Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




بارٹر سسٹم، یہودی مالیاتی نظام اور مسلمان ممالک کی حالت زار


پرانے زمانے میں جب کرنسی ایجاد نہیں ہوئی تھی، تب اشیاء خریدی نہیں جاسکتی تھیں لیکن اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا تھا، یعنی اگر میرے پاس گندم میری ضرورت سے فالتو ہے تو میں اسے کسی دوسرے صاحب کو دے کر اس سے چاول لے لوں، یا اگر میرے پاس کھانے کی اجناس ہیں اور میں وہ کپڑے بننے والے کو دے کر اس سے کپڑا لے لوں، تاکہ ہر بندہ کام اپنا اپنا کرے لیکن کرنسی کے بغیر اسکے سارے کام بھی ہوجائیں، اس سارے عمل کو بارٹرسسٹم کا نام دیا جاتا تھا۔

زمانہ بدلا اور پہلے سونے چاندی کے سکے کرنسی کے طور پر ایجاد ہوئے، جس کی جگہ بعد میں سلور اور تانبے کے سکوں نے لے لی، ایسی دولت گھوڑوں، اونٹوں اور گدھوں پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجی جاتی تھی۔ وقت گزرا اور کاغذ کے نوٹ آگئے، اسکے بعد پلاسٹک کے کارڈز آئے اور یہی نوٹ بنک میں ذخیرہ ہوگئے، اور چھوٹے سے پلاسٹک کے کارڈ سے استعمال ہونے شروع ہوگئے۔ اب کچھ ترقی یافتہ ممالک میں نہ صرف موبائل ایپس سے ادائیگیاں ہورہی ہیں بلکہ بٹ کوائن کے نام سے اصلی کرنسی کا نیم البدل نقلی کرنسی بھی ایجاد کر لی گئی ہے۔

کرنسی ایجاد ہونے سے پہلے ساری دنیا میں اشیاء کے لین دین کیلیئے بارٹرسسٹم کا نظام چلتا تھا، لیکن آجکل امریکی ڈالر نے تمام دنیا کے کاروبار کو جھکڑا ہوا ہے، امریکہ جب چاہتا ہے کسی بھی ملک پر پابندیاں لگا کر اسے دنیا میں تنہا کر دیتا ہے، اور باقی دنیا اسکے ساتھ تجارت نہیں کر سکتی کیونکہ ساری تجارت امریکی ڈالر میں ہورہی ہے اور ڈالر کا مالک امریکہ ہے۔

ایسا ہی ایک معاملہ آجکل ایران کے ساتھ درپیش ہے، امریکہ نے پانچ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اس پر سے تجارتی پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں، لیکن نئے امریکی صدر ٹرمپ نے آتے ساتھ ہی یکطرفہ طور پریہ معاہدہ نہ صرف ختم کر دیا بلکہ زیادہ سخت پابندیاں بھی لگا دیں، جو نومبر سے ایران پر لاگو ہوجائیں گی۔ اس صورتحال پر امریکہ کے سوا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے دوسرے پانچ بڑے ممالک نے ایران کے ساتھ 'بارٹر سسٹم' کے تحت تجارت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت ایران کو تیل کی قیمت یورپی اشیا کی صورت میں ادا کی جاسکے گی۔

گزشتہ پیر کو نیویارک میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور ایران کے اعلیٰ حکام نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحت ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے جائیں گے اور امریکی پابندیوں کے پیشِ نظر رقوم کی ادائیگی کا نیا طریقہ وضع کیا جائے گا۔ اس متبادل نظام کا مقصد ان امریکی پابندیوں سے بچنا ہے جس کےتحت امریکہ ایسے کسی بھی بین الاقوامی بینک کو اپنے مالیاتی نظام سے کاٹ سکتا ہے جو ایران کو تیل کی ادائیگیوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ 'بارٹر سسٹم' متعارف کرانے کا حتمی فیصلہ کیا جاچکا ہے اور اب صرف اس کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں, لیکن بعض سفارت کاروں نے اس نظام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے, کیونکہ ہوسکتا ہے کہ امریکہ اس کی بھی اجازت نہ دے اور وہ بارٹر سسٹم کے تحت اشیا کے تبادلے کو روکنے کے لیے پابندیوں سے متعلق اپنے قوانین میں تبدیلی کرلے، کیونکہ امریکہ ہر صورت ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، اور اس کے لئے وہ ہر جائز وناجائز قدم اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

مسلم دنیا کو امریکی اور یہودی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکلنے کے لیے ادائیگیوں کا اپنا علیحدہ نظام بنانا ہوگا، صرف اسی صورت میں مسلم ممالک اپنی خودی برقرار رکھتے ہوئے باقی دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر اپنی تجارت کرسکتے ہیں۔ وقتی طور پر پرانا بارٹر سسٹم رائج کیا جاسکتا ہے اور بعد میں کسی ایک مشترکہ کرنسی پر اتفاق کیا جاسکتا ہے۔ اگر چند بچ جانے والے مسلمان ممالک فرقہ پرستی اور نفرت کی سوچ سے باہر نکل کر اپنا علیحدہ سے مالیاتی نظام نہ بنا سکے تو انکا حشر بھی عنقریب شام، لیبیا، عراق، یمن اور افغانستان کی طرح ہی ہوگا۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمانوں 
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.