Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




یہ قتل عام کس کھاتے میں لکھا جائے گا؟


کل رات ہالوکاسٹ کے موضوع پر فلمائی گئی ایک فلم ’’دی شینڈر لسٹ ‘‘ایک بار پھر دیکھنے کا اتفاق ہوا،فلم دیکھ کر رات بھر سو نہ پایا ،یہی سوال تڑپاتا رہا کہ کیا مذہب اہم ہے یا انسانیت اور وہ کون سا مذہب ہے جسے انسانیت کا درد نہیں۔انسانوں کو نفرت کی بنا پر مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا گیا،ہزاروں کا اجتماعی قتل کیا گیا،لاشوں کو جلا کر راکھ تک پانی میں بہائی گئی۔یہ کیسا ظلم تھا؟ایک شخص کی نفرت نے انسانیت کو روند ڈالا،مجھے ہٹلر سے گن آ رہی ہے۔جانے لوگ آج جنگ کی بات کیسے کر لیتے ہیں۔آئیے میں آ پ کو صرف دو واقعات بتاتا ہوں۔

ستمبر 1940جرمنوں نے کیو کے یہودی رہائشیوں کو شہر کے باہر دوبارہ آباد ہونے کے لئے میلنک اسٹریٹ پر جمع ہونے کا حکم دیا۔ درحقیقت حاضر ہونے والوں کو میلنک اسٹریٹ سے یہودی قبرستان اور بابی یار نامی ایک کھائی کی طرف لے جایا جارہا تھا۔ یہودیوں کو اپنا قیمتی سامان جرمنوں کے حوالے کرنے، اپنے کپڑے اتارنے اور چھوٹے گروپوں میں کھائی میں اترنے کا حکم دیا گیا۔ جرمن قاتل اسکواڈ اور یوکرینی ذیلی یونٹس نے انہیں قتل کردیا۔ یہ قتل عام دو دن تک جاری رہا۔ اس عمل میں چونتیس ہزار کے قریب یہودی مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے۔ آنے والے مہینوں میں بابی یار پر مزید ہزاروں یہودی مارے گئے۔ کھائی میں کئی غیریہودی بھی مارے گئے، جن میں روما (خانہ بدوش) اور سوویت جنگی قیدی بھی شامل تھے۔

ایس ایس کے کرنل کارل جائیگر نے 2 جولائی اور یکم دسمبر 1941 کے درمیان لیتھوینیا میں اپنے یونٹ کے ہاتھوں قتل کے اقدامات کے متعلق اطلاع دی۔ ان کی اطلاع کے مطابق ان کے اسکواڈ نے 137،346 یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ کوونو، یکمرج اور ولنا میں رہنے والے یہودیوں کو قتل عام کے اس سلسلے کے دوران ہلاک کردیا گیا، جو 1941 کے پورے موسم گرما تک جاری رہا۔ لیتھوینیا کے چھوٹے قصبوں اور گاؤں میں رہنے والے تقریباً تمام یہودی مارے گئے۔ جائیگر کی اطلاع کے مطابق تقریباً پینتیس ہزار ہی یہودی باقی رہ گئے جو کوونو، ولنا اور سائیولائی یہودی بستیوں میں جبری مزدوروں کے طور پر موجود تھے۔

یہ قتل عام کس کھاتے میں لکھا جائے گا؟
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.