93

کیا تبدیلی کے ساتھ سوچ اور قانون بھی تبدیل ہو گا؟

سمندر پار پاکستا نیوں کو پیارے پاکستان سے بہت سی اُمیدیں وابستہ ہیں کیونکہ پاکستان میں بہت کچھ تباہ ہوا پڑا ہے، اور پچھلی کئی دہائیوں سے حکمران اپنا پیسا بنانے میں اتنے مگن تھے کہ خدا کو ہی بھوُل گئے تھے، اور اس بات سے بےخبر تھے کہ اللہ ہر فرعون کے لئے موسیٰ ضرور بھیجتا ہے اور شائد اب وہ وقت آنے والا ہے ۔

ہماری تعلیم ،ہماری پولیس ہمارا ہیلتھ سسٹم سب کچھ برباد ہو گیا ہے۔لیکن مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات سے لگ رہا ہے کہ ہم لوگ سوشل میڈیا پر اور ہمارے مولوی سپیکر پر کافر کافر کھیل رہے ہیں اور نفرت پھیلا رہے ہیں اس سے پاکستان کا امن خراب ہو رہا ہے، اور ملک میں دن بدن لاقانونیت بڑھ رہی ہے۔ ہم لوگ پاکستان سے باہر  غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں اور ہمیں یہاں کبھی اس بات پرمجبور نہیں کیا جاتا کہ چرچ جاؤ یا کرسمس مناؤ بلکہ ہمیں یہاں پوری آزادی کے ساتھ ایک مسلمان کے طور پر اپنی  زندگی گزارنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

دنیا کے تمام ممالک میں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں لیکن جو ظلم  برما اور انڈیا کے مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔اب آتے ہیں پاکستان طرف پاکستان جب سے بنا تھا تب سے پاکستان میں ہر مذہب کے کچھ لوگ رہتے ہیں ۔پاکستان ان کا بھی ملک ہے وہ بھی آزادی سے رہنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔لیکن ہم انکے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور اسلام کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں ۔اوران کو آزادی سے رہنے کی اجازت نہیں دیتے ہم مودی بنے ہوئے ہیں۔جیسے وہ زبردستی مسلمانوں کو گائے کی پوجا کرانا چاہتا ہے ۔یہ ظلم اپنے ملک میں رہنے والوں کی زندگی تنگ کر دی جاتی ہے اور نفرت کابیج بویا جارہا ہے۔
نئے پاکستان میں اگر قانون مظبوط ہو تو اقلیتوں کے لئے ضرور قانون ہونا چاہئے انکو اپنے حقوق دینے چاہے جو ہمیں باہر آکے ملتے ہیں ۔اگر مودی ظلم کرے یا برما میں ظلم ہو تو ہمارے مولوی محلے کی گلی میں نکل آتے ہیں اور اپنے گلے پھاڑ دیتے ہیں لیکن جو کام خود اپنے ملک میں کر رہے ہیں بلکہ شوکت عزیز صدیقی بھی ممتاز قادری کو جب جنت بھیج رہے تھے تو اقلیتوں پہ بہت گرج رہے تھے وہ پاکستان میں رہتے ہیں اسلئے انکو ٹارگٹ کرنا آسان ہے ورنہ کبھی نہیں سنا کہ مولوی کبھی باڈر پہ گئے ہوں یا کسی دوسرے ملک میں اقلیتوں کو مار آئے یا کسی برما کے یا شام کے مسلمان کی مدد کی ہو یا اپنے نظرانے کے پیسوں سے کسی کو پناہ دی ہو لیکن بس محلے میں گلے پھاڑنا اور کافر کافر کہنا تو آسان ہے جو یہ کرتے ہیں ۔

اسلئے اقلیتوں کے تحفظ کے لئے  قانون پر ضرور عمل درآمد ہونا چاہئے اکیسویں صدی  کے پاکستان میں  دوسری صدی کی یہ مولویوں کی سوچ موجود ہے جسے بدلنا بہت ضروری ہے ۔اب تو ایک پڑھا لکھا وزیراعظم آیا ہے تو سوچ بھی تبدیل کرنی ہوگی ورنہ عرب شیعہ سنی کا کھیل کھیلتے ایسے تباہ ہوئے ہیں کہ انکے ممالک کا حشر   دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اللہ پاکستان کو قائم رکھے پاکستان زندہ باد۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں