Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ کے صحافی پر تشدد والی ویڈیو


اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر ایک کے باہر نواز شریف کے ذاتی محافظوں نے دھکم پیل کے دوران گارڈز کو دھکے لگنے پر نجی ٹی وی چینل سما ٹی وی کے کیمرہ مین پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں کیمرہ مین زخمی ہو گیا۔ زخمی کیمرہ مین کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

صحافیوں نے اجتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کا مرکزی داخلی دروازہ بند کر دیا اور ارکان پارلیمنٹ کو بھی داخلے سے روک دیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی اجلاس میں شرکت اور اپنے بھائی شہباز شریف سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔ واپسی پر ان کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو نواز شریف کے اسکواڈ نے دھکے دیے۔

اس دوران سما ٹی وی چینل کا کیمرہ مین واجد علی سید ایک گارڈ کا دھکا لگنے سے زمین پر گر گیا، جس کے بعد ایک اور گارڈ نے اس کے چہرے پر ٹھوکر ماری جس کے نتیجہ میں واجد علی سید شدید زخمی ہو گیا۔

موقع پر موجود صحافیوں اس واقعہ کی تمام تر فوٹیجز بنا لیں جس کے بعد ایک گارڈ کو صحافیوں نے پکڑ لیا اور پارلیمنٹ کی سیکیورٹی پر تعینات سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کر دیا جبکہ دوسرا گارڈ اسکواڈ کی دیگر گاڑیوں میں بیٹھ کر فرار ہو گیا۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر پریس گیلری میں بیٹھے صحافی بھی گیٹ نمبر ایک پر پہنچ گئے جہاں کیمرہ مینوں نے دھرنا دے کر تمام ارکان کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس دوران مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب موقع پر پہنچیں اور صحافیوں کو رضامند کرنے کی کوشش کی لیکن صحافیوں نے ان کی کوئی بات سننے سے انکار کر دیا جس پر انہیں وہاں سے جانا پڑا۔

اس دوران وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری پہنچے اور کہا کہ وہ صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تمام صحافیوں نے مطالبہ کیا نوازشریف کے گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے فوری گرفتار کیا جائے۔

فواد چوہدری نے سوال کیا کہ اس واقعہ کا مدعی کون بنے گا جس پر تمام صحافیوں نے کہا کہ وہ سب اس واقعہ کے مدعی بنیں گے۔

اس صورت حال پر پارلیمنٹ کی پریس گیلری سے بھی واک آؤٹ کیا گیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا۔

وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ختم ہو گئی مگر مغلیہ سوچ ختم نہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب غریبوں کی اور بددعائیں نہ لیں۔ کیمرہ مین کے زخمی ہونے پر بھی میاں صاحب نے رکنے کی زحمت نہ کی۔ حکومت اظہار کی آزادی پر کامل یقین رکھتی ہے۔ میڈیا ورکرز کے ساتھ ہیں۔

راہنما ن لیگ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ صحافی جو کہیں گے ہمیں قبول ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) صحافی برادری کے ساتھ ہے۔ میڈیا کے جو بھی مطالبات ہیں پورے کیے جائیں گے۔ کیمرے وغیرہ کا نقصان ہوا ہو تو اسے پورا کیا جائے گا۔

بعد ازاں اسمبلی کی سیکیورٹی کے پاس موجود نوازشریف کے گارڈ منصب علی کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نواز شریف کے سیکیورٹی گارڈ کے صحافی پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس میں نجی سیکیورٹی گارڈز کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کردی ہے۔، آئندہ صرف پارلیمنٹ کی سیکیورٹی ہی تعینات رہے گی۔

سابق وزیر اعظم نواشریف نے بھی اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صحافیوں پر تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ماضی میں بھی کئی مرتبہ صحافیوں کو اجتجاجی دھرنوں یا معمول کی کوریج کے دوران پولیس یا مظاہرین کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر کیا جاتا ہے جہاں گذشتہ چند برسوں کے دوران ایک سو کے قریب صحافی مختلف پرتشدد کارروائیوں یا دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.