Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے؟


اسمیں اب کسی مبالغے کی بات نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ انسداد دہشت گردی پولیس خود دہشت گرد بن گئی ہے، پنجاب فرانزک سائینس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کے گرفتار شدہ اہلکاروں نے جو بیانات دئیے تھے وہ تمام جھوٹ پر مبنی ہیں۔ گرفتار شدہ اہلکار شروع دن سے یہ بیان دے رہے ہیں کہ پہلی گولی مقتولین کی کار سے چلائی گئی اور انہیں سی ٹی ڈی نے قتل نہیں کیا بلکہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے انہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔

پنجاب فرانزک سائینس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جو بندوقیں فرانزک سائینس ایجنسی میں جمع کروائی گئی ہیں، انکی نالیاں اور فائرپنز تبدیل کی گئی ہیں، اور جو وائرلیس ریکارڈنگ کا ڈیٹا جمع کروایا گیا ہے اس میں بھی ردوبدل کی گئی ہے۔ سی ٹی ڈی ڈپارٹمنٹ کو شاید یہ اندازا نہیں تھا کہ سائینس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ جس بندوق سے گولیاں چلائی گئی ہوں اسکی فائر پن اور نالی کے اندر لگی خراشوں سے یہ پتا لگایا جاسکتا ہے کہ گولیاں کتنا عرصہ پہلے، کتنے فاصلے سے چلائی گئی تھیں۔

فرانزک ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں یہ بات صاف طور پر لکھی ہے کہ گولیاں بالکل نزدیک سے یعنی فٹ ڈیرھ فٹ کے فاصلے سے رکی ہوئی گاڑی پر چلائی گئی ہیں، گاڑی سے زندہ بچ جانے والے خلیل کے بیٹے نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ سب سے پہلے پولیس نے ذیشان ڈرائیور کو مارا اور بچوں کو باہر نکالا، بعد میں ان میں سے ایک اہلکار نے وائرلیس پر بات چیت کی اور پھر فائرنگ کا اشارہ کیا جس سے وحشی اہلکاروں نے اسکے والد خلیل، والدہ اور تیرہ سالہ بہن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

جس طریقے سے سی ٹی ڈی اہلکاروں کے جرائم پر پردہ ڈالا جارہا ہے اور حقائق چھپائے جارہے ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یقین ہو چلا ہے کہ ان مجرم اہلکاروں کو کچھ بھی نہیں ہوگا، کیونکہ انکے پیچھے بیوروکریسی کے بڑے لوگ ہیں جو انہیں بچا رہے ہیں اور جنہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر ان اہلکاروں کو سزا ہوتی ہے تو انکے اپنے جرائم بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

دن کی روشنی میں سب کے سامنے دہشت گرد پولیس اہلکاروں نے اندھے دھند گولیاں چلائی ہیں اور چار قتل کئیے ہیں، جن میں ایک خاتون اور ایک تیرہ سالہ بچی تھی، لوگوں نے اپنے اپنے موبائل ٹیلی فون سے اس واقعہ کی فلمیں بھی بنائی ہیں جو سوشل میڈیا پر سب لوگ دیکھ چکے ہیں، اب فارنزک ایجنسی نے بھی یہ رپورٹ جمع کروا دی ہے کہ سی ٹی ڈی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جتنے ثبوت جمع کروائے گئے ہیں ان میں سے اکثر میں ردوبدل کی گئی ہے، ان سب کے باوجود اگر ان اہلکاروں کو سزا نہیں ہوتی تو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت، پولیس ڈپارٹمنٹ اور عدلیہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جائے گا اور عام عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ پاکستان میں جنگل کا قانون چل رہا ہے کہ صرف وہی یہاں بچ سکتا ہے جو طاقتور ہو، کمزور کو یہاں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

کچھ سال پہلے راقم کی ایک سی ٹی ڈی اہلکار سے ملاقات ہوئی تھی، اور اس اہلکار نے یہ ہنس کر بتایا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے حراست میں لئے گئے بندے مارتے ہیں اور ایسا کرنے کیلئے احکامات انہیں اوپر سے آتے ہیں۔ اس شخص نے ایک واقعہ بھی سنایا تھا کہ کیسے وہ ایک گرفتار شخص کو لیکر کر جارہے تھے اور اوپر سے اسے مارنے کا حکم آیا تھا، انہوں نے ایک ویران جگہ پر گاڑی روکی اور ساتھ موجود گنے کے کھیت میں ملزم کو لیکر گھس گئے، ملزم یہ بات بھانپ چکا تھا کہ اب اسکی زندگی ختم ہونے والی ہے اس نے دو نفل پڑھنے کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا، جونہی اس نے سلام پھیرا اسی شخص نے اپنی بندوق سے یکے بعد دیگرے کئی فائر کر کے اسے ہلاک کر دیا، بعد میں اپنی گاڑی پر بھی دو تین فائر کر دئیے اور ایک جھوٹے پولیس مقابلے کی رپورٹ بنا کر اپنے محکمے میں جمع کروا دی۔

پنجاب میں جھوٹے پولیس مقابلوں سے ملزمان کو قتل کرنے کی روایت نئی نہیں ہے بلکہ یہ کئی دہائیوں سے چل رہی ہے اور اسے پروان چڑھانے میں سابق وزیراعلی محترم شہباز شریف کا بڑا ہاتھ ہے، اب تحریک انصاف کی حکومت ہے لہذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شہباز شریف کی طرف سے ایسا کرنے کے احکامات تھے، اسلئیے اگر اب گرفتار اہلکاروں کو سزا نہیں ہوتی تو اسکا الزام تحریک انصاف کی حکومت پر جائے گا، اور حکومت جو پہلے ہی مالی پریشانیوں میں گِری ہوئی ہے اس واقعہ سے اسکی مقبولیت مزید کم ہوجائے گی۔

میری سوشل میڈیا پر لکھنے والوں سے درخواست ہے کہ اس واقعہ پر زیادہ سے زیادہ لکھیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں یہ واقعہ تازہ رہے اور لوگ حکومت، پولیس اور عدلیہ پر پریشر ڈالتے رہیں شاید اس طریقے سے کچھ انصاف ہو جائے، حکومت، پولیس، عدلیہ اور فوج کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ خلیل کے بیٹے کے سامنے پولیس نے اسکی معصوم بہن ماں اور باپ کو قتل کیا ہے اور اگر اس واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سزا نہ دی گئی تو بڑا ہو کر یہی بیٹا انصاف کے حصول کیلئے بندوق بھی اٹھا سکتا ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.