Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




انڈین جنگی جنون، غربت اور الیکشن



ورلڈ بنک نے دنیا میں غربت طے کرنے کا نیاء طریقہ کار 2014 میں متعارف کروایا تھا، جسکے مطابق پوری دنیا میں 872 ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے، نئے اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2019 میں نائیجیریا اور کانگو کے بعد انڈیا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، 2014 کے اعدادوشمار کے مطابق انڈیا کی %58 آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی تھی، اور انکی آمدنی تین ڈالر پر ہیڈ پر ڈے سے بھی کم تھی، غربت کے یہ اعدادوشمار انڈیا میں یقیناً اب مزید بڑھ چکے ہونگے، جبکہ دوسری طرف دنیا میں پہلے نمبر پر سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک بھی انڈیا ہی ہے۔


میڈیا میں خبریں آ رہی ہیں کہ پاگل پن اور جنگی جنون میں مبتلا بھارت روس سے کرایہ پر اٹیمی آبدوز لے رہا ہے، اس نے 1988 سے یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جب اس نے پہلی دفعہ ایٹمی آبدوز تین سال کیلئے اور 2012 میں دوسری ایٹمی آبدوز دس سال کیلئے کرایہ پر لی تھی، اس دوسری آبدوز کی واپسی کا وقت 2022 میں ہے، 2025 میں ایک نئے معاہدے کے تحت تین ارب ڈالر لیکر بھارت اب ایک تیسری ایٹمی آبدوز کرایہ پر لے رہا ہے۔

دنیا میں تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ غربت رکھنے والا ملک اپنے عوام پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے امریکہ، یورپ، اسرائیل اور روس کو اربوں ڈالرز دے رہا ہے اور بدلے میں علاقے میں جھوٹی بدمعاشی اور شان و شوکت رکھنے کیلئے ایسے ہتھیار لے رہا ہے جنہیں استعمال کرنے کی نوبت شاید کبھی نہ آئے کیونکہ جنگ کی صورت میں دونوں ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ایٹمی اسلحہ استعمال ہوسکتا ہے، اور ایسی صورت میں کچھ نہیں بچنا، اسلئیے یہ جنگی سازوسامان اور کرائے کی آبدوزیں پیسے کے ضیاع کے علاوہ کچھ معنی نہیں رکھتیں۔


بھارتی انتخابات میں اب کچھ ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں اور مودی کو اگلی مرتبہ جتوانے کیلئے بھارتی میڈیا، فوج اور بی جے پی کے سیاستدان سب جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو سبق سکھا دیا ہے، سرجیکل سٹرائیک کر کے نہ صرف 350 دہشت گرد مار دئیے ہیں بلکہ ایک ایف سولہ طیارہ بھی تباہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکہ روس سمیت دنیا کا تمام بڑا میڈیا اس بات سے انکاری ہے اور حقیقت بتا رہا ہے کہ 26 فروری کو نام نہاد سرجیکل سٹرائیک والے دن پاکستان نے ایف سولہ طیارے استعمال نہیں کئیے ہیں اور اس انڈین سٹرائیک میں صرف پانچ چھ درخت ہی تباہ ہوئے ہیں کیونکہ انڈین جہاز جلدی میں بم جنگل میں پھینک کر بھاگ گئے تھے۔


اس نام نہاد سرجیکل سٹرائیک پر اب انڈین عوام اور اپوزیشن جماعتیں ثبوت مانگ رہے ہیں کہ جتنا نقصان حکومت بتا رہی ہے ہمیں اسکا ثبوت دو، انڈین وزیراعظم مودی اپنے جلسوں میں اب لوگوں کی منتیں ترلے کرنے پر آگئے ہیں کہ ہماری مسلح افواج بہت بہادر ہیں اور جو کچھ وہ کہہ رہی ہیں اس پر سب کو آنکھیں بند کر کی یقین کرلینا چاہئیے جو یقین نہیں کررہے وہ پاکستانی نظریے کو پروموٹ کر رہے ہیں اور غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ وزیرِداخلہ راج ناتھ سنگھ نے تو کرناٹک میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک نیاء شوشہ چھوڑ دیا ہے، کہ انکے پانچ سالہ دورحکومت میں انڈین ائیرفورس نے کل تین دفعہ پاکستان میں ائیرسٹرائیکس کی ہیں، ایک اڑوری حملے کے بعد، دوسری پلوامہ حملے کے بعد اور تیسری خفیہ تھی جو وہ بتانا نہیں چاہئتے۔


وزیراعظم عمران خان بار بار انڈیا کو یہ آفر دے چکے ہیں کہ آئیں دونوں ملک مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کر لیتے ہیں اور جو پیسہ ہم دفاع پر لگا رہے ہیں وہ پیسہ غربت کے خاتمے اور تعلیم کے پھیلاؤ میں خرچ کریں، لیکن مودی سرکار پر جنگی جنون سوار ہے اور اسے فی الحال ان باتوں کی سمجھ نہیں آ رہی، پاکستان اس امید پر چپ بیٹھا ہے کہ انڈیا میں نئی حکومت آئے تو اس سے جنگ کی بجائے امن کیلئے بات چیت کی جائے۔

#طارق_محمود
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.