Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




کینیڈا میں بھنگ کو قانونی حیثیت مل گئی


واشنگٹن —کینیڈا نے بھنگ کو قانونی حیثیت دیتے ہوئے اس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن اس کی غیر قانونی خرید وفروخت ایک عرصے سے جاری تھی۔

کینیڈا میں بھنگ کی قانونی فروخت بدھ کے روز شروع ہوئی۔ بدھ کو طلوع ہونے والے سورج نے یہ حیران کن منظر بھی دیکھا کہ بھنگ فروخت کرنے والے اسٹوروں کے سامنے لمبی قطاریں لگی ہیں، جن میں ایسے لوگ کھڑے تھے جن کی دن چڑھے تک آنکھیں ہی نہیں کھلتیں۔ مگر ان کے چہروں پر اطمینان اور آنکھوں میں چمک تھی۔ جب میڈیا کے نمائندوں نے ان سے بات کی تو اکثر کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار قانونی طور پر بھنگ خرید کر تاریخ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

کینیڈا بھنگ کو قانونی حیثیت دینے والا پہلا ملک نہیں ہے۔ یوروگوائے، سپین، سیلوواکیا، نیدرلینڈز، جمیکا، کولمبیا، اور چلی میں بعض صورتوں میں بھنگ خریدنے کی اجازت ہے۔ جب کہ آسٹریلیا، پورٹوریکو، پولینڈ، جمہوریہ چیک، کروشیا اور مقدونیہ میں اسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ کی 17 ریاستوں میں بھی بھنگ کو قانونی حیثیت مل چکی ہے۔

اس تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات، مصر، ملائیشیا، اور فلپائن میں بھنگ کے لین دین پر موت کی سزا مقرر ہے، چاہے اس کی مقدار کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح جاپان میں بھی بھنگ کی خرید و فروخت پر طویل قید کی سزا دی جاتی ہے۔

قانونی پابندیوں اور سختیوں کے باوجود دنیا میں بہت کم ملک ایسے ہوں گے جہاں چوری چھپے بھنگ کا کاروبار نہ ہو رہا ہو۔

پہلی بار کسی خوف اور ڈر کے بغیر کھلے عام بھنگ خریدنے کا احساس ہی کچھ اور ہے۔ ٹورینٹو میں بھنگ بیچنے والے ایک اسٹور کے سامنے لائن میں کھڑے ایک 33 سالہ شخص میتھیو نے بتایا کہ میں تین سے پانچ دنوں میں 100 ڈالر کی کیبس(بھنگ) خریدتا ہوں۔ میں 15 سال کی عمر سے بھنگ پی رہا ہوں۔ میری جیب میں تین سو ڈالر ہیں۔ آج اس تاریخی موقع پر میں یہ ساری رقم بھنگ پر خرچ کروں گا۔

29 سالہ سیبسٹائن نے بتایا کہ میرا اصل تعلق فرانس سے ہے۔ میں 18 سال کی عمر سے بھنگ پی رہا ہوں۔ ہم کام سے فارغ ہونے کے بعد شام کے وقت مل کر بھنگ پیتے ہیں اور اس بوٹی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اب جیسے ہی فرانس میں لوگوں کو پتا چلے گا کہ کینیڈا میں بھنگ قانونی ہو گئی ہے تو وہ بھاگے بھاگے یہاں آیا کریں گے۔

ایک زمانے میں بھنگ کی کشش بڑی تعداد میں یورپی نوجوانوں کو پاکستان میں کھینچ لاتی تھی اور پاکستان کے اکثر شہروں میں ہیپی دھوئیں کے مرغولے اڑاتے نظر آتے تھے۔

سٹور کے سامنے لگی ہوئی اس قطار میں ایک 18 سالہ طالب علم زکیری بھی کھڑا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ 14 سال کی عمر سے بھنگ پی رہا ہے۔ اس نے شکایت کی ریاست کیوبک نے بھنگ کی خرید کے لیے 21 سال کی عمر مقرر کر کے نوجوانوں پر ظلم کیا ہے۔

بھنگ کا استعمال عموماً تین طریقوں سے کیا جاتا ہے۔

میروانا۔ اس طریقے میں بھنگ کے خشک پتے اور پھول استعمال کیے جاتے ہیں

حشیش۔ اس طریقے میں بھنگ کے خشک پتے اور پھولوں کو تمباکو کے ساتھ ملا کر سلگایا جاتا ہے یا ان کے بسکٹ اور کیک وغیرہ بنا کر کھائے جاتے ہیں۔

حثیش آئل۔ بھنگ کا تیل نکال کر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس کا نشہ بہت تیز ہوتا ہے۔ اسے عموماً سگریٹ پر چھڑک کر استعمال کیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنگ کے نشے کا تعلق اس کی مقدار سے ہے۔ بھنگ جتنی زیادہ مقدار میں استعمال کی جائے گی، نشہ بھی اتنا ہی زیادہ چڑھے گا۔

نشے کے عمومی اثرات سکون اور نیند کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ بھنگ پینے والا بے تحاشہ ہنسنے لگتا ہے۔ اس کی بھوک بڑھ جاتی ہے۔ بھنگ کی زیادہ مقدار سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے۔ نظر دھندلی ہو جاتی ہے۔ خیالی چیزیں دکھائی اور خیالی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

تاہم طبی مقاصد کے لیے بھنگ کے اجزا سکون آور دوا کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.