80

نئی نسل کی امید اور تبدیلی

وطن کا نظام۔جس طرح جمود کا شکار تھا۔ ہر سال بجٹ خسارے میں ۔ ہر سال قرضوں میں اضافہ۔ ہر سال روپے کی قیمت پر بحران۔ غربت میں اضافہ۔ ۔۔۔۔
مگر 4 دہائیوں سے 2 ہی پارٹیاں اقتدار سنبھالے تھیں۔ ایسی صورت حال میں ابھرتے ہوئے خون میں جوش سر اٹھاتا کہ کس صورت تبدیلی رونما ہو۔ کوئی نئی آواز ہو جو اس اندھیرے کے سفر میں روشنی کی کِرن ثابت ہو ۔ ان حالات میں نوجوان نسل کی نظر اس پر آن رکی جو کرکٹ کے میدان میں کبھی ان کے دلوں کی دھڑکن تھا۔ اس کی سیاسی کاوشوں کو نئی نسل نے سراہا اور اس کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔ اب وہ وقت بھی آ گیا کہ اسے مسندِ اقتدار نصیب ہو گئی اور جو وعدے اس نے کیے تھے تقاضا ہے کہ اب عمل کا روپ دھار لیں۔ مگر میں نے اکثر و بیشتر بحث مباحثہ سن کر ایک ہی نتیجہ اخذ کیا کہ پرانی سیاسی جماعتوں کے شیدائی یہ ثابت کرتے ہیں کہ چونکہ خان کے ساتھ بہت سے چہرے ایسے بھی کھڑے ہیں جن کو دہائیوں سے کئی پارٹیوں کے ساتھ کھڑا دیکھا ہے لہٰذا ان پرانے مکار چہروں کے ساتھ کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ یہاں خان کی مجبوری یہ ہے اسے اسی نظام میں مضبوط قدموں میں کھڑے لوگوں کو ہی سہارا بنانا ہے کہ عوام نے ان کو چُنا ہے۔ نئے چہرے نہ تو درآمد کیے جا سکتے اور نہ کسی سیارے سے منگوائے جا سکتے۔
کسی مفکر کے قول نے مجھے متاثر کیا اس نے کہا تھا میں نے تاریخ سے یہی سیکھا ہے کہ لوگ تاریخ سے نہیں سیکھتے۔ بنو امیہ کے دورِ اقتدار میں حکمرانوں نے جو ظالمانہ روش اپنا لی تھی وہ کسی بھی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے سے پوشیدہ نہیں۔ پھر اس تاریخ نے ایک بہت بڑی انگڑائی لی اور اس انقلاب کا نام عمر بن عبدالعزیز تھا ۔ عمر بن عبدالعِزیز کو بالاتفاق پانچواں خلیفہ راشد مانا جاتا ہے۔ ان کا کردار اور عمل ثابت کرتا ہے کہ یہ خطاب ان کی ہستی کے لیے انتہائی موزوں تھا۔
اب عمر بن عبدالعزیز کے اقتدار میں آنے کے چند مراحل پر نظر دوڑانے کی ضرورت ہے ۔
1 عمر بن عبدالعزیز اسی خاندانِ بنو امیہ سے تھے اور مروان۔بن حکم کے پوتے تھے ۔
2 ان کا نتخاب اسی طرح عمل میں آیا کہ جس طرح بنو امیہ کے باقی حکمرانوں کا۔ مروان کے بعد اقتدار بیٹے عبدالملک کے ہاتھ آیا۔ عبدالملک کی وصیت کے مطابق اس کے بیٹے ولید کے ہاتھ ۔ ولید کی بعد چھوٹے بھائی سلیمان کے ہاتھ اور اسی سلیمان کی ذاتی پسند پر عمر بن عبدالعزیز کو اقتدار سونپا گیا۔
مذکورہ۔تمام حکمرانوں کے ادوار میں مسلمہ بن عبدالملک دربار کا دستِ راست تھا اور عمر بن عبدالعِزیز کے زمانے میں بھی۔ گزشتہ حکمران جو ظالمانہ طرز اختیار کیے تھے انہیں کی اولاد عباس بن ولید ۔ ابنِ سلیمان ۔ یزید بن عبدالملک اور ہشام بن عبدالملک کو ہی دربار میں امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ اپنے انتخاب سے لے کر تمام درباریوں میں وہی چہرے سامنے بٹھا کر خلیفہ رح نے انقلاب کا فیصلہ کیا۔ تمام درباریوں سے چھینی ہوئی زمینیں واپس لیں اور ا صل۔مالکان کو لوٹا دیں۔ بیت المال کی خاص حفاظت کی اور اسے مظلوموں تک پہنچایا۔ حق گوئی کی عام اجازت دی۔ یوں انہیں لوگوں کے بیچ میں بیٹھ کر ایسا انقلاب برپا کیا کہ زمانہ یاد رکھے۔ جناب عمران خان سے بھی نئی نسل کو ایسی ہی امیدیں وابستہ ہیں ایسے میں ان کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنا جادو جو سوچ رکھا ہے کر دکھائیں۔ اگر واقعی ہم وطنِ مقدس کے ہمدرد ہیں اور متعصبانہ سیاسی سوچ نہیں رکھتے تو پھر مخالفت برائے مخالفت کو ترک کریں کہ خدا اس قوم اور وطن پر رحم کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں