102

عملی تبدیلی کی نظیر ، حاجی کیمپ ملتان

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جس گھر میں پیدا ہوں اس خاندان کیلیے شان ، اپنے علاقے کیلیے باعث عزت تو دوست و احباب کیلیے صد افتخار اور کچھ زیادہ ہی نمایاں کارکردگی پر شہر بھر کیلیے باعث اعزاز بن جاتے ہیں . ایسی ہی ایک شخصیت کا نام ” تبدیلی کیلیے بطور مثال” روزنامہ خبریں کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر میاں غفار احمد نے ملتان اور جنوبی پنجاب کی سیاست کے ضمن میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں حالیہ انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کو پیش کیا ہے . ایسی شخصیت جو تبدیلی برپا کرنے والوں کیلیے یقیناً مشعل راہ ہو سکتی ہے . کالم نگار کے الفاظ میں ” اگر کوئی تبدیلی دیکھنے کا خواہشمند ہے تو قاسم باغ پر واقع حج کمپلیکس چلا جائے جو حج پر جانے والوں کو سہولیات دینے کے حوالے سے پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے …. اللہ کرے اداروں میں بدنام اور کرپٹ افسران کی جگہ اس طرح کے نیک افسران لے لیں تو پاکستان جنت نظیر بن جائے گا ” . احباب و اہالیان ملتان بخوبی جانتے ہیں کہ میری مراد کوئی سیاسی ، مذہبی یا سماجی شخصیت نہیں بلکہ اس حج کمپلیکس کے منتظم اعلی ڈائریکٹر حج ملتان ملک ریحان عباس کھوکھر ہیں ، جو جب سے ڈائریکٹر حج ملتان بنے ہیں ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کیئے جا رہے ہیں . کئی ایوارڈز سے کیا نوازے گئے کہ ایوارڈ ہی کی شان بدرجہا بڑھ گئی . ان کا مسلک عبدالستار ایدھی اور مدر ٹریسا والا ہے یعنی خدمت ، خدمت اور صرف خدمت . خدمت خلق و حقوق العباد سے سرشار آپ اللہ اور نبی کے مہمانوں یعنی عازمین حج کی خدمت ایک الگ ہی جذبے اور ولولے سے کر رہے ہیں جو انتہائی قابل ستائش و تحسین ہے .

گزشتہ ادوار کے حاجی کیمپ میں حاجیوں کو لوٹا جاتا تھا . گرمی میں انکا برا حال ہوتا تھا . کئی حاجی تو گرمی کی شدت اور ناقص انتظامات کیوجہ سے بیہوش بھی ہو جاتے تھے . پچھلے سالوں میں بینکوں کو علیحدہ کمرے دیئے جاتے تھے جن کے یخ بستہ ماحول میں بیٹھے عملے کے ارکان حاجیوں کو باہر گرمی میں قطاروں اندر کھڑا کرتے اور لین دین کیلیے انکے درمیان ایک چھوٹی کھڑکی ہوتی . ریحان کھوکھر کے بقول انہیں گوارا نہ تھا کہ اللہ کے مہمان یوں گرمی میں کھڑے ہوں اور عملے کے افراد اے سی کے مزے لوٹیں .

امسال ڈائریکٹر حج ملتان ریحان کھوکھر کی انتھک کوششوں سے ایک نئی جدت متعارف کرائی گئی جس کا تصور کرنا بھی محال تھا . ایم بی اے کی تعلیم ، ٹیم لیڈنگ کی تربیت و تجربہ ، اور ملٹی نیشنل اداروں کی طرف سے تیس ممالک کے اسفار پر مبنی دیگر تجربات سے حاصل شدہ صلاحیتوں ، پر خلوص خدمت کے جزبے اور مثبت تبدیلیوں کیلیے پرجوش ولولے کے بل بوتے پر انہوں نے امرِ محال کو ممکن بنا دیا ہے . حج مشن سے منسلک منجملہ اداروں کی مقامی قیادت کو قائل کیا گیا اور اسکے نتیجے میں حاصل شدہ معاونت سے پندرہ ہزار اسکوئر فیٹ پر مشتمل ایک خوبصورت اور عالیشان مارکی استوار کی گئی جسکو اٹھارہ چلرز کے زریعے اسطرح یخ ٹھنڈا کر دیا گیا کہ بقول شخصے باہر آگ برس رہی ہے اور اندر ٹھنڈھ برس رہی ہے . یہاں اندر اٹھارہ کیبن یا بوتھ بنائے گئے ہیں جن میں حج مشن سے منسلک ائیر لائنز ، بینکس ، اسکاؤٹ رضاکار ، ویکسینیشن کیلیے محکمہ صحت ، پاسپورٹ و دیگر کیساتھ ڈائریکٹر حج کا اپنا بھی ایک بوتھ ہے جسمیں بیٹھ کر وہ تمام بوتھوں پر کام کی رفتار پر نظر رکھتے ہیں . ان تمام انتظامات کیلیے سرکاری خزانے یا دیگر اداروں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑا بلکہ بہترین منتظمانہ کاوشوں کی بدولت بینکوں کے حج مشن کے اخراجات میں سابقہ برسوں کی نسبت کمی آئی ہے . دوسرے لفظوں میں یہاں معاملہ ” کم خرچ بالا نشین ” والا ہے .

سٹاف کی سبک رفتاری کا یہ عالم ہیکہ نہ قطاریں ہیں نہ کہیں انتظار بلکہ جو بھی حاجی آتا ہے ایک ہی چھت کے نیچے اسکے تمام امور جلد از جلد نبٹا دیئے جاتے ہیں . ایک کاؤنٹر سے پاسپورٹ اور رسک بینڈ لیتا ہے ، دوسرے سے ائیر ٹکٹ ، تیسرے سے ویکسینیشن کرواتا ہے اور اس طرح اگلے کیبن سے غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے اور منٹوں میں فارغ ہو جاتا ہے . جہاں کہیں مشکل درپیش ہو تو سکاؤٹ رضاکار تعاون کیلیے موجود ہوتے ہیں . مختلف فلاحی اداروں کی جانب سے ہر آنے والے کو منرل واٹر کی ٹھنڈی بوتل ، کھانے کے وقت لنچ باکس ، دیگر سوفٹ ڈرنکس اور چائے بلا معاوضہ پیش کی جاتی ہے جبکہ دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کیلیے عارضی قیام کا بھی بندوبست کیا گیا ہے . ان تمام انتظامات اور سہولتوں کیساتھ ملتان کا حج کمپلیکس پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے حاجی کیمپوں سے بہت بہتر خدمات پیش کر رہا ہے .

دوسرے شہروں کے برعکس اور دیگر سالوں کی نسبت اس سال ملتان میں حج مشن کے دوران کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا . ملتان کی شدت کی گرمی میں مارکی کا خوشگوار ماحول ایک سماں پیدا کر رہا ہے جہاں رضاکار ، مختلف اداروں کا عملہ حجاج کرام اور انکے ہمراہ آنے والے رفقاء انتہائی سکون کیساتھ تمام معاملات نمٹاتے ہیں . تمام ضروری امور سے فراغت کیبعد بھی کئی وزٹرز ٹھنڈے اور کشادہ ماحول میں تا دیر بیٹھے رہتے ہیں جنہیں ہرگز بھگانے کی کوشش نہیں کی جاتی .

ملتان اور جنوبی پنجاب کے عازمیں حج کی گرانقدر اور بیمثال خدمات کیلیے ڈائریکٹر حج ملتان اور انکی ٹیم مبارکباد اور ستائش و تحسین کے مستحق ہیں .

پندرہ ہزار چھ سو عازمین حج کی خدمت کیلیے مارکی پر مشتمل یہ کیمپ جو مشن کے دوسرے اور تیسرے یا آخری مرحلے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا ، اس میں منجملہ شعبہ جات حجاج کی خدمت کا اپنا اپنا کام تیس دن تک جاری رکھیں گے . جبکہ اس سے قبل پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کی تمام

تحصیلوں کے لیے ایک مربوط پروگرام کے تحت 72 تربیتی پروگرام یوں منعقد کیے گئے تھے کہ ہر حاجی کو دو سیشنز میں شرکت کر کے تربیت کا موقع ملا . اے سی ھالوں میں تربیت پانے والے حجاج کی خدمت اور انکے لیے ٹریننگ سیشن کے دوران پانی طعام اور دیگر مشروبات کے بہتر انتظام کیلیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر اور مخیر حضرات کو موٹیویٹ کیا گیا تھا اور نتیجے کے طور پر پہلی بار تربیتی پروگرامز میں حجاج کرام کی سو فیصد شرکت کو یقینی بنایا گیا . اور آخر میں حج معلومات سے متعلق کوئز پروگرام کیے گئے اور جیتنے والوں میں سفری ٹرالی اور حج کٹ تقسیم کی گئیں . یوں اس سال ملتان حج مشن کے تمام مراحل پہلے سے بدرجہا بہتر اور پاکستان بھر کے دیگر کیمپوں سے خوب تر کارکردگی پر نمایاں و ممتاز رہے . اس سب کیلیے جہاں ضروری ہوا وہاں پرائیویٹ اداروں اور مخیر حضرات کی اعانت مستعار لی گئی . ولولہ انگیز و ایماندار قیادت اور مستعد ٹیم میسر ہو تو کوئی کام رکتا نہیں . سنجیدہ کام ہوتا دیکھ کر مخیر حضرات بھی کار خیر میں حصہ ڈالنے کیلیے کوشاں ہو جاتے ہیں . اقبال کے بقول ” زرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی”..

ڈائریکٹر حج کے کیبن میں بیٹھا میں اس نئے انتظام کا مشاہدہ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ تصور ہی تصور میں قبل از اسلام کی تاریخ کی ورق گردانی بھی کر رہا تھا . تاریخ کے جھروکوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حجاج کرام کی خدمت کو سعادت کا کیسا اعلی مقام سمجھا جاتا تھا . مکے کے قبائلی معاشرے میں جہاں کوئی حکومت تھی نہ کوئی ادارے تھے اور نہ ہی وزارتیں . ایسے کسی مشترکہ انتظام و انصرام کی عدم موجودگی میں بھی اگر کوئی نظام تھا تو فقط تین شعبہ جات تھے جن کا انتظام تین مختلف قبائل نے سنبھالا ہوا تھا جن میں کسی کی بھی شمولیت یا مداخلت ناقابل قبول سمجھی جاتی تھی . وہ تینوں شعبے نہ دفاع سے متعلق تھے نہ مذہبی پیشوائیت کے تھے اور نہ ہی امنِ عامہ سے انکا لینا دینا تھا بلکہ وہ تینوں کے تینوں شعبہ جات حجاج کی مختلف خدمات سے متعلق تھے . جن پر تین قبائل نے بلا شرکت غیرے اپنا حق منوایا ہوا تھا . ایک شعبہ تو ’سقایہ‘ یعنی پانی کے انتظام کا تھا جو بنو ھاشم نے سنبھالا ہوا تھا . مکے میں پانی کی کمیابی کیوجہ سے بنو ھاشم دور دراز سے پانی لا کر بیت اللہ کے قریب بنے چمڑے کے حوضوں میں جمع کرتے جن سے ہزاروں حاجیوں کو پینے کیلئے پیش کیا جاتا تھا . یوں حجاج کی اس خدمت کی بدولت اس معاشرے میں بنو ھاشم کا جو ایک خاص و ممتاز مقام تھا وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں .

اس تاریخی حقیقت اور آج کے معروضی حالات کی روشنی میں حجاج سے متعلق خدمات کے ضمن میں ایک بڑا فرق ظاہر ہوتا ہے . خدمتِ حجاج کے لئے آج کے مسلم معاشروں میں وہ شوق ، لگن یا جزبہ نہیں رہا جو کبھی طلوع اسلام سے قبل کے مکی معاشرہ کا خاصہ تھا . آج ہر موڑ پر حجاج کو لوٹنے والے موسمی ڈاکو موجود ہیں . ویزہ بھلے فری ہے مگر ایجنٹ کو بہرحال بطور تاوان دینا پڑتا ہے . ائیر لائنز جو ہر روٹ پر نقصان اٹھا رہی ہوتی ہیں ، اجارہ داری کے زریعے صرف اسی روٹ پر اتنا کمانا چاہتی ہیں کہ نقصانات کی تلافی حجاج کو مہنگے داموں ٹکٹس بیچ کر کی جاتی ہے . ہوٹلوں میں حفظانِ صحت کیمطابق سہولیات نہیں دی جاتیں . گویا ہر شعبہ کے شکاری حجاج کو چن چن کر شکار کر رہے ہیں .

ایک ایسا اعزاز جو قبائل لڑ کر حاصل کرتے تھے اور پھر حجاج کی خدمت کے اس حق میں کسی کو شامل نہیں کرتے تھے ، یہ اعزاز ہمیں مل سکتا ہے مگر ہم حاصل ہی نہیں کرنا چاہتے ، الٹا ان حجاج کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹتے ہیں ، خوامخواہ ستاتے ہیں ، چکر پر چکر لگواتے ہیں ، گرمی میں لائنوں میں لگا کر خود ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں بیٹھتے ہیں ، اور پھر بھی سب سے اچھا مسلمان خود کو سمجھتے ہیں جبکہ ان معاملات میں ہم سے تو کہیں بہتر مشرکین مکہ تھے .

ایسے میں ڈائریکٹر حج ملتان کی مخلصانہ کاوشیں اور انکی بدولت بہترین انتظامات حاجیوں کیلئے جہاں باعث راحت و قرار ہیں وہاں دوسروں کیلیے قابل تقلید مثال بھی ہیں . انکو کام کرتا دیکھ کر انسپائریشن ملتی ہے . یہی وجہ ہیکہ میں نے بھی ارادہ کیا ہیکہ انشاءاللہ اگلے سال ایک ماہ کیلئے حجاج کرام کی خدمات کیلئے خود کو پیش کروں گا .

احباب دیگر سے بھی گزارش ہیکہ آئندہ سال رمضان کیبعد ڈائریکٹر حج سے رابطہ کر کے اس کار خیر کیلئے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کریں . اور پھر آپ چاہے حج کیمپ میں ہوں یا ائیر پورٹ کے حج ٹرمینل پر دامے ، درمے ، قدمے ، سخنے ، جیسے بھی ممکن ہو خدمتِ حجاج کے اس مشن میں امداد ضرور کیجئے .

ڈائریکٹر حج ملتان برادر ریحان کھوکھر سے گزارش ہیکہ مختلف این جی اوز ، سماجی تنظیمات ، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء ، ریٹائرڈ ملازمین اور سماج کے دیگر طبقات کے نمائندہ افراد پر مشتمل رضاکاروں کی ایک فورس تیار کی جائے جسے سکاؤٹ اور وزارت حج کے ماہرین تربیت دیں تاکہ ایسے مواقع پر اپنی خدمات پیش کر کے قرب الہی حاصل کر سکیں .

ریحان عباس کھوکھر نے مقامی یونیورسٹی میں ڈاکٹر آف فارمیسی اور ایم بی اے کرنے کیبعد ایک امریکی ملٹی نیشنل کمپنی میں بطور پراڈکٹ مینیجر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور چار سال کے مختصر عرصے میں کمپنی کے نیشنل ھیڈ بنا دیئے گئے . اس کمپنی کی طرف سے بہترین ٹریننگ کیلئے پینتیس ممالک کے اسفار کیئے جن کے دوران کسٹمر سروسز ، لیڈرشپ ، مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کی تربیت حاصل کی . 2011 میں سرکاری ملازمت سے وابسطہ ہوئے اور جس جس شعبے میں بھی گئے سابقہ تربیت و تجربات کی روشنی میں مثبت تبدیلی لانے کی حتی المقدور سعی کی اور بالآخر جب سے بطور ڈائریکٹر حج ملتان تعینات ہوئے ، اس شعبے میں جہاں خدمات کی بے پناہ گنجائش تھی ، اپنی لگن سے ایک انقلاب برپا کر دیا ہے . حالیہ کیمپ ، انکی قیادت میں ڈائریکٹوریٹ حج ملتان ، مختلف محکموں اور مخیر حضرات کے باہم اشتراک سے خدمت کے ایک بہترین مثال ہے . اتنے سنگ میل عبور کرنے کیبعد بھی انہیں قرار نہیں بلکہ مزید بہتری کیلیے سرگرداں اور پر عزم ہیں . دعا ہیکہ رب کریم انکو اپنے مہمانان کی خدمت کے وسیلے سے مزید رفعتوں اور کامرانیوں سے نوازے ، آمین .

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں