Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




موجودہ دور کا ولی اللہ


بچپن سے پرانے زمانے کے ولی اللہ اور بزرگان دین کے بارے میں پڑھتے آئے ہیں کہ جناب نے ماں کے پیٹ میں ہی قرآن حفظ کرلیا، فلاں بن فلاں جناب ہواؤں میں اُڑتے تھے، فلاں قبرستان میں گئے تو تمام مردے کھڑے ہوگئے، فلاں نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو کئی سال سے ڈوبا بحری جہاز ساحل پر آگیا، فلاں چالیس دن درخت سے الٹا لٹک کر چلا کرتے رہتے تھے، غرض ایسی بہت سی داستانیں سنتے آئے ہیں، یہ بات بار بار ذہن میں آتی رہی ہے کہ ماضی کے لوگ کتنے نیک تھے انکے زمانے میں انہونی ہوجایا کرتی تھی، کاش آج کے دور میں بھی ہم ایسی چیزیں دیکھ سکتے، موجودہ دور میں ایک صاحب کے دو تین معجزات سننے کو ملے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ وسلم کو مدینے کی ریٹرن ٹکٹ دے کر پاکستان اپنے گھر مہمان بلایا ہے، انکی پسند کی کھانے کی ڈِش بنائی ہے، لیکن ان صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ وسلم کا پاسپورٹ کیسے بنا تھا، کونسی ائیرلائنز پر انہوں نے سفر کیا تھا، کیا انہوں نے پاسپورٹ کے بغیر سفر کیا تھا، یہ ایسے سوالات تھے جنکے جوابات آج تک نہیں مل سکے۔


ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے چالیس سال تک عشاء کی نماز کے وضو کیساتھ فجر کی نماز پڑھی ہے، یہ بات سن کر بھی حیرت ہوئی کہ جناب کے تین چار بچے بھی ہیں، محترم اپنی بیگم کو کب وقت دیتے تھے، اور جناب کو کبھی گیس کا مسئلہ بھی نہیں ہوا تھا، شاید آپ سپر مین ہیں کیونکہ ہم جیسے عام بندے تو ایک نماز پڑھ کر اسی وضو سے دوسری نماز نہیں پڑھ سکتے یہی شبہ رہتا ہے کہ کہیں ہوا خارج نہ ہو گئی ہو، دوبارہ وضو کرنا پڑتا ہے۔




پنجاب کے ایک بہت بڑے پیر صاحب ایک دفعہ اپنے درجنوں مریدین کے درمیان بیٹھے تھے کہ خواب میں نبی صلی اللہ وسلم کی زیارت کی بات چھڑ گئی، اس پر جناب پیر صاحب نے جوش میں آ کر فرمایا کہ بیوقوف ہیں وہ لوگ جو عام لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ انہیں خواب میں نبی صلی اللہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے، خدا کی قسم اس فقیر کی کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں نبی صلی اللہ وسلم کی زیارت نہیں ہوئی ہو، اور میں نے کبھی یہ بات عام لوگوں کو نہیں بتائی اس پر مریدین نعرۂ تکبیر ، نعرۂ یا رسول اللہ اور نعرۂ پیر صاحب کا ورد کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس چشم دید واقعہ کے بعد ہر حاضر مرید یہ بات ہزاروں غائیبین مریدوں اور عام لوگوں تک یہ بات ثواب سمجھ کر پہنچاتا ہے اور ایسے یہ بات مجھ جیسے گنہگار اور عام بندے تک بھی پہنچ جاتی ہے۔


فوجی سکولوں میں پڑھنے، کبھی کبھار ابدالی مسجد ملتان میں شب جمعہ میں شرکت کرنے اور میٹرک کے بعد تبلیغی بھائیوں کیساتھ تین چار سہ روزے لگانے کے بعد مجھ گناہگار اور ناسمجھ بندے کو پیروں کے معجزات فضول لگنے شروع ہوگئے تھے، لیکن باآمر مجبوری کبھی عوامی سطح پر اسکا اظہار نہیں کیا تھا، کیونکہ دس ہزار کی آبادی کا ہمارا گاؤں سو فیصد بریلوی تھا، اور شہر سے گاؤں چکر بھی لگتا رہتا تھا، لہذا جسمانی حفاظت کے پیش نظر مذہبی معاملات پر تبصروں سے گریز کرنا ہی بہتر سمجھا۔


تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ بیروزگاری کے زمانے میں گاؤں رہنا پڑا تو ایک بہت اچھے با شرح مرید صاحب سے دوستی ہوگئی، جناب نے اپنے پیر صاحب کے معجزات سنا کر اپنا ہم پیالہ بنانے کی پوری کوشش کی لیکن ناکامی پر میری موجودگی میں ہی باقی مریدین صاحبان سے آنکھ کے اشارے سے کہنا شروع کردیا کہ خاصوں کی باتیں عاموں میں نہ کریں۔


ایک دفعہ ایک مرید صاحب کے ساتھ ملتان کے نزدیک کسی گاؤں میں کسی فوتگی پر جانے کا اتفاق ہوا اور راستے میں ملتان شہر سے واقفیت کی بنا پر ان مرید صاحب کی ذاتی درخواست پر انہیں احمد سعید کاظمی صاحب اور شاہ رکن عالم صاحب کے مزار پر لے گیا، ہم دونوں نے وہاں روایتی طریقے سے دعا مانگی، ان صاحب نے کیا پڑھا اسکا تو مجھے معلوم نہیں ہوسکا، لیکن میں نے سورۂ فاتحہ، سورۂ احد اور درود ابراہیمی پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لئے، وہاں سے مذکورہ گاؤں میں فوتگی والے گھر چلے گئے جہاں انہوں نے کھلے صحن میں چارپائیاں بچھا کر ہمارے سونے کا انتظام کیا، اگلی صبح مرید صاحب نے خوش ہوتے ہوئے مجھے رات والا خواب سنایا کہ رات کو کاظمی صاحب اور شاہ رکن عالم صاحب انکے خواب میں آئے اور انہوں نے انہیں حاضری دینے پر شاباش دی، میں اس خواب پر سر پیٹ کر رہ گیا کہ مجھ سے ایسا کونسا گناہ ہوگیا تھا کہ وہ آپ کے پاس تو آ گئے اور ساتھ والی چارپائی پر سوئے ہوئے مجھ گناہگار کو ہیلو کہنا بھی گوارا نہ کیا۔


قارئین ماضی کے کچھ واقعات اس لئے آپکی نظر کرنے پڑ گئے ہیں کیونکہ حال ہی میں ٹی وی اینکر اقرار الحسن کا ٹویٹ نظروں کے سامنے سے گزرا ہے جس میں محترم کسر نفسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ لکھتے ہیں کہ وہ زیادہ علم جاننے کا دعویٰ تو نہیں کرتے لیکن انہوں نے چوتھی جماعت میں ہی اپنے ابا کی چھوٹی سی لائبریری سے تنویر المقباس، تفسیر کبیر، تفسیر در منشور، مفاتیح الغیب، روح البیان، روح المعانی، اور تفسیر ابن کثیر سمیت ایک درجن کے لگ بھگ تفاسیر کی کتابیں اور صحاح ستہ کا مطالعہ کر لیا تھا، محترم نے جن کتابوں کے نام لکھے میں یہ کتابیں عربی زبان میں لکھی گئی تھیں اور مجھ جیسے کم علم کو انکے نام بھی پڑھنے میں دشواری پیش آ رہی ہے، اگر مبالغہ آرائی سے کام نہ بھی لیا جائے تو بھی ایک عام انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ محترم اقرار الحسن موجودہ دور کا پیر اور ولی اللہ ہے، کیونکہ چوتھی جماعت میں جب ہم جیسے نالائق ذوااضعاف اقل اور عاد اعظم والے سوالوں پر استادوں کی مار سہہ رہے تھے تب جناب نے دین اسلام کے نچوڑ کی ایسی ضخیم کتابیں بھی پڑھ لیں تھیں جنکے کے نام ہمیں عمر کا ایک بڑا حصہ گزار کر بھی پڑھنے نہیں آتے۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.