Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




منشیات مافیادہشت گرد ہیں


تمباکو نوشی، بیڑی، پان ، گٹکا ، شیشہ دراصل اس دلدل میں غرق ہونے کا راستہ ہیں جس میں جانے کے بعد کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا۔ اس موت کی وادی میں نہ جانے کتنی ماؤں کے بیٹے اپنی جوانی تباہ کر چکے ہیں۔ کئی گھر اجڑ چکے ہیں اور کئی اجڑنے والے ہیں۔ کسی علاقے، محلے اور شہر میں رہنے والا جوان جو سینہ چوڑا کر کے چلتا تھا۔ آج گلیوں میں بھیک مانگتا ہے۔ گندگی سے کچرا جمع کرتا ہے۔ جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا چوری کرنےکا۔ آج چوریاں کرتا ہے۔ماں رو رو کر آنکھوں کی روشنی گنوا بیٹھی۔ باپ پریشانی میں مریض ہو گیا اور بہن کا سر سفید ہو گیا مگر کوئی رشتہ نہ آیا۔ وجہ گھر کا وہ نوجوان جس سے سب کی امیدیں اور تعبیریں وابستہ تھی وہ غلط سوسائٹی میں پڑ کر منشیات کا عادی ہوگیا، آج اس سے شہر اور محلے کا بچہ بچہ نفرت کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب اسے سب ہیرو کہہ کر پکارتے تھے۔ اب وہ ہیرو گھر کی تمام قیمتی اشیاء بیچ کر منشیات کے دھویں میں اڑا چکا ہے۔

اکثر منشیات کے عادی افراد کو ابتداء میں تمباکونوشی اور دیگر ایسی چیزوں کا عادی بنایا جاتا ہے کہ وہ باآسانی منشیات کے عادی ہو سکیں۔ نوجوانوں کو گھر سے باہر سکول و کالج میں دوستوں کی ایسی سوسائٹی مل جاتی ہے جو اسے نشے کی طرف راغب کر دیتی ہے۔اس کے علاوہ والدین کی عدم توجہی، گھریلو ناچاقی، پیسے کی کمی یا زیادہ فراوانی، تعلیم میں کمزوری یا پھر محبت میں ناکامی کی وجہ سے نوجوان ذہنی سکون کی تلاش میں ایسی سوسائٹیاں اور دوستوں کی کمپنیاں اپنا لیتے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی نشہ آور چیز سکون حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

منشیات کا زہر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ منشیات فروشوں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ جن میں خفیہ ایجنسیوں سے لے کر سیاست دان، بزنس ٹائیکون اور بڑے عہدے رکھنے والے اہلکار، ٹرانسپوٹرز، ائیرلائن کا عملہ، شپنگ کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ لوگ اتنے مضبوط اور منظم ہیں کہ کسی ملک میں بھی منشیات کا کاروبار کرسکتے ہیں، چاہے اس کی سزا موت ہی کیوں ہو۔ منشیات کے دھندے کی جڑیں پیسہ بنانے کے فن میں ماہر طبقے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں کیونکہ ان مافیاز کے پیچھے کوئی نہ کوئی طاقتور شخصیت موجود ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں تقریباً 20 کروڑ افراد نشے کے عادی ہیں اور ان کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ سالانہ 40 لاکھ نشے کے عادی افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان میں ڈھائی لاکھ افراد ہر سال نشے کی عادت کے باعث موت کے منہ چلے جاتے ہیں یہ لوگ مختلف قسم کی منشیات کے استعمال کےلئے الگ الگ طریقے اپناتے ہیں۔ پاکستان میں منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 80 فیصد مرد اور 20 فیصد خواتین شامل ہیں۔ پاکستان میں 66.22 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 20 سے 29 سال ہے اسی طرح 18.92 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 15 سے 19 سال ہے۔ نشے کے عادی افراد میں 80 فیصد خواتین ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں جو ذہنی سکون اور تسکین حاصل کرنے کے لیے نشہ کا استعمال کرتی ہیں۔

منشیات کا کاروبار کرنے والا مافیا، نوجوانوں کو اپنا شکار بناتا ہے۔ یہ مافیا سکول، کالج، اور یونیورسٹوں میں اپنے پنجے مضبوط کر چکا ہے۔ منشیات فروش ضرورت مند طالب علموں اور لڑکیوں کو اپنے ساتھ شامل کرکے منشیات فروشی پر لگا دیتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے اندر کام کرنے والا عملہ، درجہ چہارم کے ملازمین، کینٹین اور ہاسٹل کا عملہ بھی اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث پایا جاتا ہے، جبکہ تعلیم اداروں کے اردگرد قائم ہاسٹلز، ہوٹل اور چائے خانوں کے علاوہ بس اڈوں پر بھی منشیات فروشی کا دھندہ کسی بااثر شخص کی سرپرستی میں چلایا جاتا ہے۔

ملک میں ہر سال سننے کو یہ ملتا ہے کہ منشیات کی روک تھام کے عالمی دن پر اتنی من یا ٹن منشیات جلا دی گئی لیکن جن سے اتنی بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی آیا وہ بھی گرفتار ہوئے یا فرار ہو گئے؟ اگر گرفتار ہو بھی گئے ہیں تو کتنے لوگوں کو ایسی سزا دی گئی کہ وہ اس مکروہ دھندے سے تائب ہوئے۔ کسی ایک کوبھی نہیں کیونکہ اس مافیا میں ملوث طاقتور عناصر کیس کو پہلے سے ہی کمزور کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا پیچیدہ عدالتی نظام جس سے ایسے مجرم جلد رہائی پا کر باہر آجاتے ہیں۔

ملک میں ہر سال ڈھائی لاکھ افراد نشے کی وجہ سے راہئ عدم ہو جاتے ہیں۔ ہر سال 45 ارب روپے کی منشیات استعمال کی جاتی ہے۔ کیا کبھی کسی سیاست دان یا حکمران نے اس بات کا نوٹس لیا؟ دھشت گردی سے زیادہ نقصان منشیات سے ہو رہا ہے۔ دشمنوں کو ہمارے ساتھ جنگ کرنےکی کیا ضرورت ہے؟ وہ منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو منتقل کر رہے ہیں۔ 64 فیصد آبادی پر مشتمل نوجوان نسل ان کے نشانے پر ہے۔ آج کا نوجوان یہ زہر لے کر اپنی موت خرید رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس مافیا کو پیسے دے کر اور مضبوط کر رہا ہے جبکہ یہی پیسہ ہمارے خلاف دھشت گردی، تخریب کاری ، اور ملک کے امن امان کو خراب کرنے پر ہمارا دشمن خرچ کر رہا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک منشیات کی روک تھام کے لیے اپنے قوانین میں اصلاحات کر رہے ہیں اور سخت سزاؤں کی وجہ سے اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ترکی کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں کے گرد منشیات فروخت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دیں۔ ترکی نے منشیات کی روک تھام کے لیے سخت پالیسی بنا رکھی ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک میں منشیات فروشوں کے سرتن سے جدا کر دئیے جاتے ہیں۔ انڈونیشا میں منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو سزائے موت زہر کا انجکشن لگا کر دی جاتی ہے۔ گزشتہ ماہ بنگلہ دیش نے سب سے بڑھ کر قدم اٹھایا۔ بنگلہ دیش میں انسداد منشیات کی مہم ملک بھر میں چلائی گئی۔ جس میں ریپڈ ایکشن بٹالین یا آر اے بی نامی فورس نے اپنا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے ایکشن لیا، فورس دوران کاروائی منشیات فرشوں کو موقع پر گولی مار دیتی تھی۔ بنگلہ دیشن میں سکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں منشیات کا کاروبار کرنے والے 120 مشتبہ افراد اس فورس کے ہاتھوں مارے گئے۔

ملک میں منشیات کے حوالے سے دومسائل ہیں جن میں ہماری حکومتیں سنجیدہ نظر نہیں آتیں، افسوس کا مقام تو یہ ہےکہ منشیات فروش مافیا دھڑلے سے یہ کاروبار کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی سطح پر کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو ایسے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کا کام کر سکے، ملک میں ایسے ادارے این جی اوز کی سرپرستی میں چلائے جا رہے ہیں، جن کو بظاہر تو خیراتی ادارے کہا جاتا ہے۔ ایسے ادارے اکثر مارکیٹوں میں دوکانوں کے اوپر چوبارے لے کر بنائے جاتے ہیں، جن میں متعلقہ سہولیات، ڈاکٹر اور ماہر نفسیات دستیاب نہیں ہوتے۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں دس سے بیس افراد کو قید کر دیا جاتاہے اور ان کے ورثاء سے ماہانہ 15 سے 40 ہزار روپے بٹورے جاتے ہیں۔ ان افراد کو زنجیروں میں جکڑ کر ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ان کو نشے کے متبادل گولیاں فراہم کی جاتی ہیں جو ان کے دماغ کوسن رکھتی ہیں۔ جن مریضوں کے ورثاء زیادہ ادائیگی کر سکتے ہیں ان کو زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ ان اداروں میں داخل ہونے والے مریضوں کےعلاج کے دوران اس بات کا پتہ نہیں لگایا جاتا کہ یہ شخص منشیات کا عادی کیوں بنا؟ اس بات کا پتہ کوئی ماہر نفسیات ہی لگا سکتا ہےجب تک اصل جڑ کو نہیں پکڑیں گے ان افراد کا علاج ممکن نہیں۔

علاج کے بعد جب ایسے افراد دوبارہ معاشرتی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کو مختلف نفسیاتی مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے کیونکہ دوران علاج سائکو کونسلنگ پرخاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ جس کی وجہ سے چند ہفتے یا مہینے بعد یہ افراد دوبارہ منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد نشہ پورا کرنے کے لیے میڈیکل سٹورز سے سرنج لے کر اس کے ذریعہ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک ہی سرنج سے کئی افراد نشہ لیتے ہیں جس سے یرقان اور ایڈز کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔

ملک کے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانا ہے تو منشیات کی روک تھام کے اقدامات کرنے ہونگے۔ اس کیلئے سخت قوانین کا نفاذ کرنا ہوگا۔ اداروں سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ کر کے مافیا کی سرپرستی کرنے والے عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے اداروں کی حکومت کو مانیٹرنگ کرنا ہوگی۔ ہر ضلعی ہسپتال میں کم از کم چھ بستر پر مشتمل ایک وارڈ ضرور قائم کیا جائے اور اس کے لیے ڈاکٹرز اور ماہر نفسیات بھی تعینات کیے جائیں جو ایسے مریضوں کی نفسیاتی اور معاشرتی بحالی میں مدد دیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.