Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




پاکستانی اسرائیل کیسے جاتے ہیں؟


پاکستانی قانون کے مطابق اسرائیل جانا غیرقانونی ہے، لیکن اسرئیلی قانون کے مطابق پاکستانی اسرائیل آسکتے ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ پر لکھا ہے کہ یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کیلئے کارآمد ہے۔ پاکستان نے ابھی تک اسرائیل کو ایک ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے اسی لئے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

مسلمانوں کا پہلا قبلہ مسجد اقصٰی یا القدس اسرائیل کے شہر یروشلم کے اندر واقع ہے، اور یہاں جانا اور نماز پڑھنا ہر مسلمان کی دلی خواہش ہے، اسی خواہش کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے ہر سال سینکڑوں پاکستانی اسرائیل آتے ہیں۔



ضرور پڑھیں: : یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس شہر یروشلم کی تاریخ



آپ حیران ہونگے کہ جب پاکستانی قانون کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانا ہی غیرقانونی ہے تو پھر ایسی صورت میں پاکستانی لاء انفورسمنٹ کے ادارے ایسے لوگوں کو واپسی پر گرفتار کیوں نہیں کرتے، اسکی وجہ یہ ہے کہ لوگ اسرائیل جانے کیلئے پاکستانی پاسپورٹ کی فوٹو کاپی ضرور دیتے ہیں، لیکن ویزہ لینے کیلئے عارضی سفری دستاویز کا استعمال کرتے ہیں۔ اسرائیل کا ویزہ، دخول اور خروج کی مہر سب کچھ اسی دستاویز پر لگتے ہیں، سارے سفر کے دوران سیاحوں کو اپنے پاس یہ سفری دستاویز رکھنی پڑتی ہے۔


ضرور پڑھیں:   دیوار گریہ کہاں ہے اور مسلمانوں اور یہودیوں کے نزدیک اسکی کیا اہمیت ہے؟


اسرائیل جانے کیلئے پاکستانی دو راستے اختیار کرتے ہیں، ایک زمینی اور دوسرا فضائی۔ پاکستان کے چونکہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اسلئیے اسلام آباد میں اسرائیل کا سفارت خانہ موجود نہیں ہے، اسرائیل کا ویزہ لینے کیلئے پاکستانی سیاحوں کو عمان، آذربائیجان، کینیا، میانمار، گھانا، یا نیپال میں سے کسی ایک ملک میں ویزہ درخواست دینے کیلئے جانا ہوتا ہے، یہاں سے انہیں ایک عارضی سفری دستاویز جاری کی جاتی ہے، اور پاکستانی سیاح اس دستاویز پر اسرائیل کے بن گورین ائرپورٹ کی طرف فضائی سفر شروع کرتے ہیں، واپسی پر دوبارہ انہی ممالک کی طرف جاتے ہیں اور پاکستان واپسی کا سفر شروع کردیتے ہیں۔


ضرور پڑھیں:   تابوت سکینہ کیا ہے، اور یہ اس وقت کہاں ہے؟


زمینی راستے سے اسرائیل جانے کیلئے پاکستانی سیاح دو ممالک اردن اور مصر کا سہارا لیتے ہیں۔ پاکستانی پہلے ان دو ممالک میں جانے کیلئے پاکستان سے فضائی سفر کی ریٹرن ٹکٹ خریدتے ہیں، جس سے پاکستانی اداروں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اردن یا مصر جارہے ہیں اور پھر وہاں سے واپس آ جائیں گے۔ مصر یا اردن پہنچنے پر پاکستانی وہاں سے اسرائیلی سفارت خانے سے عارضی سفری دستاویز پر اسرائیل کا ویزہ حاصل کرتے ہیں اور زمینی راستے کے ذریعے اسرائیلی بارڈر پر آتے ہیں، وہاں ویزہ والی دستاویز دکھاتے ہیں، اس پر دخول کی مہر لگائی جاتی ہے اور پاکستانی پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بمعہ اصل پاسپورٹ جمع کر لئے جاتے ہیں۔ اسرائیلی حکام یہ تمام ثبوت جمع کرتے رہتے ہیں اور سال کے آخر پر تمام ثبوت ایک رپورٹ کے ساتھ اقوام متحدہ میں جمع کروا دیتے ہیں کہ دیکھیں پاکستان نے ہمیں ایک ملک کے طور پر قبول نہیں کیا لیکن اسکے ہزاروں شہری ہر سال ویزہ لیکر ہمارے ملک آتے ہیں۔

اسرائیلی بارڈر سے پاکستانی سیاحوں کو یروشلم جانے کیلئے ٹیکسی کروانی پڑتی ہے، انہیں صرف تین سے چار دن کا ویزہ دیا جاتا ہے، اس عرصے کے دوران انہیں اسی بارڈر پوائنٹ پر آنا ہوتا ہے جہاں سے انہوں نے سفر شروع کیا ہوتا ہے، یہاں پہنچ کر عارضی دستاویز والے ویزے پر خروج کی مہر لگائی جاتی ہے، اور مطلوبہ شخص کو اسکا پاکستانی پاسپورٹ واپس کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی سیاح اردن یا مصر سے دوبارہ پاکستان روانہ ہوجاتے ہیں، اور پاکستانی ائیرپورٹ پر امیگریشن حکام یہی سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اردن یا مصر سے آرہے ہیں۔


ضرور پڑھیں:   ہیکل سلیمانی کیا ہے اور یہ کب بنا؟َ


پاکستان اور بنگلہ دیش جو پہلے مشرقی پاکستان ہوتا تھا، دونوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، دونوں ممالک کی حکومتیں اور افواج یہ چاہتی ہیں کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات اختیار کر لیں لیکن اپنے اپنے عوامی جذبات اور سعودی عرب کے پریشر کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، حالانکہ اسرائیل کے ہمسایہ مسلم ممالک ترکی مصر اور اردن نے اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات استوار کئیے ہوئے ہیں۔


دو ہزار پانچ میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور اسرائیلی وزیر خارجہ یوسی بیلن استنبول میں ترکی کے تعاون سے باہمی مذاکرات کر چکے ہیں، ترکی کی خواہش ہے کہ پاکستان اسرائیل کیساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لے، اس وقت ترکش گورنمنٹ استنبول میں موجود پاکستانی اور اسرائیلی سفارت خانوں میں میڈی ایٹر کا کام کر رہی ہے اور پاکستان اسرائیل سے ترکی کے ذریعے مختلف مذاکرات اور معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔


پاکستانی گزشتہ کئی دہائیوں سے سیروسیاحت اور مذہبی بنیادوں پر اسرائیل آتے رہے ہیں، لیکن اب پاکستانی کاروباری شخصیات کاروبار کیلئے اور آئی ٹی ایکسپرٹ جابز کیلئے بھی اسرائیل آ جا رہے ہیں۔ اسرائیل اور عربوں میں علاقائی تنازعہ ہے، لیکن اس سب کے باوجود جن ممالک کے ساتھ انکا تنازعہ ہے انہوں نے اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات بھی استوار کیے ہوئے ہیں، پاکستان اسرائیل سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے اور اسکا بظاہر اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں ہے، لیکن پاکستان میں موجود عوام یہودیوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں مولوی طبقہ جس کسی کے خلاف ہوجائے اسے یہودی ایجنٹ ڈیکلئر کر دیا جاتا ہے، اسکی مثال پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہے، جس پر یہودی ایجنٹ کا الزام اس وقت سے لگایا جارہا ہے جب سے اس نے سیاست میں قدم رکھا ہے، حالانکہ یہی لوگ کرکٹر عمران خان کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔

نوٹ : امریکہ، کینیڈا، تمام یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور بہت سے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے پاکستانی نژاد شہری بغیر ویزہ کے اسرائیل جاسکتے ہیں۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.