Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




انڈین سرجیکل سٹرائیک اور بی بی سی


بی بی سی، پاکستانی پی ٹی وی کی طرح برٹش حکومت کے زیراثر کام کرتا ہے اور بین الاقوامی جنگوں اور ممالک کے درمیان تعلقات کو ہمیشہ یوکے کے مفادات کے تناظر میں دیکھ کر خبریں لگاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قوم پرست رہنما جنہیں پاکستان میں کوئی جانتا بھی نہیں ہوتا بی بی سی اسکی خبریں بڑھ چڑھ کر نشر کر رہا ہوتا ہے، اسکے مقابلے میں انڈیا کی کسی نا کسی طرح بی بی سی فیور بھی کررہا ہوتا ہے، اسکی مثال ایسے ہے کہ نام نہاد علیحدگی پسند بلوچ لیڈروں کے انٹرویو بی بی سی بڑھ چڑھ کر لگاتا ہے جبکہ خالصتان کے علیحدگی پسند رہنماؤں کی خبریں لگانا اسکی پالیسی میں شامل نہیں ہے، کیونکہ اس سے انڈیا کے ناراض ہونے کا خطرہ ہے۔

آج تک پاکستان کے اندر طالبان اور بلوچوں نے جتنے بھی دھماکے کئیے ہیں انکی ذمہ داری وہ بی بی سی کو فون کر کے ہی قبول کرتے رہے ہیں۔ میرے اس تمہید باندھنے کا مقصد یہ بالکل نہیں ہے کہ بی بی سی کی تمام خبریں جھوٹی یا بے بنیاد ہوتی ہیں، خبریں کسی نہ کسی حد تک درست ہی ہوتی ہیں لیکن جب انڈیا کی بات آتی ہے تو بی بی سی خبریں محتاط انداز سے دیتا ہے۔

آج ریحان فضل صاحب نے دہلی سے بی بی سی اردو کیلئے دو سال پہلے نام نہاد انڈین سرجیکل سٹرائیک کے بارے میں تحریر لکھی ہے، یہ تحریر پڑھنے کے بعد انسان ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا، محترم نے اس سرجیکل سٹرائیک میں ایسے الفاظ لکھے ہیں جیسے امریکہ نے اسامہ بن لادن کے آپریشن کے وقت لکھے تھے، مثلاً ابامہ نے خفیہ وار روم میں بیٹھ کر آپریشن کنٹرول کیا، ایسے ہی مودی نے خفیہ وار روم میں آپریشن کنٹرول کیا، انڈین سپیشل سروسز گروپ کے انیس کمانڈوز ایک میجر کی نگرانی میں شام کو بین الاقوامی سرحد کراس کرتے ہیں، ان کے پاس اسرائیلی رائفلیں ہوتی ہیں اور یہ پاکستان میں ایک دہشت گردی کے کیمپ کے پاس رینگ رینگ کر جاتے ہیں، جسکا ایڈریس انکے پاکستان میں موجود جاسوسوں نے پہلے سے ہی دے رکھا ہوتا ہے، جب یہ نزدیک پہنچتے ہیں تو کیمپ کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں، یہ محتاط ہوجاتے ہیں، لیکن تھوڑی دیر بعد پتا چلتا ہے کہ فائرنگ انہوں نے ایسے ہی کی ہے اور وہ یہ ظاہر کرنا چاہ رہے تھے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔

ٹیم میں موجود میجر سیکیورٹی پر مامور جوانوں ہر نشانہ تانتا ہے، لیکن ٹریگر دبانے سے پہلے فیصلہ کر لیتا ہے کہ نہیں آج نہیں ہم کل رات کو حملہ کریں گے، یوں انیس کمانڈوز وہ رات اگلا تمام دن اور اگلی آدھی رات پلاننگ میں گزار دیتے ہیں، اور انکی دہشت ہوتی ہے یا انہوں نے سلیمانی ٹوپیاں پہنی ہوتی ہیں کہ دن کے وقت وہ کسی کو نظر نہیں آتے، اگلی آدھی رات کو میجر صاحب اپنی اسرائیلی رائفل سے دو سو میٹر دور سے پکا نشانہ لگا کر پہرے پر موجود محافظوں کو مار دیتے ہیں، انکی فائرنگ سے کیمپ میں موجود دہشت گرد ڈر کر جنگل میں بھاگنا شروع کر دیتے ہیں، اسی دوران یہ زیادہ تر دہشت گردوں اور دو پاکستانی فوجیوں کو مار دیتے ہیں اور واپس جانے کیلئے بہت اطمینان سے لمبا راستہ لیتے ہیں اور صبح سے پہلے انڈین باڈر کے اندر قدم رکھ لیتے ہیں، وہاں ایک ہیلی کاپٹر پہلے سے ہی تیار کھڑا ہوتا ہے جو میجر 007 کو لے کر اس جنرل کے پاس لے جاتا ہے جو اس سرجیکل سٹرائیک کا انچارج ہوتا ہے، جنرل اسے گلے لگاتا ہے، اسی دوران بیڑہ ایک ٹرے میں وہسکی سے بھرے گلاس لیکر اندر داخل ہوتا ہے، جنرل صاحب کہتے ہیں کہ جاؤں جلدی سے گلاس واپس لے جاؤ کس کے سامنے گلاس لیکر آ گئے ہو، یہ تو گلاس بھی کھا جاتے ہیں، یہ انکی ٹریننگ کا حصہ ہے، بیڑہ جلدی سے گلاس والی ٹرے لیکر باہر بھاگ جاتا ہے اور پوری وہسکی کی بوتل اٹھا لاتا ہے، جنرل اس میجر کے منہ میں اس وقت تک بوتل انڈیلتا رہتا ہے جب وہ بس نہیں کہہ دیتا، اسکے بعد میجر یہی بوتل جنرل کے منہ میں انڈیلتا ہے، یہاں شاید لکھنے والا بھول گیا ہے یا میجر ساب نے رحم کردیا تھا جو بوتل پوری کی پوری نہیں کھائی تھی، کیونکہ جو کانچ کے گلاس کھا سکتے ہیں انکے لئے بوتل کھانا کیا مسئلہ ہے😜۔

خیر یہ ساری کی ساری سرجیکل سٹرائیک مودی نے انڈین فوج کے سپہ سالار اور وزیر دفاع کے ساتھ دہلی میں خفیہ وار روم کے اندر بیٹھ کر آئی پیڈ پر دیکھی اور سٹرائیک انچارج جنرل نے سری نگر وار روم سے بذریعہ ٹیبلٹ اس عظیم سرجیکل سٹرائیک کا نظارہ کیا😜۔ بعد میں اس کمانڈو میجر کو جسکا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام نہیں ظاہر کیا گیا، انڈیا کے سب سے بڑے فوجی اعزاز سے نوازا گیا😀۔

قارئین آپ اس عظیم سرجیکل سٹرائیک کی کہانی بی بی سی اردو پر خود بھی پڑھ سکتے ہیں، پڑھیے اور بی بی سی کے اس کارنامے پر واہ واہ کیجئیے کیونکہ بی بی سی نے وہ کام کر دیا ہے جو انڈین میڈیا بھی ٹھیک طرح سے نہیں کر سکا کیونکہ انڈیا کے اندر عقل سلیم رکھنے والے تمام لوگوں نے اس سرجیکل سٹرائیک کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

#طارق_محمود
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.