Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




امریکہ میں روزگار کے 10 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا چینی منصوبہ منسوخ


انٹرنیٹ خرید و فروخت سے متعلق چین کی سب سے بڑی کمپنی علی بابا کے چیئرمین جیک ما نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے امریکہ میں روزگار کے دس لاکھ مواقع فراہم کا اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔

جیک ما نے اپنے پروگرام کی منسوخی کے فیصلے کا الزام دنیا کی دونوں عظیم معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ پر لگایا۔

چین کے خبررساں ادارے سہنوا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ علی بابا کمپنی کے سربراہ ما کا کہنا ہے کہ اس وعدے کی بنیاد چین اور امریکہ کے درمیان دوستانہ تعاون اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا تھا۔ جب کہ موجودہ صورت حال نے منصوبے کے اس بنیادی پہلو کو ہی تباہ کر دیا ہے۔

جیک ما نے شروع میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ امریکہ کے چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کو اپنی مصنوعات علی بابا کے پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔

علی بابا کا شمار انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں کیا جاتا ہے۔

جیک ما نے یہ وعدہ دو سال پہلے اس وقت کیا تھا جب انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔

صدر ٹرمپ چین کی 200 ارب ڈالر مالیت کی امریکہ کے لیے درآ مدات پر 10 فی صد ٹیکس نافذ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر چین نے جوابی اقدامات کیے تو اس کی مزید 267 ارب ڈالر کی درآ مدات بھی نئے ٹیکسوں کی زد میں آ جائیں گی۔

چین نے جواباً 60 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر ٹیکس لگا دیے ہیں۔

منگل کے روز سرمایہ کاری سے متعلق علی بابا کی ایک کانفرنس میں جیک ما نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت معاشی تعلقات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ ان کے اثرات کئی عشروں تک جاری رہ سکتے ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.