Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




اپنی فوج کے خلاف بولنے والے دلیر نہیں ضمیر فروش اور بکاؤ ہیں۔



پاکستانی فوج ہماری فوج ہے اور ہمارا فخر ہے۔ اپنے ملک سے باہر رہ کر قدر ہوتی ہے کہ اپنا ملک کیا ہے۔ اور ہمارے پاس صرف دو باتیں کہنے کو رہ گئی ہیں کہ ہماری کرکٹ اور ہماری فوج بس ان دو چیزوں کا تعارف کراتے شرمندگی نہیں ہوتی ورنہ تو کوئی کثر نہیں رہ گئی ہم پاکستانیوں پہ کوئی اعتبار نہیں کرتا کہ کرپٹ ہونگے ہماری ڈگریوں کو کوئی نہیں مانتا کہ خریدی گئی ہونگی۔


ضرور پڑھیں:   پاکستانی اسرائیل کیسے جاتے ہیں؟


ہمارے پاسپورٹ ہمارے پیدائشی سرٹیفکیٹ تک کوئی نہیں مانتا کہ دو نمبر ہونگے۔ ہمارے مُلک کی پولیس رپورٹ کوئی نہیں مانتا کہ کسی نے ٹیبل کے سے ہاتھ کر کرکے چائے پانی کے بہانے رشوت لے کر ایک مجرم کو بھی کیریکٹر سارٹیفکیٹ بنا کر دے دیا ہوگا۔ہمارے ڈاکٹر قصائی جو آپریشن کر رہے ہیں ہمیں لوگ قصائی سمجھتے ہیں۔ کس کس بات کا حوالہ دوں اب خیر سے سوشل میڈیا پہ مرد عورت کا روپ دھار رہے ہیں کہ عورت کو فلاور زیادہ ملتے ہیں ہم اپنی شناخت چھپا کر اپنی اصلیت بتا رہے ہیں کہ ہم کتنے ٹھرکی ہیں۔

گالی گلوچ اور دوسروں کی عزت اچھالنا ہماری نشاندہی کرتا ہے اور اپنے سارے کرتب باہر کے لوگوں کو دکھا رہے ہیں۔ نہ کبھی تعلیم پہ بات کی نہ صحت پہ اور نہ ہی اپنے مہنگے ترین قانون پہ جو صدیوں سے امیروں کو بچاتا آرہا ہے اور غریب رگڑا جاتا ہمیں انڈیا سے اتنا پیار ہے یا مودی کی دوستی کا آثر ہے ہم نے انڈین ڈراموں کے بعد پھپھو کو بُوآ اور تایا کو کاکا اور باپ کو باؤ جی کہنا شروع کردیا ہے لیکن انکا قانون یا انکی اپنے وطن سے ہمدردی کبھی نہیں سیکھی۔

انڈیا کا یا دنیا کے کسی بھی ملک کا بندہ باہر جاکر اپنے ملک یا اپنی فوج کے خلاف نہیں ہوتا سوائے پاکستانیوں کے اور مجھے ڈر ہے کہ چند پیسوں کی خاطر بکنے والے پاکستانی جو فوج کے خلاف ہورہے ہیں وہ پاکستان کو عراق نہ بنا دیں ۔میر صادق ایک تھا اب تو ہر بندہ میر صادق بن رہا ہے پاکستان کے خلاف لوگ ضمیر بیچ کر پیسے کیلئے جب اپنے ہی ملک اور اپنی ہی فوج کے خلاف ہوتے ہیں تو کیا یہ نہیں سوچتے کہ ہم اگلے کی نظروں میں کتنے غیرت مند ہونگے کیا وہ نہیں سوچتے ہونگے کہ جو اپنی فوج اور اپنے ملک کے نہیں بنتے ہمارے کیا بنیں گے لیکن اس میں ہم سب قصور وار ہیں ۔

آج تک کوئی تعلیم نہیں ہے ایک تعلیم سے ایک سوچ اور ایک قوم بنتی ہے ۔ ہم نے قوم کو تعلیم نہ دے کر تقسیم کردیا ہے کچھ لوگ مولویوں کے راستے پہ چل پڑے مولویوں کے پاس خود تعلیم نہیں لوگوں کو کیا سکھائیں گے اگر ہوتی تو بھی نہ سکھاتے کیونکہ انکو اپنے لشکر بنانے ہیں ۔کچھ لوگ سیاسیوں کے ہتھے چڑھ گئے وہ آج تک انکو ہی مرشد مانتے ہیں کوئی بھٹو کو زندہ کرنے پہ لگا ہوا ہے اب تو انکی روح بھی بھی کہتی ہوگی کہ یا اللہ میری قبر پہ کب تک جلسے ہوتے رہیں گے اور قبروں کی بے حرمتی اور اللہ کے کام میں دخل دینا کہ قبر میں بھی بھٹو زندہ ہے ۔کچھ شیر شیر کرکے میاں صاحب کی پوجا کرنے پہ لگے ہوئے ہیں انکے اپنے بیٹے باپ کے جیل جانے یا ماں کے مرنے پہ نہیں گئے لیکن عام لوگ بھوک ہڑتال پہ لگے ہوئے ہیں ۔

پی ٹی آئی بھی کسی سے پیچھے نہیں طلعت حسین کے ساتھ مل کے لیڈروں کی ٹانگیں دکھانے کا ٹرینڈ چل رہا ہے کسی نے سچ کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان سال میں لاکھوں روپیہ واہگہ باڈر پہ اس لئے لگا رہے ہیں کہ کس کی ٹانگ زیاد اوپر اٹھتی ہے جبکہ دونوں کی اعوام کے پاس تو ٹوائلٹ بھی نہیں ہیں ۔لیکن جو بھی ہر بندہ جو فوج کے خلاف ہے وہ پاکستان میں ہے یا باہر وہ سب پیسے لے کر یہ کررہے ہیں تاکہ پاکستان کی حالت بھی عرب ملکوں کی طرح ہو اور یروشلم کی طرح مینار پاکستان مودی کے حوالے ہو ہماری فوج ہمارا فخر ہے اللہ اسے سلامت رکھے اور دشمن ناکام ہو امین۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.