86

مذہبی سیاست اور مولانا فضل الرحمن

2018 انتخابات کے نتائج نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کے پاکستانی عوام اب مذہب کے نام پر کسی سیاسی جماعت کو ذاتی مفاد کا کھیل نہیں کھیلنے دیں گے۔ اتنے سالوں سے مذہب کا چورن بیچنے والے مولانا فضل الرحمان نے بھی ملکی سیاست میں اپنا مستقبل بچانے کے لیے ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیے ہیں۔ اپنی دونوں نشتوں سے عبرت ناک شکست کھانے کے باوجود کبھی حلف لینے سے انکار کا اعلان اور کبھی دیگر سیاسی جماعتوں کوحلف لینے سے انکار پر اکسانے کی کوشش، اور دوسری جانب، کبھی دوسری سیاسی جماعتوں سے الحاق کی کوشش۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے کو یہودی سازش اور عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دینے والے مولانا فضل الرحمان نے دوسری سیاسی جماعتوں بلخصوص پی ٹی آئی کو ہمیشہ مذہب کے لیے خطرہ قرار دیا۔

فضل الرحمان کبھی بھی پارلیمان میں اکثریت نہ حاصل کرنے کے باوجود ہر حکومت ِ وقت سے خوب پیٹ بھر بھر کے اقتدار اور اختیار کا حلوہ کھاتے رہے ہیں۔ فضل الرحمان جیسے کرپٹ حکمرانوں کو عمران خان کے سیاست میں آنے سے اپنا سیاسی مستقبل خطرے میں نظر آیا تو سب نے اپنے اپنے طریقے سے عمران خان کی بھرپور مخالفت کی۔ سیاسی مفاد کے لیے مذہب کو بیچنے والوں کو اپنی دکان بند ہوتی نظر آ رہی تھی۔ فضل الرحمان اچھی طرح جانتے تھے کے مذہب کے نام پر لوگوں کو اشتعال دلانا آسان ہے تو اُنہوں نے مذہب کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو اس بات پر ووٹ دینا شرعیٰ طور پر حرام قرار دیے دیا، کہ عمران ایک یہودی ایجنٹ ہے۔ 
مولانا نے مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی جماعت کو ووٹ دینے کو حرام قرار دینے کا فتوی جاری کر کے سیاست میں اپنا مستقبل محفوظ کرنے کی ناکام کوشش بھی کی، لیکن 2018 کے انتخابات میں پاکستانی عوام نے ذاتی مفاد کو ترجیع دینے والی مذہبی جماعتوں کو مکمل طور کو مسترد کر دیا۔ عوام اب باشعور ہو گئی ہے اور یہ بات جانتی ہے کے نفرت پھیلانے والوں میں سے بدترین قسم مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے اور تفرقہ پیدا کرنے والوں کی ہے۔ عوام یہ بات جان گئی ہے کے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے اور کافر کافر کھیلنے سے کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، بلکہ دوسرے ممالک سے دوستانہ تعلقات اور تجارت ترقی کے لیے ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں