Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ سے ایچ آئی وی کا مریض صحت یاب


واشنگٹن — اس سے پہلے 12 برس قبل ایچ آئی وی کے ایک مریض کو سٹیم سیل علاج کے ذریعے صحتیاب کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین کروڑ 70 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں

جینیاتی تبدیلی کے ذریعے ڈاکٹروں نے مریض کی قوت مدافعت میں تبدیلی کی جس کے بعد ہونے والی تفصیلی جانچ کے بعد مریض میں ایچ آئی وی کے کوئی شواہد نہیں پائے گئے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والا یہ شخص تاریخ کا دوسرا شخص ہے جو جینیاتی تبدیلی کے ذریعے ایچ آئی وی مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس شخص کو اب ایچ آئی وی کے علاج کی ضرورت نہیں رہی۔

اس سے پہلے 12 برس قبل ایچ آئی وی کے ایک مریض کو سٹیم سیل علاج کے ذریعے صحتیاب کیا گیا تھا اور اُس کے بعد سے ڈاکٹر اور طبی محققین مسلسل اس طریقہ علاج کو دہرانے کی کوشش کرتے رہے۔ تاہم، اس میں اُنہیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ یوں سٹیم سیل سے ایچ آئی وی کے علاج کا یہ تاریخ کا دوسرا واقعہ ہے۔

ان دونوں واقعات میں مریضوں کی ہڈی کے گودے میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ اب تک طبی ماہرین کا خیال تھا کہ ہڈی کے گودے کا ٹرانسپلانٹ صرف سرطان کے مریضوں کیلئے کارگر ہو تا تھا۔ اس نئی تحقیق سے ثابت ہو گیا ہے کہ اب یہ طریقہ علاج ایچ آئی وی سمیت دیگر امراض کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔

معروف تحقیقی جریدے ’نیچر‘ میں پیر کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی کالج لندن کے روندر گپتا نے تصدیق کی ہے کہ یہ مریض گزشتہ 18 ماہ سے ایچ آئی وی وائرس سے مکمل طور پر مبریٰ ہے۔ 18 ماہ قبل تک اس مریض کو ایچ آئی وی کو دبانے کیلئے ویکسین دی جاتی رہی تھی۔ اس ویکسین سے یہ وائرس صرف وقتی طور پر دب جاتا ہے اور یہ اس کا علاج ہر گز نہیں ہے۔

اس مریض کو 2003 میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا پایا گیا تھا اور پھر 2012 سے اسے اس وائرس کو دبانے کیلئے ویکسین دینا شروع کی گئی تھی۔ 2016 میں اس مریض کا سٹیم سیل کی تبدیلی کے ذریعے علاج شروع کیا گیا جس کے بعد ایچ آئی وی کو دبانے والی ویکسین کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ اُس کے بعد سے محققین اس مریض میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی کا مسلسل معائنہ کرتے رہے اور اُس وقت سے اُس میں اس وائرس کے کوئی شواہد نہیں پائے گئے۔

سٹیم سیل کے ذریعے اس علاج میں ایک ڈونر سے جین میوٹیشن کی ایک نایاب ڈبل کاپی لی گئی جو قدرتی طور پر ایچ آئی وی وائرس سے مدافعت کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسے مریض کی ہڈی کے گودے میں شامل کر دیا گیا۔

یہ عمل مریض کیلئے خاصی حد تک پریشان کن ہوتا ہے، کیونکہ اس کے دوران اُس کی قوت مدافعت خاصی حد تک کمزور ہو جاتی ہے۔

محققین نے خبردار کیا ہے کہ سٹیم سیل کے ذریعے یہ علاج وسیع پیمانے پر موجود ایچ آئی وی مریضوں کے لئے فی الحال موذوں نہیں ہے۔ تاہم، اُن کا خیال ہے کہ بارہ برس بعد اس دوسرے مریض کی اس طریقہ علاج سے صحتیابی کے بعد اس میں کامیابی کے امکانات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جائیں گے اور پھر سٹیم سیل علاج کا ایک ایسا طریقہ تلاش کر لیا جائے گا جس سے بڑے پیمانے پر اس وائرس میں مبتلا مریض اس سے استفادہ کر سکیں گے۔

بین الاقوامی ایڈز سوسائٹی کے صدر اینٹن پوزنیئک کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ طریقہ علاج فی الحال وسیع پیمانے پر فراہم نہیں کیا جا سکتا، یہ ایچ آئی وی کے علاج کے سلسلے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ایچ آئی وی سے چھٹکارا بڑی حد تک ممکن ہو گیا ہے۔

اس حیرت انگیز تحقیق کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں نے بہت حوصلہ افزا پیغامات دئے ہیں۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’’ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی کا دوسرا مریض صحتیاب ہو گیا۔ بہت سے لوگوں کیلئے ایک اچھی خبر۔ زبردست پیش رفت حاصل کر لی گئی۔‘‘

سابق صدر بل کلنٹن کی صاحبزادی چیلسی کلنٹن نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا، ’’زبردست۔ بہت اُمید افزا خبر ہے۔ سٹیم سیل تھیریپی کے ذریعے دوسرا ایچ آئی وی کا مریض صحتیاب ہو گیا ہے۔‘‘




برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہےکہ ’’برطانوی مریض سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے ذریعے ایچ آئی وی سے آزاد ہو گیا۔ اس تحقیق میں آکسفورڈ یونیورسٹی، امپیرئل کالج اور کیمبریج یونیورسٹی کے محققین شامل تھے۔‘‘



اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین کروڑ 70 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں اور ان میں سے 2 کروڑ 20 لاکھ مریضوں کو ایچ آئی وی وائرس کو دبائے رکھنے کیلئے مسلسل ویکسین دی جا رہی ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.