Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




فرقہ واریت اور اقلیتوں پر مظالم امن دشمن ہیں۔


پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں عاطف میاں کو وزیراعظم کا مشیر بنانے پر کچھ لوگوں نے محاذ کھولا ہوا ہے، جیسے یہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہو۔ میرا اس بات سے اتفاق اسلئے نہیں ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور انکو پورے حقوق دیے جاتے ہیں ۔ان پہ کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی ۔ہم خود کشمیر کے لئے ،شام کے لئے ،برما میں مسلمانوں کے خلاف کیے گئے مظالم پہ آواز اٹھاتے ہیں تو پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف یہ نفرت کیوں پھیلائی جارہی ہے۔ہم کیوں عرب ملکوں میں مذہب کے نام پہ لائی گئی تباہی کو نہیں دیکھ پار ہے ہیں۔ہمیشہ سے مذہب کے نام پہ چھیڑی گئی جنگ سے ملک تباہ ہوئے ہیں۔پاکستان میں بہت مشکل سے امن آنے لگا ہے تو کچھ لوگ یہ چنگاری کیوں لگا رہے ہیں۔

پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اس بات کی علامت تھا کہ یہاں اور مذہب کے لوگ بھی ہونگے ۔ہم میں سے کتنے لوگ ہونگے جو اس بات پہ شور مچا رہے ہیں اگر انکو کہ دیں کہ چھ کلمے یا جنازہ سُنا دیں تو آپ یقین کریں آدھی اسمبلی کو نہیں آتا ہوگا ۔لیکن گلہ اعوام پہ بھی نہیں ہے ہمیں تیس سالوں میں نعرے مارنے اور مغل اعظم کے خاندانوں کی غلامی پہ لگایا گیا تھا اور ہم اتنے غلام بن چکے ہیں کہ اپنی سوچ تو کبھی استعمال ہی نہیں کی جو بادشاہ سلامت کے منہ سے نکلے وہی ہمارا نعرا ہوتا ہے۔

جب لندن میں ایک مسلمان صادق میئر بن سکتا ہے تو پاکستان میں اقلیتوں کو اعلی عہدہ کیوں نہیں دیا جاسکتا ۔لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہم نے پاکستانی قوم کو اس قدر گروہوں میں تقسیم کردیا ہے کہ اگلے کئی سال لگیں گے اکٹھا کرنے میں ۔ایک قوم بنتی ہے ایک سوچ سے اور ایک سوچ آتی ہے ایک جیسی تعلیم سے جب تک ایک جیسی تعلیم نہیں ہوگی ایک سوچ نہیں آۓ گی اور جب تک امیر غریب کے لئے ایک قانون نہیں ہوگا انصاف نہیں آۓ گا ۔ہم مسلمان یورپ میں وہاں کی پارلیمنٹ تک رسائی حاصل کر چکے ہیں، اور برابر کے حقوق حاصل کئے ہوئے ہیں۔

چوہدری سرور صاحب نے قرآن پہ حلف لیا تھا کسی نے منع نہیں کیا تھا ۔تو افسوس ہوتا ہے جب گھر جل رہا ہو اور مکین کافر کافر کھیل رہے ہوں کبھی ہمیں لیڈر اشارہ دے تو اپنے ہی ملک کی فوج کے خلاف کبھی اپنے ججز کے خلاف اور اب پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے خلاف جو پاکستانی ہیں ۔اور باہر ہماری اتنی اوقات نہیں کہ برما کے یا شام کے مسلمانوں کو پناہ دے دیں جبکہ بنگلہ دیش بھی برما کے لوگوں کی مدد کر رہا ہے اور ہمارے ہوائی فائر بس پاکستان کے اندر کی اقلیتوں کے خلاف ہی کھلتے ہیں ۔امداد ہم عیسائیوں سے لیتے ہیں نیشنلٹئ ہم انکی لیتے ہیں اور اپنے ملک سے پیسا چوری کرکے انکے ملکوں میں رکھتے ہیں ۔اور پاکستان کے اندر ہماری غیرت اور ہمارا دین جاگ جاتا ہے۔ایک کہاوت ہوتی تھی کہ فلاں گھر کا شیر اور باہر کی بلی ہے۔

ہم پاکستانی وہی ہیں اور یہ نہیں سوچ رہے کہ شیہ سُنی کا کھیل عرب میں شروع ہوا تھا تو ان ممالک کا انجام ہمارے سامنے ہے ۔اللہ نہ کرے کہ یہ کافر کافر کھیلتے ہوئے ملک کو تباہی کی طرف لے جائیں، میری دعا ہے کہ اللہ اس قوم پہ رحم کرے۔مکہ میں آگ لگی تھی سب لوگ بالٹی بھر بھر پانی لا رہے تھے تو ایک چڑیا جاتی چونچ میں پانی بھر کے لاتی تو لوگوں نے مذاق بنایا تو چڑیا کہنے لگی مجھے اپنی طاقت اور اوقات کا پتا ہے کہ لیکن میں اسلئے سب کر رہی ہوں کہ کل اپنے آپ سے سوال کروں یا اللہ مجھ سے سوال کریں تو یہ نہ کہہ سکوں کہ میں نے کوششش نہیں کی تھی ۔ہماری بھی یہی حالت ہے وہاں بڑے بڑے خا دم رضوی اور مولانا ہیں جو جنت ،دوزخ کا فیصلہ خود کررہے ہیں ۔لیکن یہ کھیل کوئی اچھا کھیل نہیں پاکستان کا امن خراب ہوگا اللہ پاکستان کو آباد رکھے (امین)

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.