Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




ترک پولیس کی سعودی قونصل خانے کی دوبارہ تلاشی


سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے والے ترک حکام اور پولیس نے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کی دوبارہ تلاشی لی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق قونصل خانے کی تلاشی بدھ کی شب لی گئی جس سے قبل ترک حکام نے استنبول میں تعینات سعودی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کا بھی معائنہ کیا جو نو گھنٹے تک جاری رہا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ترک تفتیشی ٹیم نے قونصل خانے کی عمارت اور اس کے زیرِ استعمال گاڑیوں کا معائنہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق ترک حکام نے تیز روشنیوں کی مدد سے قونصل خانے کے باغ کا بھی جائزہ لیا لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ باغ میں کیا ڈھونڈ رہے تھے۔

تفتیشی حکام جمعرات کو علی الصباح معائنہ مکمل کرکے قونصل خانے سے روانہ ہوگئے۔ رواں ہفتے یہ دوسرا موقع تھا جب ترک حکام معائنے کی غرض سے سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے۔

اس سے قبل ترک تفتیشی ٹیم نے بدھ کو نو گھنٹے تک سعودی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کی تلاشی لی تھی جو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کی عمارت سے دو کلومیٹر دور واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق ترک ٹیم کے ہمراہ وہ سعودی تفتیش کار بھی موجود تھے جو خشوگی کی گمشدگی کی مشترکہ تحقیقات کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے ہی استنبول پہنچے ہیں۔

تلاشی کے دوران ترک تفتیش کاروں نے قونصل جنرل کی رہائش گاہ کی چھت اور گیراج کا بھی معائنہ کیا جب کہ اس دوران ایک ڈرون بھی علاقے پر پرواز کرتا رہا۔

ایک ترک خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس بطور خاص قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے پائیں باغ میں موجود کنویں کا معائنہ کرنا چاہتی تھی۔

ایک اعلیٰ ترک اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ تفتیش کاروں کو بعض ایسے شواہد مل گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خشوگی کو قونصل خانے کے اندر ہی قتل کیا گیا۔ لیکن اہلکار نے اپنے اس دعوے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے 60 سالہ جمال خشوگی دو اکتوبر کو بعض دستاویزات کے حصول کے لیے استنبول کے سعودی قونصل خانے گئے تھے جس کے بعد سے وہ باہر نہیں آئے۔

خشوگی سعودی حکومت کے کڑے ناقد تھے۔ ان کی گمشدگی کی خبریں عام ہونے کے بعد ترک حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا ہے۔ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرچکا ہے۔

مبینہ قتل کی مزید تفصیلات

دریں اثنا ترک روزنامے 'یینے شفق' نے جمعرات کو ان آڈیو ریکارڈنگز کی تفصیلات شائع کی ہیں جو مبینہ طور پر سعودی قونصل خانے میں جمال خشوگی سے کی جانے والی تفتیش اور پھر ان کے قتل سے متعلق ہیں۔

بعض مغربی اور ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک حکام نے خشوگی کے فون سے وہ آڈیو ریکارڈنگز حاصل کرلی تھیں جو ان سے کی جانے والی تفتیش اور پھر ان کے قتل کے دوران ان کی دستی گھڑی نے ریکارڈ کی تھیں۔

لیکن تاحال ترک حکام نے باضابطہ طور پر ایسی کسی ریکارڈنگ کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یینے شفق' کے مطابق ریکارڈنگز سے پتا چلتا ہے کہ خشوگی کو قونصل خانے میں داخل ہونے کے کچھ ہی دیر بعد قتل کردیا گیا تھا۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ خشوگی سے تفتیش کے دوران سعودی اہلکاروں نے ان کی انگلیاں کاٹ دی تھیں جس کے بعدان کا سر قلم کرکے انہیں قتل کردیا تھا۔

اخبار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سعودی اہلکاروں نے بعد ازاں لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے تھے تاکہ اسے آسانی سے ٹھکانے لگایا جاسکے۔

اخبار کے مطابق ریکارڈنگ میں سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی خشوگی پر تشدد کرنے والے افراد سے کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ کام قونصل خانے سے باہر جا کر کریں کیوں کہ وہ ان کے لیے مصیبت کھڑی کردیں گے۔

اس پر تشدد کرنے والے افراد میں سے ایک قونصل جنرل سے کہتا ہے کہ اگر انہیں سعودی عرب واپس لوٹنے کے بعد زندہ رہنا ہے تو وہ اپنا منہ بند رکھیں۔


ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد العتیبی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ منگل کو ترکی سے وطن واپس روانہ ہوگئے تھے جس کے بعد ہی سعودی حکام نے ترک تفتیش کاروں کو ان کی رہائش گاہ کی تلاشی کی اجازت دی۔

بدھ کو اپنے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ اگر ترکی کے پاس واقعی ایسی کوئی آڈیو یا ویڈیو ریکارڈنز موجود ہیں جن سے خشوگی کے قتل کی تصدیق ہوتی ہے تو اسے وہ امریکہ کو دینی چاہئیں۔

لیکن انٹرویو کے دوران جب صدر سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ خشوگی کے معاملے پر خود کو سعودی عرب سے دور کرے گا، تو صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے کیوں کہ ان کے بقول سعودی حکومت نے امریکہ سے 110 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار وں کی خریداری کا سودا کر رکھا ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.