Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ، سات افراد جاں بحق


کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشتگردوں کے حملے میں سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جن میں دو پولیس اہلکار اور دو شہری بھی شامل ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق صبح 9 بج کر 15 منٹ پر تین دہشتگرد سفید گاڑی میں آئے اور انہوں نے قونصل خان سے کچھ فاصلے پر گاڑی کھڑی کی اور پیدل چل کر گئے اور دھماکہ کرتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ شرو ع کر دیا تاہم سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے انہیں روک لیا اور چھت پر موجود سنائپرز نے نشانے لگاتے ہوئے تینوں دہشتگردوں کو موقع پر ہلاک کردیا ۔تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ کوئٹہ سے باپ اور بیٹا چین کا ویزا حاصل کرنے کیلئے کراچی میں چینی قونصل خانے میں آئے تھے اور ویزا کمپاﺅنڈ میں موجود تھے وہ بھی اس حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔

چینی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی ہے۔ بی بی سی کے مطابق علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک ترجمان جیہاند بلوچ نے فون پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے مجید بریگیڈ کے تین فدائین اس کارروائی میں شامل تھے۔ بی ایل اے کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ چین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ ہماری زمین پر قبضے کی کوشش چھوڑ دے ورنہ مستقبل میں اسے مزید سنگین معاملات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ ژینگ نے کہا تھا کہ بلوچستان میں متحرک بلوچ مزاحمتی تحریک اب نہ ہی پاکستان، نہ چین اور نہ ہی سی پیک کے لیے کوئی خطرہ ہے اور پاکستان میں پہلے کی نسبت امن و امان کی صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حملہ مجید بریگیڈ کے افضل خان بلوچ، رازق بلوچ اور رئیس بلوچ کی جانب سے کیا گیا ہے اور تینوں ہی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔ کالعدم تنظیم نے اس حملے کو فدائی حملہ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کی اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو سامنے لایا جائے۔ یہ واقعہ پاک چین اقتصادی وتذویراتی تعاون کےخلاف سازش ہے لیکن ایسے واقعات پاک چین دوستی کو متاثر نہیں کرسکتے کیونکہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اورسمندر سے گہری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی پولیس اوررینجرزنے غیر معمولی جرات کامظاہرہ کیا ، پوری قوم شہدا اوران کے ساتھیوں کوسلام پیش کرتی ہے، پولیس اہلکاروں کی بہادری پرفخر ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے آج کراچی کو ایک بڑی سازش سے بچا لیا ہے۔ تمام 3 دہشت گردہلاک ہو چکے ہیں۔ اس آپریشن میں دو پولیس کے جوانمردوں نے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ چائنہ قونصلیٹ کے تمام اہلکار محفوظ ہیں اور پولیس اور رینجرز نے صورتحال کو مکمل کنٹرول میں لے لیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ چینی قونصل خانے پر حملے کی سازش کی تہہ تک پہنچیں گے۔ پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واوڈا بھی حملے کے فوری بعد موقع پر پہنچ گئے تھے انکی سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہوئی ہیں جہاں وہ پولیس اہلکاروں کے درمیان بلٹ پروف جیکٹ پہنے کھڑے ہیں ۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.