Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




سٹاک ہوم فیتیا میں پاکستان کلچرل سوسائیٹی کے زیراہتمام پاکستان ڈے کی تقریب


گزشتہ دن سٹاک ہوم کے علاقے فیتیا میں پاکستان کلچرل سوسائیٹی اور فورینا دے پاکستانیر کے زیراہتمام پاکستان ڈے کی تقریب منعقد کی گئی جس میں مہمان خصوصی سویڈن اور فن لینڈ میں پاکستانی سفیر جناب احمد حسین دایو صاحب تھے، اس تقریب میں سٹاک ہوم میں رہنے والوں خواتین وحضرات اور بچوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی، فیتیا ہال میں موجود نہ صرف تمام نشستیں بھر گئیں بلکہ لوگوں نے ساتھ موجود کوریڈور میں کھڑے ہو پاکستان ڈے کی تقریب دیکھی۔ سٹیج پر پاکستان کی محبت میں رنگا رنگ پروگرام پیش کئیے گئے اور شرکاء کو بہتر پرفارم کرنے پر مختلف تحائف سے نوازا گیا۔

  

اس تقریب میں ایک سکھ بھائی نے سٹیج پر پاکستان کا ایک بہت بڑا جھنڈا لہرا کر تقریب کو چارچاند لگا دئیے، اور یہ ثابت کر دیا کہ اقلتیں بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتی ہیں جتنی مسلمان کرتے ہیں۔

سفیر پاکستان نے اس موقع پر سویڈن میں پاکستانیوں کے جوش و جذبہ کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان انشااللہ قرارداد مقاصد کے مطابق اسی جوش اور ولولے سے ترقی کی منازل طے کرے گا، اور دنیا کو یہ دکھا دے گا کہ ہم پاکستانی مسلمان ایک زندہ، محنتی اور ایماندار قوم ہیں۔


تقریب کے میزبان طارق محمود نے احمد ندیم قاسمی کی خوبصورت نظم، جو انہوں نے وطن کی محبت میں سرشار ہو کر لکھی تھی، پرجوش انداز میں پڑھی جسے ہال میں موجود خواتین وحضرات نے بہت پسند کیا۔


خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے 
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو 

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں 
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو 

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے 
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو 

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں 
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو 

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن 
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو 

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال 
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو 

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کیلئے 
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو 


پاکستان کلچرل سوسائیٹی کے صدر جناب لیاقت علی خان صاحب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ اکابرین قوم نئی نسل کو بتائیں کہ اس قرار داد کا مآخذ کیا تھا؟  مفہوم اور مقاصد کیا تھے؟ تاکہ وہ صحیح معنوں میں تاریخ پاکستان کی تفصیل سے آگاہ ہو سکیں اور وطن عزیز کو قائد کے اقوال اور اقبال کے افکار میں ڈھالنے کا چارہ کرسکیں۔ 



جناب رجب علی خان صاحب نے اپنی جادوئی آواز سے ملی نغمے گا کر حاضرین کے دل موہ لئے، آپ استاد نصرت فتح علی خان صاحب کے کزن اور استاد راحت فتح علی خان صاحب کے رشتے میں چچا ہیں۔ 

  

تقریب میں پاکستان سے تشریف لائے جناب احسن ایاز صاحب نے بھی خطاب کیا آپ ورلڈ جونئیر سکواش چیمپین ہیں اور آپ نے انٹرنیشنل فورم پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔


پاکستانی یوتھ جو گلی بوائز کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے تیز میوزک پر ڈانس کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔

جناب ایمونیل راتک صاحب جو مسیحی سکالر ہیں انہوں نے پاکستان ڈے کے حوالے سے قائداعظم کے فرمودات پر روشنی ڈالی، آپ نے ایم اے اسلامیات کیا ہوا ہے، اور نبی صلی اللہ وسلم پر لکھی گئی کتاب کے مصنف ہیں اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی حاصل کر چکے ہیں اور سویڈش اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔

فورینا دے پاکستانیر کے صدر جناب ڈاکٹر سہیل اجمل صاحب نے پاکستان ڈے کے حوالے سے بہت عمدہ تقریر کی جس میں آپ نے قرارداد مقاصد کی اصل روح پر بات کی اور اسے پاکستان کی بنیادی اساس قرار دیا۔

کامیاب تقریب منعقد کرنے میں میزبان طارق محمود، پاکستان کلچرل سوسائیٹی کے صدر جناب لیاقت علی خان صاحب، فورینا دے پاکستانیر صدر ڈاکٹر سہیل اجمل صاحب، جناب افتخار حیدر صاحب اور دیگر ممبران تعریف کے مستحق ہیں۔

تقریب کے بعد شرکاء نے ہال کے باہر لگے سٹالز سے تازہ جلیبیاں، سموسے اور پکوڑے کھائے اور پاکستانی کھانوں کی یاد تازہ کی۔ اس تقریب کی چند تصاویر حاضر خدمت ہیں۔

















































تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.