت ہوگی۔

اجلاس سے پہلے مقامی میڈیا کے مطابق انہوں نے سخت الفاظ میں ایک خط نیٹو کے اتحادیوں کو لکھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اتحادی ممالک دفاعی امور کے لیے امریکہ سے زیادہ پیسے کیوں لے رہے ہیں جبکہ وہ خود کم فنڈنگ کرتے ہیں۔ نیٹو کو خدشہ ہے کہ جی سیون کے اجلاس کی طرح ٹرمپ نیٹو اتحاد میں بھی پھوٹ ڈال سکتے ہیں۔ نیٹو کے اتحادی ممالک روس کو عالمی برادری کے لیے خطرہ مانتے ہیں اور اتحاد میں پھوٹ سے روس کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں