115

میں کچھ پل کا سکوت چاہتا ہوں

میں کچھ پل کا سکوت چاہتا ہوں
میں اس جہاں کے سینے میں
کچھ دن رہنا چاہتا ہوں
کہ خوابوں نے بہت تھکایا ہے مجھے
روٹھے سپنوں نے بہت بھگایا ہے مجھے
رکو کہ میں کچھ لمحات کو سستانا چاہتا ہوں
روح تھک کہ چور ہوگئی
اب کچھ تازگی چاہتا ہوں
سنو رفتار سے اب بازیابی چاہتا ہوں
گرمی سے گھبراتا نہیں ہوں میں
سفر میں سستاتا بھی نہیں ہوں میں
اب اجڑے چمن کو بناتے بناتے
تھک گیا ہوں میں
بس کچھ وقت کیلئے ان گلابوں کی
مہک چاہتا ہوں
میں کچھ پل کو سستانا چاہتا ہوں
بےذوق گردانو نہ مجھے
سنو سست نہ جانو مجھے
میں اس جہاں کے سکون کا کچھ قرض چاہتا ہوں
دوائے لازوال جیسا اک مرض چاہتا ہوں
اس سے پہلے کچھ دیر کو سستانا چاہتا ہوں میں
مجھے لالہ گل کے خواب عزیز ہیں بہت
میری دنیا میں پرُتمیز لوگ بھی ہیں بہت
پر میں سب خود ہی سدھانا چاہتا ہوں
میں اپنی دنیا خود ہی بنانا چاہتا ہوں
اس سے پہلے میں اپنی وسعتوں کا
حصول چاہتا ہوں
میں اپنی ذات
فقط اپنی ذات کی خاطر کچھ پل
اس جہاں کے سینے میں سستانا چاہتا ہوں
میرا سفر ابد سے اذل تک
میری جاں پہ فضل اسکا اب تک
میں لٹاؤں بھی نہ تب بھی
وہ دیکھتا ہے مجھے سمجھتا اور نوازتا ہے
اسی سبب میں رازِسفر تلاشنے نکلوں گا
میں منزل کھوجنے کو شاید بہت بھٹکوں گا
پھر بھی میری جستجو اسے کھوجتے رہنے کو تر سے گی
مگر اس سب سے پہلے
میں کچھ پل کیلئے سکوں کی آغوش میں جانا چاہتا ہوں
آغاز سفر کچھ دیر کو سستانا چاہتا ہوں
پر انجام سفر فقط مر جانا چاہتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں