Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




ساہیوال میں گاڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد سی ٹی ڈی اہلکاروں اور کار میں موجود خلیل کے درمیان ہونے والی بات چیت


19جنوری کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب کاﺅنٹر ٹیررازم (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے لاہور سے آنے والی ایک کار کے ٹائروں پر فائرنگ کی۔ جب یہ کار سڑک کنارے رک گئی تو اس پر تین اطراف سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے باعث کار میں موجود عورتوں اور بچوں نے چیخ و پکار شروع کی تو رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس سی ٹی ڈی اہلکار کار کے قریب آئے۔ کار میں موجود زخمی خلیل نے کہا کہ ہماری تلاشی لے لو، ہم غیر مسلح ہیں، ہم شادی میں جا رہے ہیں، تم نے جو لینا ہے لے لو، ہمیں چھوڑ دو۔ پھر اس نے کہا کہ ہماری گاڑی میں بچے ہیں، ہمارے بچوں کو مت مارو۔ ایک سی ٹی ڈی اہلکار نے خلیل سے کہا کہ بچوں کو کار سے باہر نکالو۔ اس دوران خلیل اپنے ہوش کھو چکا تھا۔ پچھلی سیٹ پر موجود اس کی بیوی نبیلہ اور 13سال کی بیٹی اریبہ خاموش ہو چکی تھیں۔ دو سی ٹی ڈی والوں نے پچھلے دروازے کھول کر دس سالہ عمیر، سات سالہ منیبہ اور چار سالہ ہادیہ کو نکالا اور پھر بڑی سفاکی کے ساتھ کار میں موجود دو زخمی عورتوں اور دو زخمی مردوں پر مزید گولیاں برسائیں تاکہ ان میں سے کوئی زندہ نہ بچ جائے۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گاڑی لاہور کی طرف سے آ رہی تھی جس کے پیچھے ایلیٹ فورس کی ایک گاڑی آئی اور فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں دو عورتیں اور دو مرد مارے گئے جس کے بعد گاڑی سے تین بچے برآمد ہوئے جن میں سے ایک بچہ زخمی تھا، گاڑی میں سوار افراد نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کی اور تمام فائرنگ ایلیٹ فورس کی جانب سے ہی کی گئی، پولیس والوں نے گاڑی سے لاشیں بھی نکالیں لیکن ہم نے کوئی اسلحہ برآمد ہوتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ گاڑی سے کپڑوں کا بیگ اور اس طرح کا گھریلو سامان ہی برآمد ہوا۔

دوسری جانب ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ساہیوال میں کارروائی کی گئی اور ٹول پلازہ کے قریب گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی جس پر گاڑی سے فائرنگ شروع ہو گئی اور پھر ان کا پیچھا کر کے کارروائی کی گئی جبکہ کارروائی کے بعد گاڑی سے اسلحہ، دستی بم اور خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.