144

ہم سب ویب سائٹ اور فکری تباہی

میں نے کافی عرصے سے ہم سب ویب سائٹ کو سوشل میڈیا پر فالو کیا ہوا تھا اور وہاں پر اپلوڈ ہونے والی تحاریر کالمز ، بلاگ اور دیگر خبریں پڑھ رہا تھا مگر آہستہ آہستہ وہاں سے میرا دل اکتا گیا اور نفرت ہوگئی اسکی بہت ساری وجوہات ہے جن میں چند ایک کو یہاں بیان کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

پہلی بات اس صفحے پر اپلوڈ ہونے والے کالمز اور بلاگ میں 75 فیصد سیکس کے متعلق کہانیاں ہوتی ہے وہ بھی ایسے نہیں کہ زنا سے نفرت اور آگاہی دی جائیں بلکہ زنا کی ایک خاص اینگل سے ترویج کی جاتی ہے اور مبینہ طور پر فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے ہم جنسی پرستی کی کہانیاں اور اسطرح کا کالم ہوگا کہ امیر عورت کا طالعبلم سے دوستی اور سیکس، اور ٹیویشن میں فیمل ٹیچرز سے عاشقی یہ وہ کہانیاں ہے جن سے ایک کنوارہ نوجوان سیکس کی جانب متوجہ ہوتا ہے پھر نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے زینب جیسے دلخراش واقعات عام ہوتے ہیں۔

دوسری یہ کہ وہاں اس ویب سائٹ پر ذاتی کردار کشی زیادہ ہوتی ہے وہ بھی ایسی گٹھیا کہ کہانیاں لکھنے والی یا لکھنے والا ریحام خان کی کتاب یا کوئی جھوٹی پرانی کہانی کا حوالہ دیکر کچھ اپنی طرف سے بھی مصالحہ شامل کرکے کہانی بنادیتے ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے یہ ویب سائٹ کسی بھی صورت صحافتی اقداروں پر پورا نہیں اترتی اور مکمل طور پر جانبدار ہے صرف اور صرف نواز شریف کی حمایت والی تحاریر اور عمران خان کی ذات اور حکومت پر براہ راست تنقید والی تحاریر کو جگہ ملتی ہے۔

چوتھی سب سے بڑی وجہ یہ ہے اس میں لکھنے والے سارے وہ نام نہاد دیسی اور خونی لبرلز ہیں جنہیں لبرل کے اصل معنی کی تو الف کا بھی پتہ نہیں ہے بس کسی کی ذات پر بات کرنا، براہ راست تنقید کرنا، مذہب کیخلاف بات کرنا ،لوگوں کی کردار کشی کرنا، قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف بولنا اور حکومتی پالیسیز پر سیاسی بنیادوں پر تنقید برائے تنقید اور اپنے اوپر تنقید کرنے والے کو ڈائریکٹ بلاک کرنے کو اظہار آزادی کا نام دینے والے شامل ہیں۔

یہاں آپ کو عدلیہ کیخلاف منفی خبریں اور  ججز کا مذاق اڑانا جیسی تحاریر ملیں گی۔

کسی بھی قسم کی معاشرتی برائیوں کیخلاف اور اخلاقی ذمہ داریوں سے آ گاہی کے لیے ایک بھی تحریر تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے گی۔

جو تحاریر ملیں گی وہ جنسی تعلیم کو فروغ اور کردار کشی اور اداروں کیخلاف ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی تحاریر ہونگی جو کسی بھی صورت اصلاح کے لیے نہیں ہوتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر دیگر بھی بہت ساری آن لائن ویب سائٹس ہیں جن میں قابل ذکر اردو الرٹ اور سیاست پی کے ہے وہاں نہ صرف معلومات کا خزانہ شامل ہیں بلکہ اخلاقی ،سیاسی،سماجی، سبق بھی شامل ہے جس سے کسی بھی صورت جانبداری محسوس نہیں ہوتی ہے پڑھنے والے کو وہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

ہم سب جیسے ویب سائٹ سے معاشرتی مسائل حل ہونے کی بجائے بگاڑ کی جانب بڑھ رہے ہے اس لیے ایسی ویب سائٹس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

( نوٹ:  یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے، اور اردونامہ ویب سائیٹ کا مصنف کی کسی بھی تحریر پر متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں