Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




سعودی عرب پاکستان کا دوست یا ایک مفادپرست ملک ۔ ۔ ؟


سعودی عرب دنیا کے تمام مسلمانوں کیلئے مکہ اور مدینہ کی وجہ سے ایک پاک جگہ ہے، اور معتبر ملک گنا جاتا ہے، لیکن ایک تلخ حقیقت جسکا شاید ہم سب کو ادراک نہیں ہے، کہ سعودی حکومت کے سب سے زیادہ اساسے امریکہ اور برطانیہ میں ہیں، اور بادشاہ سمیت کوئی سعودی حکومتی اہلکار کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتا جس سے امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو کوئی زد پہنچ سکتی ہو۔ سعودی عرب کو پاکستان کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے، جب اسکی اپنی سالمیت کو خطرات لاحق ہوں اور پاکستانیوں کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب اسے سستی غلام لیبر  چاہیئے ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستانیوں کی خوشی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب یہ پتا چلا کہ سعودی عرب پاکستان میں سی پیک میں تیسرا پارٹنر بن رہا ہے اور بہت بھاری سرمایہ کاری کرنے والا ہے۔

لیکن اب کچھ ذرائع سے پتا چلا ہے کہ، سعودی عرب سی پیک سمیت دیگر کئی معاہدوں میں 12 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری تو کرنا چاہتا ہے، لیکن اس نے اپنے مفاد کیلئے کچھ شرائط بھی عائد کر دی ہیں، وہ تیل اور گیس کے شعبے میں کسی  نجی  چینی کمپنی کی شراکت  میں سرمایہ کاری  نہیں کرے گا،  بلکہ وہ صرف گوادر میں چین کی حکومتی کمپنیوں کی شراکت سے آئل ریفائنری   کے قیام کے منصوبے میں سرمایہ لگائے گا، مزید وہ کسی مسابقتی بولی کے ذریعے کسی بھی منصوبے میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، بلکہ صرف انہی منصوبوں میں سرمایہ لگائے گا  جو بولی کے طریقہ کار  سے مستثنیٰ ہوں گے ، یعنی بغیر بولی والے  منصوبے جن میں ہر حال میں مرضی  سعودی حکومت کی چلے گی لیکن تمام تر سکیورٹی  کی ذمہ داری پاکستان پر ہو گی۔

پاکستان کو اس وقت ڈیمز اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کی اشد ضرورت ہے جبکہ سعودی عرب پاکستان میں دیامر بھاشا سمیت کسی ڈیم یا بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز کے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، بلکہ کراچی کے کیمیکل انڈسٹری پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرے گا اور اس منصوبے میں سرمایہ کاری کا تخمینہ لگانے کے لیے سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا اور اس منصوبے کے لیے 100ایکڑ پر مشتمل قطعہ اراضی کا معائنہ بھی کرے گا۔
سعودی عرب کا جو وفد پاکستان کا حالیہ دورہ کر کے گیا ہے اس میں نچلے لیول کے حکام موجود تھے جن کی سربراہی سعودی عرب کے وزیرتجارت کے مشیر کر رہے تھے۔ وفد میں سعودی آرامکو اوراے سی ڈبلیو اے پاور سمیت کئی کمپنیوں کے نمائندے بھی شامل تھے، اس وفد کے پاس پاکستان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اتھارٹی نہیں تھی، بلکہ یہ صرف معاہدوں پر اتفاق کرکے گیا ہے اور بعد میں متعلقہ سعودی حکام سے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی اجازت طلب کرے گا۔

مندرجہ بالا شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عام ذہن کا انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ سعودی عرب صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچ رہا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ مسلم امہ کیا ہے، پاکستان کیا چاہتا ہے؟ سعودی عرب حکومت اور سعودی لوگوں کی ایک خاص ذہنیت ہے، کہ ان کے علاوہ باقی دینا کے ممالک اور عوام انکے غلام ہیں، سوائے امریکہ اور اسرائیل کے کیونکہ یہ سعودی حکومت کے نام نہاد محافظ ہیں اور سعودی انکم کا ایک بڑا حصہ انہی کے پاس جاتا ہے، اور جب یہ چاہیں گے سعودی بادشاہ اور شاہی خاندان کا حال معمر قذافی کی طرح ہو کر ماضی کا قصہ بن جائے گا، جنہیں اس بات میں شبہ ہے وہ ٹرمپ کا حالیہ بیان پڑھ لیں، جسمیں ٹرمپ صاف کہتا ہے کہ "بادشاہ سلمان! ۔۔۔۔ ہم تمہاری حفاظت کر رہے ہیں، ہماری مدد کے بغیر تم دو ہفتے بادشاہ نہیں رہ سکتے، تمہیں ہماری فوج کو اس حفاظت کا معاوضہ دینا ہوگا۔"
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.