148

آہ !ضیغم سے بھی زندگی جینے کا حق چھین لیا گیا

ڈرو اس وقت سے کہ آسماں پتھروں کی بارش برسانے لگے اور زمین چھپنے کی جگہ نہ دے ،ڈرو اس وقت سے کہ زمین گھومنے کی بجائے اچھلنا شروع کر دے اور آسماں مدد کو نہ آئے ، ڈرو اس وقت سے کہ سمندروں کا پانی اپنی سمت بھول جائے اور ڈرو اس وقت سے بھی کہ یہ ہوائیں آندھیوں کی شکل اختیار کر لیں ۔یہ میں کوئی قومِ لوط کے پہ گزرے عذاب کی کہانی نہیں سنانے لگا یا قومِ نوح پہ گزرے عذاب کی یا قومِ عاد کو تباہ کرنے والے عذاب کی کی کہانی نہیں سنانے لگا ہوں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا نے پچھلی امتوں پر ان کے کیے بُرے عملوں کے سبب جو عذاب نازل کیے وہ اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کیے تاکہ بعد کے امتی عبرت حاصل کریں اور خدا سے ڈرتے رہیں ۔ مگر یہ کہنا کسی طور غلط نہیں کہ ہم نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم خدا سے نہیں ڈرتے اور ایسے ایسے کام کرنا شروع ہو گئے جن کے لیے خدا نے خبردار کیا اور سخت عذاب کی خبر دی ۔

اس معاشرے میں آئے دن ایسے دردناک واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ جن کا تصور بھی پرانے وقتوں میں انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا تھا۔اب تصور تو بہت پرانی بات ہے انسان سرِ عام ایسے کام کر گزرتا ہے کہ جانور بھی اُسے دیکھے شرمندہ ہوتا ہے ۔دو دن پہلے جو قیامت گزری ضیغم اور ضیغم کے اپنوں پر وہ کوئی کسی قدرتی عمل کا نتیجہ تو نہ تھی ،اسی انسان کے برے عمل کا نتیجہ تھی ۔ضیغم پر تو قیامت گزر گئی اور جو اس کے اپنو ں پر گزر رہی ہے اور گزرتی رہے گی اس کا کیا ؟ آہ ! اب وہ احساس بھی کہاں باقی ہے کہ کسی کے دکھ درد میں کوئی تکلیف محسوس کرے یا کوئی بے چین ہو جائے ۔ اب تو کسی کو تکلیف تبھی محسوس ہوتی ہے جب اس کی ذات کو کوئی تکلیف پہنچے ، بھلا کسی دوسرے کی تکلیف کو کوئی کیونکر محسوس کرے کہ جب اپنی ذات کے علاوہ کسی کو کچھ دکھتا ہی نہیں ۔

ہماری زندگی کوئی گزار دے 
ہمارے بس کی بات,اب رہی نہیں 

مجھے رونا آیا جب ضیغم کا دس دن پہلے کا پیغام پڑھا ۔ ایک ہفتہ پہلے ضیغم نے یہ بات فیس بک پر لکھی اور پھر ہفتے بعد اس نے اپنی زندگی کسی کو سونپ دی ۔ اُسے شاید اندازہ تھا کہ کوئی اُسے کچھ پل اور زندگی گزارنے نہیں دے گا ۔ ضیغم کے ساتھ جو ہوا اسے لکھنا میرے بس کی بات نہیں ۔ ضیغم تو نہ رہا پر اس کی زندگی چھیننے والے ابھی بھی ہیں ۔ حق تو یوں ہے کہ انہیں بھی زندگی گزارنے نہ دی جائے ۔مگر یہاں ایسا کچھ نہیں ہونے والا، یہاں انسان کا بنایا ہوا قانون صرف لفظ قانون ہی مانا جاتا ہے اور انصاف بھی لفظ انصاف ہی جانا جاتا ہے ۔ایسے لوگوں کو اس لفظی قانون سے کوئی ڈر ہے نہیں جو جرم پہ جرم کیے جا رہے ہیں۔ 

اسی رواں سال میں ہی کتنے ایسے جرائم ہو چکے ہیں ، المیہ یہ نہیں کہ ان ہوئے جرائم پر افسوس کیا جائے المیہ یہ ہے کہ وہی جرائم حد درجے کی شدت اختیار کر چکے ہیں اور مسلسل ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔آخر ایسے خطرناک جرائم کو روکنے کے لیے ہمارے ادارے کیوں مثبت پیش رفت نہ کر رہے ۔ ہونا تو یوں چاہیے کہ جرم کو روکنے کے لیے اس بات کی طرف توجہ دی جائے کہ جرم پیدا کہاں سے اور کن عوامل سے ہوا ؟ اور پھر وہا ں سے جرم کو روکنے یا ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Noto Nastaliq Urdu UI’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں