Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستانی ائرپورٹس پر موبائل ٹیکس کی وصولی اور حکومت کا موقف


سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حکومت نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے پاکستان میں موبائل فونز لانے پر ائیرپورٹ ٹیکس لینا شروع کر دیا ہے۔


 گزشتہ دنوں بیرون ملک سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ لاہور پر آنے والے ایک شہری کے پاس دو موبائل فونز تھے، کسٹم حکام نے اسے کہا کہ وہ ایک فون لیکر جا سکتا ہے، جبکہ دوسرے فون پر اسے ٹیکس دینا پڑے گا، اس شہری نے ٹیکس کیلئے سام سنگ کا J6 موبائل پر ٹیکس دینے کا فیصلہ کیا تو کسٹم حکام نے اسکی مارکیٹ ویلیو 26,000 روپے بنائی اور اس پر اسے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں  10 ہزار روپے ائرپورٹ پر ہی موجعد نیشنل بنک میں جمع کراوانے کا کہا گیا، رسید دکھانے پر اسے دوسرا موبائل واپس کر دیا گیا۔

انہوں نے کسٹم ڈیوٹی عائد کئے جانے کی رسید سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ”26,000 کے سام سنگ J6 فون پر ائیرپورٹ ٹیکس کی صورت میں 10 ہزار روپے ٹیکس! مجھے نہیں پتہ کہ وزارت فنانس کو معاشی مشورے کون آئن سٹائن دے رہے ہیں لیکن جو بھی دے رہے ہیں وہ شدید زیادتی کر رہے ہیں!“




وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی فون لا سکتے ہیں اضافی فون پرٹیکس ہے۔ہم دو ارب ڈالر کے موبائل درآمد کر رہے ہیں اس پر ٹیکس نہیں کریں گے تو کیسے چلے گا؟۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹر پر ایک پیغام میں فواد چودھری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی فون لا سکتے ہیں اضافی فون پرٹیکس ہے ۔ہم دو ارب ڈالر کے موبائل درآمد کر رہے ہیں اس پر ٹیکس نہیں کریں گے تو کیسے چلے گا؟۔


وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ60 ڈالر سے کم قیمت کے فون پر ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہے مہنگے فون پر 38 فیصد تک ٹیکس ہے اس سے زیادہ مناسب ٹیکسیشن کیا ہو گی،ملکی ترقی کیلئے ٹیکس کلچر اپنانا ہو گا۔


تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.