Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




2017ء کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں کمی آئی ہے: رپورٹ


واشنگٹن — انسدادِ دہشت گردی کے امریکی ادارے کے رابطہ کار ایمبیسڈر نتھن اے سیلز نے بدھ کے روز مختلف ملکوں میں ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں سالانہ رپورٹیں جاری کی ہیں۔

پاکستان کے متعلق رپورٹ میں خاص طور پر سال 2017ء میں کیے گئے ٹھوس اقدامات کو سراہا گیا ہے، جن میں مختلف نوع کے قوانین منظور کرنے اور صوبہٴ پختونخوا، سابق فاٹا اور خاص طور پر افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں فوج کی جانب سے جاری کارروائی کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔

اس میں پاکستان کے ’قومی ایکشن پلان‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہے، جس میں کئی قسم کے مؤثر اقدام شامل ہیں؛ جن میں منی لانڈرنگ، ہنڈی اور حوالہ کو روکنا بھی شامل ہے۔

اس میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے بنائی گئی خصوصی فوجی عدالتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی تاکہ ایسے شہریوں پر مقدمے چلائے جا سکیں جن پر دہشت گردی کا الزام ہو۔ تاہم، ناقدین دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’یہ فوجی عدالتیں شفاف نہیں ہیں، جنھیں مبینہ طور پر متمدن سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں کو خاموش کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے‘‘۔

سال 2017 میں فوجی عدالتوں نے مقدموں کے بعد کم از کم 15 دہشت گردوں کو پھانسیاں دیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں پاکستان بھر میں متعدد ہولناک دہشت گرد حملے ہوئے۔

سال 2011 اور 2017ء کے درمیان ’تحریک طالبان پاکستان‘ نے حکومت پاکستان اور ملک بھر کے شہری اہداف کے ساتھ ساتھ امریکی اہداف کے خلاف حملے جاری رکھے۔

رپورٹ میں حقانی نیٹ ورک کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کالعدم تنظیم 70 کی دہائی میں بنی تھی، جس نے کئی ادوار دیکھے اور اس کے بانی جلال الدین حقانی کے اسامہ بن لادن سے قریبی رابطے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ اس کالعدم تنظیم کے پاکستان افغانستان سرحدی علاقے میں محفوظ ٹھکانے ہیں؛ جس میں زیادہ تر افغان طالبان ہیں، جس کی نفری 10000 سے زیادہ ہے۔ یہ علاقے میں القاعدہ اور لشکر طیبہ کی دہشت گرد تنظیموں سے مل کر حملے کرتے ہیں، جن میں کابل پر متعدد خونریز حملے شامل ہیں۔ تاریخی طور پر اس تنظیم کے پاکستان کے قبائلی علاقے میں جڑیں رہی ہیں۔

’تحریک طالبان پاکستان‘ (ٹی ٹی پی) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ 2007ء میں وفاقی قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کی کارروائی کی مخالفت میں بنی اور دہشت گرد تنظیم کے طور پر پاکستان و افغانستان میں کارستانیوں میں مصروف رہی ہے، جس کے تانے بانے القاعدہ سے ملتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کو 2010ء میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ بیت اللہ محسود کے بعد ملا فضل اللہ اس کا سرغنہ تھا جسے 2018ء میں ہلاک کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014ء میں ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان کے ساتھ امن بات چیت کا آغاز کیا، لیکن اُسی سال جون میں یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اکتوبر، 2014ء میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے سرکردہ ترجمان اور پانچ علاقائی کمانڈر تحریک سے علیحدہ ہو گئے اور کھل کر داعش کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے ٹی ٹی پی کا مقصد حکومت پاکستان کو فاٹا اور خیبر پختونخوا سے باہر نکالنا ہے، اور پاکستانی فوج اور ریاست کے خلاف دہشت گردی کے ذریعے لڑ کر واگزار کرائے گئے علاقے میں شریعت نافذ کرنا ہے۔

قبائلی پٹی کو استعمال کرتے ہوئے، ٹی ٹی پی افغانستان پاکستان سرحد کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقے میں اپنے کارندوں کو تربیت دینے اور حملے کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ٹی ٹی پی کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ہیں، جس سے وہ نظریاتی احکامات لیتی ہے۔ ساتھ ہی اسے افغانستان پاکستان سرحد پر پشتون علاقوں میں محفوظ ٹھکانے میسر آتے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم کالعدم ’جیش محمد‘ اور ’لشکر طیبہ‘ علاقے اور برصغیر کے لیے اب بھی خطرے کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توجہ سے ہٹے رہنے کی کوشش میں کچھ ایسے دہشت گرد اور انتہاپسند دھڑے بھی ہیں جو داعش یا القاعدہ سے دور ہیں، جو یہ خیال کرتے ہیں کہ بدنام بین الاقوامی دہشت گرد جال سے بچ کر وہ زیادہ مہارت، وسائل تک رسائی اور مقبولیت کے درجے پر قائم رہ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2017ء میں امریکہ اور دنیا بھر میں اُس کے اتحادیوں کو درپیش دہشت گردی میں خاص کمی واقع نہیں ہوئی، بلکہ اس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس میں کالعدم ’لشکر جھنگوی‘ کا ذکر کیا گیا ہے، جسے ٹی ٹی پی کی حمایت حاصل ہے، اور وہ فرقہ وارانہ حملوں کی وارداتوں میں ملوث رہی ہے، جن میں شیعہ اور مسیحی شامل ہیں۔

’جیش محمد‘ کے ساتھ ساتھ، ’تحریک الفرقان‘، ’خدام الإسلام‘ اور ‘خدام اسلامی‘ کے دھڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کالعدم تنظیم 26 دسمبر 2001ء میں بنی، جس کے بانی ’حرکت المجاہدین‘ کا سرغنہ مسعود اظہر تھا۔ ’جیش محمد‘ ڈینئل پرل کے قتل اور ممبئی دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔

’داعش خوراسان‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس تنظیم کو 14 جنوری، 2016ء میں کالعدم غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ یہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں متعدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جن میں خودکش حملے، اغوا، بم دھماکے، افغان نیشنل سکیورٹی اور بین الاقوامی فوجوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ حافظ سعید خان اس کے سرغنہ تھے جنھیں 2016ء میں ہلاک کیا گیا، جس کے بعد عبدaلحسیب اس کا لیڈر بنا، جسے مشترکہ افغان اور امریکی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔ اب اس کی سربراہی ابو سید کرتے ہیں۔

کابل کے علاوہ، یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان میں حملوں کی کارستانیاں کرتی رہی ہے۔ کوئٹہ کے قریب شاہ نورانی کے مزار پر نومبر 2016 کا حملہ جس میں 50 سے زائد زائرین ہلاک ہوئے؛ جب کہ سندھ کے شہر سہون شریف میں لال شہباز قلندر کے مزار پر حملہ کیا گیا جس میں کم از کم 88 افراد ہلاک ہوئے۔

’انڈین مجاہدین‘ دہشت گرد تنظیم کا ذکر کیا گیا ہے جو بھارت، نیپال اور پاکستان میں سرگرم بتائی جاتی ہے۔

’حزب المجاہدین‘، جسے 17 اگست، 2017ء میں کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا، مبینہ طور پر کشمیر میں سرگرم عمل رہی ہے۔

ساتھ ہی ’حرکت المجاہدین‘، جسے 8 اکتوبر 1997ء کو کالعدم قرار دیا گیا تھا؛ کے علاوہ ’حرکت الانصار‘، ’جمعیت الانصار‘، ’الفاران‘، ’الحدید‘، ’انصارالامہ‘ کے دھڑے سرگرم ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.