Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




ملک کے مسائل اور ٹیکسوں کا حصول


پاکستان اور ہندوستان میں پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کیا جو کہ کسی بھی طرح دلچسپی سے خالی نہیں۔ جتنے مسائل بیان کیے جا رہے ہیں اتنے ہیں نہیں۔ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 123 ہندوستان میں 72 روپے پاکستان میں پٹرول 92 روپے اور بھارتی دارالحکومت دہلی میں 80 جبکہ ممبئی میں 88 روپے فی لیٹر ہے ۔ جو پٹرول ہم کو پاکستان میں 92 روپے میں مل رہا ہے اس کی بھارتی روپیہ میں قیمت 53 روپے اور بھارتی دارالحکومت دہلی میں ملنے والا پٹرول 80 روپیہ جو کہ 136 پاکستانی روپیہ فی لیٹر بنتی ہے اور ممبئی میں 150 پاکستانی روپیہ فی لیٹر بنتی ہے۔پاکستان میں بھارت کی نسبت بہت بہتر صورتحال ہے۔گورنمنٹ کو ٹیکس میں اصلاحات کرنی چاہیں اور ہر گھر اور دکان سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ نیب کے سابق سربراہ فصیح بخاری نے لگ بھگ پانچ سال پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 7 ارب روپیہ کی کرپشن ہوتی ہے۔

کسی معاشی ماہر کی بجائے سابقہ چئیرمین نیب اور ان کی ٹیم جو کہ یقیناً ابھی بھی موجود ہے سے پوچھنا چاہیے کہ بتائیں کہاں کہاں کرپشن ہو رہی ہے تاکہ اس پر قابو پایا جا سکے۔ اگر ہم کرپشن کی اسی رقم کو ٹیکس میں بدلنے کی کوشش کریں تو سالانہ تقریباً 2200 سے 2500 ارب روپیہ کی خطیر رقم حاصل ہو سکتی ہے۔جس سے ملک کے معاشی حالات بھی بہتر ہوں گے اور ہم اپنی ضروریات کے لیے ڈیم بنانے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔ ملک کو چلانے کے لئے ٹیکس میں اضافہ کرنے کی اور کرپشن پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہم اگر سنجیدگی سے کوشش کریں تو سب کچھ ممکن ہے۔پورے ملک میں سرکاری خدمات کو حاصل کرنے کے لئے کرپشن ہو رہی ہے جبکہ سرکاری فیس یعنی ٹیکس بہت کم اکٹھا ہو رہا ہے۔ پولیس اور عدالتی نظام میں بہتری کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔پولیس میں تفتیشی نظام کو صاف و شفاف اور مفت بنانے کے لئے ایک برطانیہ طرز کا قانون پاس کیا جا سکتا ہے جس کی رو سے سرکار کے دوران ٹرائل مقدمہ پر آنے والے تمام اخراجات بشمول عدلیہ کے عملہ اور پولیس آفیسرز کی تنخواہیں مقدمہ ہارنے والا فریق بصورت جرمانہ ادا کرے گا جس سے جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو گی مزید پولیس اور عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ کم ہو گا۔

 پولیس کے کاروائی (جعلی کاروائی) کے مقدمات کا خاتمہ کیا جائے جو کہ نظام پر بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں ۔منشیات کے کاروبار کا خاتمہ کیا جائے جو کہ نوجوان نسل کو تباہ و برباد کر کے جرائم کی دنیا میں لانے کا سبب بنتا ہے۔ ناجائز اسلحہ کے مقدمہ اور منشیات پینے والوں کو فوری طور پر بھاری جرمانہ کیا جائے۔ جہاں سے اسلحہ اور منشیات خرید کی گئیں ہوں ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔دہشت گردی اور جرائم کا بے روز گاری اور ناانصافی سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔روزگار اور انصاف کی فراہمی سے معاشرہ میں امن و امان قائم ہو گا جو کہ حکومت کی نیک نامی کا سبب بنے گا۔ ٹریفک رولز پر سختی سے عمل کروایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کیے جائیں جس سے ٹریفک حادثات میں کمی آئے گی اور حادثات کی صورت میں ہونے والے اخراجات پر بھی قابو پایا جا سکے گا نیز بھاری جرمانوں سے ملکی آمدن میں اضافہ ہو گا۔ 

تمام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکل پر سالانہ ٹیکس مقرر کیا جائے۔ تمام موٹر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن پر سختی سے عمل کروایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ کیا جائے۔ ملک کے اسی فیصد وسائل پر دس فیصد اشرافیہ قابض ہے جبکہ باقی بیس فیصد وسائل سے نوے فیصد آبادی اپنا نظام چلا رہی ہے۔حقیقی طور پر تو ٹیکس اشرافیہ سے لیا جانا چاہیے اور غریبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے لیکن اس وقت ملک کے معاشی حالات دیکھ کر یہی کہنا مناسب ہے کہ ہر اس جگہ سے ٹیکس وصول کیا جائے جہاں سے ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین نوٹ :- میں نے اپنی کم علمی اور کم تجربہ کے باوجود حقائق کی بنیاد پر ایک جائزہ اور تجزیہ پیش کیا ہے پھر بھی اگر کوئی غلطی ہو تو میری کم علمی سمجھتے ہوئے درگزر کریں اور اصلاح کر دیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.