Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




گلگت بلتستان کی تاریخ کیا ہے؟


گلگت بلتستان پرانے انڈیا میں شروع دن سے ایک آزاد علاقہ تھا اور اس پر لوکل حکمرانوں کی حکومت تھی۔ جموں اور کشمیر کے حکمران زورآورسنگھ نے 1846 میں آٹھ سالہ جدوجہد اور جنگ کے بعد گلگت بلتستان فتح کرلیا اور اسے کشمیر میں زبردستی شامل کر لیا گیا، جو 1947 تک کشمیر میں ہی شامل رہا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے پلان کے مطابق ہر علاقے کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ چاہئیے تو پاکستان میں شامل ہوجائے یا چاہئیے تو انڈیا میں شامل ہوجائے۔ کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کے لوگوں سے پوچھے بغیر اسکا الحاق انڈیا سے کر دیا، اور یوں گلگت بلتستان بھی انڈیا کے ساتھ چلا گیا۔

گلگت کے لوگوں نے اس معاہدے پر  احتجاج کیا اور گلگت سکاؤٹس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور گورنر کو اسکے عہدے سے برطرف کرتے ہوئے رئیس خان کی حکمرانی میں نئی آزاد حکومت قائم کردی۔ اس طرح گلگت بلتستان کے غیور عوام نے ڈوگرراج سے خود آزادی کی نعمت حاصل کی۔

گلگت بلتستان کی نئی بننے والی حکومت کچھ عرصہ ہی قائم رہ سکی کیونکہ انکے پاس حکومت چلانے کیلئے ریسورسز کم تھے اور انڈین قبضے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا لہذا گلگت بلتستان کی حکومت نے اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا۔ یہاں کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کوئی واضح سند موجود نہیں ہے، قائداعظم کے ایک خط کے بعد کے پی کے تحصیلدار عالم خان گلگت بلتستان میں پولیٹیکل ایجنٹ بن کر آئے اور وہاں کے ڈی فیکٹو حکمران بن گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے عوام پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے تھے۔ اسی دوران پاکستانی فوج اور گلگت سکاؤئٹس نے مل کر 1948 کی پاک انڈیا جنگ میں کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا اور باقی کشمیر پر بھی چڑھائی کر دی لیکن اس دوران ایک تو انڈیا یو این میں چلا گیا اور دوسرا پاکستان کا چیف آف آرمی سٹاف ابھی انگریز تھا جس نے آگے بڑھتی ہوئی پاک فوج کو واپس بلوا کر جنگ بندی کردی، اور یوں کشمیر پاکستان کے ہاتھ آتے آتے رہ گیا۔ انڈیا نے اقوام متحدہ میں یہ قرارداد پاس کروا لی کہ وہ کشمیر میں اپنی فوج کم سے کم سطح پر لا کر ریفرنڈم کروائے گا جس میں لوگ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان، انڈیا کے ساتھ رہنا ہے یا آزاد ملک بننا ہے۔ ریفرینس کیلئے کلک کریں۔ ۔ ۔

ایک اور نظریے کے مطابق 1947 میں کچھ عرصہ تک گلگت بلتستان کاغذوں میں آزاد کشمیر کے ساتھ رہا، لیکن عملی طور پر اسکا کشمیر کے ساتھ کوئی ڈائریکٹ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے 1949 میں آزاد کشمیر حکومت نے کراچی معاہدے کے ذریعے پاکستانی حکومت کے حوالے کر دیا۔ اس معاہدے کے بارے میں گلگت بلتستان کے لوگوں کو تحفظات ہیں، کیونکہ اس میں گلگت بلتستان کا کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ 1963 میں پاکستان نے سینو پاکستانی فرینٹیئر معاہدے کے تحت شاکس گام کا 2700 مربع کلومیٹر کا علاقہ چائنہ کو دے دیا تاکہ اسے اس مسئلے میں شریک کیا جاسکے۔ 1970 میں گلگت ایجنسی اور بلتستان کو سنگل یونٹ بنا دیا گیا اور اسکا نام شمالی علاقہ رکھ دیا گیا۔ ریفرنس کیلئے یہاں کلک کریں۔ ۔ ۔ 

گلگت بلتستان کو 2009 میں صدر آصف علی زرداری نے محدود اختیارات دیکر گورنر کے زیر سایہ اسکی اپنی حکومت قائم کردی تاکہ لوگوں کو بہتر طریقے سے شہری حقوق دئیے جاسکیں۔ 2009 کے گورننس آرڈر میں چیف ایگزیٹو کو وزیر اعلی کا نام دیا گیا اور گورنر کا عہدہ بھی تخلیق کیا گیا اور ساتھ میں کابینہ کے لوگ جو پہلے مشیر ہوتے تھے انہیں وزراء بنا دیا گیا۔ لیکن 2018 کے گورننس آرڈر میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے سب کچھ وفاق کے حوالے کردیا اور وزیر اعظم کو بادشاہ گلگت بلتستان بنا دیا۔ یہاں کے شہری کشمیر کے ساتھ ملنے کی بجائے پانچویں صوبے کے طور پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے کے طور پر قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس علاقے سے چین سی پیک کا راستہ نکال رہا ہے اور یہاں ایک ڈیم بھی بنایا جارہا ہے۔

گلگت بلتستان کا قدرتی حسن و جمال اپنی مثال آپ ہے اور جنت ارضی سے کم نہیں ہے، بلندی سے گرتی ہوئیں آبشاریں، سرسبز میدان، دنیا کی بلند ترین برف پوش چوٹیاں اور چیری، بادام، خوبانی، اخروٹ اور چلغوزے کے درخت اسے دنیا میں ایک بلند مقام دیتے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے یہاں کا انفراسٹکچر بہتر ہورہا ہے اور مستقبل میں گلگت بلتستان پاکستان کا ایک بہترین سیاحتی مقام ہوگا اور پوری دنیا سے سیاح یہاں کا رخ کریں گے۔


 

































































تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.